نواز اور مودی تاریخ منتظر ہے
خواب دیکھنا انسانوں کا پیدائشی حق ہے۔ بدترین عقوبت خانوں میں انسان آزاد فضاؤں کے خواب دیکھتا ہے
zahedahina@gmail.com
خواب دیکھنا انسانوں کا پیدائشی حق ہے۔ بدترین عقوبت خانوں میں انسان آزاد فضاؤں کے خواب دیکھتا ہے اور بدترین غربت کو جھیلتے ہوئے وہ عشرت کدوں میں آرام کرتا ہے اور کئی وقت کے فاقے سے لڑتے ہوئے یہ انواع و اقسام کے کھانوں کے خواب ہوتے ہیں، جو اسے جینے اور کٹھنائیوں سے گزر جانے کا حوصلہ بخشتے ہیں۔
آزاد فضاؤں میں پرواز کے خواب، خونِ ناحق کے چھینٹوں پر سبزے کی بہار دیکھنے کے خواب دیکھتے ہوئے جب ہم کہتے تھے کہ ہمارے خطے کی تاریخ بدل جائے گی تو کچھ لوگوں کو بہت ناگوار گزرتا تھا، لیکن اب وہ وقت آگیا ہے جب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خواب زندہ ہیں اور یہ خواب دنیا کو بدل رہے ہیں۔
آج یہ حقیقت سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ دنیا بدل چکی ہے اور اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ ہم نہ بدلے تو دنیا کا کچھ نہیں بگڑے گا، البتہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ بدلتی ہوئی دنیا آج زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کمال دکھا رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی ملکوں کو دم لینے کا موقع بھی فراہم نہیں کررہی ہے۔
نت نئی ایجادات اور طرز پیداوار میں انقلاب آفریں تبدیلیوں نے کیا مشرق اور کیا مغرب، ہر سماج کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ پیداوار اور خدمات کے شعبوں میں ترقی چند دہائیوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ کھربوں ڈالر کا سرمایہ کرۂ ارض کے گرد گردش میں ہے، اب یہ ملکوں پر منحصر ہے کہ وہ ترقی کے بے پناہ امکانات سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔
معیشت میں انقلاب آیا تو پرانے دور کی سیاست بھی فرسودہ ہونے لگی۔ اس دور میں پیداوار محدود تھی، ملکوں کا باہمی انحصار بہت کم تھا، اکثر خود اپنے ملک کی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر تھے لہٰذا زیادہ زور اس بات پر ہوا کرتا تھا کہ مسائل کی جانب سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جنگ اور نفرت کی سیاست کی جائے۔
لوگوں کو باور کرایا جائے کہ ان کے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، لہٰذا انھیں اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے ان سے تعاون کرنا چاہیے۔ یہی سبب تھا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں واقع ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول رکھے تھے۔ کوئی خطہ ایسا نہیں تھا جہاں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔ یہ صورتحال صرف علاقائی تنازعات تک محدود نہ تھی بلکہ اس نے عالمی سطح پر بھی ایک تقسیم پیدا کردی تھی۔
کمیونسٹ اور غیرکمیونسٹ ملکوں نے اپنے عوام کو ایک دوسرے سے ڈرانا شروع کردیا۔ عالمی سطح پر دو قطبی تقسیم سے علاقائی کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ اگر کوئی دو ملک آپس میں لڑرہے تھے تو ان میں سے ایک کی سرپرستی امریکا اور دوسرے کی سوویت یونین کرتا تھا۔ شمالی کوریا ایک طرف، جنوبی کوریا دوسری طرف، ایران ایک طرف، عرب دوسری طرف، پھر عربوں میں مزید تقسیم ہوئی۔ عرب بادشاہ امریکا کی طرف اور عرب ڈکٹیٹر سوویت یونین کی طرف، یہی صورتحال جنوبی ایشیا میں تھی۔ ہندوستان، سوویت یونین کے قریب اور پاکستان امریکا کی گود میں۔ افریقا اور لاطینی امریکا میں بھی یہی منظرنامہ تھا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید ترین انقلاب نے معاشی پیداوار کے عمل کو اس قدر تیز کردیا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، امیر اور غریب دونوں طرح کے ملکوں کے لیے اب تنگ نظر قوم پرستی سے باہر نکلنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں کہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کا رخ کرے، وہاں سرمایہ کاری کے بجائے پیداواری لاگت کم ہو اور اس کی ملٹی نیشنل کمپنیاں دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں۔ امریکا کی طرح یورپ نے بھی اپنے طور طریقے بدلنے شروع کیے۔
نوآبادیاتی دور کی خوش حالی اور معیار زندگی میں اضافے کی وجہ سے ان کے یہاں بھی کاروبار اور پیداوار کی لاگت بہت بڑھ چکی تھی۔ مہنگی مصنوعات دنیا میں بک نہیں سکتی تھیں اور کم قیمت مصنوعات کے لیے ایشیا کی جانب رخ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔
امریکا اور یورپ نے چین سمیت کئی ایشیائی ملکوں میں سرمایہ کاری شروع کی اور وقت کے ساتھ یہ عمل تیز تر ہوتا چلا گیا۔ بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری نے ایشیا میں بے مثال ترقی کا ایک نیا دور شروع کیا۔ ایشیائی ٹائیگر سامنے آئے، جاپان ایک عظیم معاشی طاقت بن گیا اور اس کے بعد دنیا نے چین کی شکل میں یہ معجزہ رونما ہوتے دیکھا کہ ایک کم ترقی یافتہ چین، صرف چند دہائیوں کے اندر ایک معاشی دیو بن گیا اور اب ہندوستان بھی اس راہ پر گامزن ہے۔
پاکستان بھی تیسری دنیا کا ایک ملک تھا۔ وہ ایٹمی طاقت ضرور بن گیا تھا لیکن اس کی معاشی پس ماندگی بڑھتی جارہی تھی۔ معیشت جب زوال پذیر ہو تو ہر شعبہ اس کی زد میں آجاتا ہے۔ یہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود ناخواندگی ختم نہ ہوسکی، لوگوں کے لیے صحت کی سہولتیں نایاب ہیں، یہاں تک کہ پولیو اور ٹی بی کا بھی مکمل خاتمہ نہ ہوسکا۔
جب غربت اور بے روزگاری بڑھتی ہے تو سماجی اور معاشرتی تضادات بھی شدت اختیار کرنے لگتے ہیں۔ معاشی خوش حالی کے ساتھ تنوع اور رنگارنگی بہت خوب صورت لگتی ہے لیکن جب کھانے کے لیے روٹیاں دو ہوں اور کھانے کے طلب گار دس لوگ تو ایسے میں تنوع کا سارا حسن رفوچکر ہوجاتا ہے۔ مختلف رنگ نسل، زبان، مذہب، مسلک اور قومیتوں کے لوگ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہونے لگتے ہیں۔
ہر طرف سے نفرت کی خوفناک آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ سب کا کہنا ہوتا ہے کہ اس کا حق دوسرے نے مار لیا ہے۔ فرقہ واریت ، لسانیت اور تنگ نظر قوم پرستی کو فروغ ملتا ہے۔ حکمران ،سیاستدان، تاجر اور دانشور سب اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ محرومی کے ردعمل سے جو نفرت پیدا ہوتی ہے اس کو سب ہی اپنا کاروبار بنا لیتے ہیں۔
غرض یہ کہ نفرت ایک کاروبار بن جاتی ہے ۔ غریب ملکوں کے حکمران نفرت کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو دوام دیتے ہیں۔ وہ دوسرے ملکوں بالخصوص پڑوسی ملکوں کے خلاف نفرت پیدا کرکے لوگوں کی توجہ اصل مسئلوں سے ہٹاتے ہیں تاکہ وہ منظم ہوکر انھیں اقتدار سے نکال باہر نہ کریں۔ پاکستان کو بھی اسی نوعیت کے تلخ مرحلوں سے گزرنا پڑا ہے۔
فوجی آمروں کی زیادہ توجہ اپنے اقتدار کو بچانے پر تھی لہٰذا انھوں نے بیرونی خطرے کو اپنی ڈھال بنالیا۔ ہمارے فوجی آمروں کو امریکا نے اپنے سایہ عافیت میں لے لیا، ہم سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ ہوگئے۔ مذہب کو اس جنگ میں ایک ہتھیار اور حربے کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے ہمارے ملک کے اندر تفریق اور تقسیم کا عمل ناقابل تصور حد تک بڑھ گیا۔ دوسری جانب ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان ہے۔
اسے بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا لیکن اس کی خوش قسمتی کہ وہاں جمہوریت تھی جس کی وجہ سے غربت اور محرومی نے ہندوستانی سماج کو منافرت اور تقسیم کی انتہاؤں پر پہنچنے سے روکے رکھا۔ لیکن وہاں بھی حکمرانوں نے غربت اور بھک مری جیسے بھیانک مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو ایک خطرناک دشمن قرار دیا۔ لیکن اب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز انقلاب کایا پلٹ رہا ہے اوردنیا کے ملک ایک دوسرے پر انحصار کرنے کے لیے مجبور ہورہے ہیں ، پرانی سیاست متروک ہورہی ہے اور اس کی جگہ ایک نئی سیاست جنم لے چکی ہے جس کے رنگ ڈھنگ بھی نرالے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے اور اس سے بھی کہیں زیادہ مستقبل قریب میں بدلنے والا ہے۔
ہندوستان، پاکستان اور افغانستان تینوں ملک دشمنی اور محاذ آرائی کی پرانی سیاست کو چھوڑ کر مکالمے اور مفاہمت کی نئی سیاست کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جس طرح کسی زمانے میں جنگ ان ملکوں کی '' ضرورت'' ہوا کرتی تھی اس طرح اب امن اور مفاہمت ان کی ضرورت بن چکی ہے۔ پالیسی کی تبدیلی جب ریاست کی ضرورت بن جائے تو یہ عمل نسبتاً کم مشکل ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان اور ہندوستان نے 68 برس مسلسل محاذ آرائی میں گزارے ہیں۔ محاذ آرائی کے ''فوائد'' سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے جن میں ہر شعبہ حیات کے لوگ شامل ہیں۔ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان لاہور میں ہونے والی اچانک ملاقات کے خلاف آوازیں دونوں ملکوں میں بلند ہورہی ہیں۔ یہ ان لوگوں کی آوازیں ہیں جو بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ دنیا ایک جگہ تھمی رہے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جب چین، افغانستان، ایران، امریکا، روس، ہندوستان سمیت تمام ممالک خود کو تبدیل کررہے ہیں تو ہمیں بھی یہی روش اپنانی ہوگی۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی قوتیں اور بااثر ادارے تبدیلی کے اس ''مشکل مرحلے'' کو آسان بنانے کے لیے یکجا نظر آتے ہیں۔
پاکستان اس مرحلے سے گزر گیا تو ایک شاندار مستقبل اس کا منتظر ہوگا۔ تاریخ میں وہ تمام لوگ اور ادارے اپنا نام رقم کرلیں گے جو پاکستان کے مستقبل کو تابناک بنانے میں ''آج'' اپنا کردار ادا کریں گے۔ تاریخ آپ کی منتظر ہے۔
آزاد فضاؤں میں پرواز کے خواب، خونِ ناحق کے چھینٹوں پر سبزے کی بہار دیکھنے کے خواب دیکھتے ہوئے جب ہم کہتے تھے کہ ہمارے خطے کی تاریخ بدل جائے گی تو کچھ لوگوں کو بہت ناگوار گزرتا تھا، لیکن اب وہ وقت آگیا ہے جب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خواب زندہ ہیں اور یہ خواب دنیا کو بدل رہے ہیں۔
آج یہ حقیقت سب پر عیاں ہوچکی ہے کہ دنیا بدل چکی ہے اور اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ ہم نہ بدلے تو دنیا کا کچھ نہیں بگڑے گا، البتہ ہم کہیں کے نہ رہیں گے۔ بدلتی ہوئی دنیا آج زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کمال دکھا رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی ملکوں کو دم لینے کا موقع بھی فراہم نہیں کررہی ہے۔
نت نئی ایجادات اور طرز پیداوار میں انقلاب آفریں تبدیلیوں نے کیا مشرق اور کیا مغرب، ہر سماج کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ پیداوار اور خدمات کے شعبوں میں ترقی چند دہائیوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ کھربوں ڈالر کا سرمایہ کرۂ ارض کے گرد گردش میں ہے، اب یہ ملکوں پر منحصر ہے کہ وہ ترقی کے بے پناہ امکانات سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔
معیشت میں انقلاب آیا تو پرانے دور کی سیاست بھی فرسودہ ہونے لگی۔ اس دور میں پیداوار محدود تھی، ملکوں کا باہمی انحصار بہت کم تھا، اکثر خود اپنے ملک کی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر تھے لہٰذا زیادہ زور اس بات پر ہوا کرتا تھا کہ مسائل کی جانب سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جنگ اور نفرت کی سیاست کی جائے۔
لوگوں کو باور کرایا جائے کہ ان کے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، لہٰذا انھیں اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے ان سے تعاون کرنا چاہیے۔ یہی سبب تھا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں واقع ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول رکھے تھے۔ کوئی خطہ ایسا نہیں تھا جہاں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔ یہ صورتحال صرف علاقائی تنازعات تک محدود نہ تھی بلکہ اس نے عالمی سطح پر بھی ایک تقسیم پیدا کردی تھی۔
کمیونسٹ اور غیرکمیونسٹ ملکوں نے اپنے عوام کو ایک دوسرے سے ڈرانا شروع کردیا۔ عالمی سطح پر دو قطبی تقسیم سے علاقائی کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔ اگر کوئی دو ملک آپس میں لڑرہے تھے تو ان میں سے ایک کی سرپرستی امریکا اور دوسرے کی سوویت یونین کرتا تھا۔ شمالی کوریا ایک طرف، جنوبی کوریا دوسری طرف، ایران ایک طرف، عرب دوسری طرف، پھر عربوں میں مزید تقسیم ہوئی۔ عرب بادشاہ امریکا کی طرف اور عرب ڈکٹیٹر سوویت یونین کی طرف، یہی صورتحال جنوبی ایشیا میں تھی۔ ہندوستان، سوویت یونین کے قریب اور پاکستان امریکا کی گود میں۔ افریقا اور لاطینی امریکا میں بھی یہی منظرنامہ تھا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید ترین انقلاب نے معاشی پیداوار کے عمل کو اس قدر تیز کردیا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، امیر اور غریب دونوں طرح کے ملکوں کے لیے اب تنگ نظر قوم پرستی سے باہر نکلنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں کہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کا رخ کرے، وہاں سرمایہ کاری کے بجائے پیداواری لاگت کم ہو اور اس کی ملٹی نیشنل کمپنیاں دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں۔ امریکا کی طرح یورپ نے بھی اپنے طور طریقے بدلنے شروع کیے۔
نوآبادیاتی دور کی خوش حالی اور معیار زندگی میں اضافے کی وجہ سے ان کے یہاں بھی کاروبار اور پیداوار کی لاگت بہت بڑھ چکی تھی۔ مہنگی مصنوعات دنیا میں بک نہیں سکتی تھیں اور کم قیمت مصنوعات کے لیے ایشیا کی جانب رخ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔
امریکا اور یورپ نے چین سمیت کئی ایشیائی ملکوں میں سرمایہ کاری شروع کی اور وقت کے ساتھ یہ عمل تیز تر ہوتا چلا گیا۔ بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری نے ایشیا میں بے مثال ترقی کا ایک نیا دور شروع کیا۔ ایشیائی ٹائیگر سامنے آئے، جاپان ایک عظیم معاشی طاقت بن گیا اور اس کے بعد دنیا نے چین کی شکل میں یہ معجزہ رونما ہوتے دیکھا کہ ایک کم ترقی یافتہ چین، صرف چند دہائیوں کے اندر ایک معاشی دیو بن گیا اور اب ہندوستان بھی اس راہ پر گامزن ہے۔
پاکستان بھی تیسری دنیا کا ایک ملک تھا۔ وہ ایٹمی طاقت ضرور بن گیا تھا لیکن اس کی معاشی پس ماندگی بڑھتی جارہی تھی۔ معیشت جب زوال پذیر ہو تو ہر شعبہ اس کی زد میں آجاتا ہے۔ یہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ نصف صدی گزر جانے کے باوجود ناخواندگی ختم نہ ہوسکی، لوگوں کے لیے صحت کی سہولتیں نایاب ہیں، یہاں تک کہ پولیو اور ٹی بی کا بھی مکمل خاتمہ نہ ہوسکا۔
جب غربت اور بے روزگاری بڑھتی ہے تو سماجی اور معاشرتی تضادات بھی شدت اختیار کرنے لگتے ہیں۔ معاشی خوش حالی کے ساتھ تنوع اور رنگارنگی بہت خوب صورت لگتی ہے لیکن جب کھانے کے لیے روٹیاں دو ہوں اور کھانے کے طلب گار دس لوگ تو ایسے میں تنوع کا سارا حسن رفوچکر ہوجاتا ہے۔ مختلف رنگ نسل، زبان، مذہب، مسلک اور قومیتوں کے لوگ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہونے لگتے ہیں۔
ہر طرف سے نفرت کی خوفناک آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ سب کا کہنا ہوتا ہے کہ اس کا حق دوسرے نے مار لیا ہے۔ فرقہ واریت ، لسانیت اور تنگ نظر قوم پرستی کو فروغ ملتا ہے۔ حکمران ،سیاستدان، تاجر اور دانشور سب اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ محرومی کے ردعمل سے جو نفرت پیدا ہوتی ہے اس کو سب ہی اپنا کاروبار بنا لیتے ہیں۔
غرض یہ کہ نفرت ایک کاروبار بن جاتی ہے ۔ غریب ملکوں کے حکمران نفرت کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو دوام دیتے ہیں۔ وہ دوسرے ملکوں بالخصوص پڑوسی ملکوں کے خلاف نفرت پیدا کرکے لوگوں کی توجہ اصل مسئلوں سے ہٹاتے ہیں تاکہ وہ منظم ہوکر انھیں اقتدار سے نکال باہر نہ کریں۔ پاکستان کو بھی اسی نوعیت کے تلخ مرحلوں سے گزرنا پڑا ہے۔
فوجی آمروں کی زیادہ توجہ اپنے اقتدار کو بچانے پر تھی لہٰذا انھوں نے بیرونی خطرے کو اپنی ڈھال بنالیا۔ ہمارے فوجی آمروں کو امریکا نے اپنے سایہ عافیت میں لے لیا، ہم سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ ہوگئے۔ مذہب کو اس جنگ میں ایک ہتھیار اور حربے کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے ہمارے ملک کے اندر تفریق اور تقسیم کا عمل ناقابل تصور حد تک بڑھ گیا۔ دوسری جانب ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان ہے۔
اسے بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا لیکن اس کی خوش قسمتی کہ وہاں جمہوریت تھی جس کی وجہ سے غربت اور محرومی نے ہندوستانی سماج کو منافرت اور تقسیم کی انتہاؤں پر پہنچنے سے روکے رکھا۔ لیکن وہاں بھی حکمرانوں نے غربت اور بھک مری جیسے بھیانک مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو ایک خطرناک دشمن قرار دیا۔ لیکن اب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز انقلاب کایا پلٹ رہا ہے اوردنیا کے ملک ایک دوسرے پر انحصار کرنے کے لیے مجبور ہورہے ہیں ، پرانی سیاست متروک ہورہی ہے اور اس کی جگہ ایک نئی سیاست جنم لے چکی ہے جس کے رنگ ڈھنگ بھی نرالے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے اور اس سے بھی کہیں زیادہ مستقبل قریب میں بدلنے والا ہے۔
ہندوستان، پاکستان اور افغانستان تینوں ملک دشمنی اور محاذ آرائی کی پرانی سیاست کو چھوڑ کر مکالمے اور مفاہمت کی نئی سیاست کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جس طرح کسی زمانے میں جنگ ان ملکوں کی '' ضرورت'' ہوا کرتی تھی اس طرح اب امن اور مفاہمت ان کی ضرورت بن چکی ہے۔ پالیسی کی تبدیلی جب ریاست کی ضرورت بن جائے تو یہ عمل نسبتاً کم مشکل ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان اور ہندوستان نے 68 برس مسلسل محاذ آرائی میں گزارے ہیں۔ محاذ آرائی کے ''فوائد'' سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے جن میں ہر شعبہ حیات کے لوگ شامل ہیں۔ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان لاہور میں ہونے والی اچانک ملاقات کے خلاف آوازیں دونوں ملکوں میں بلند ہورہی ہیں۔ یہ ان لوگوں کی آوازیں ہیں جو بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ دنیا ایک جگہ تھمی رہے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جب چین، افغانستان، ایران، امریکا، روس، ہندوستان سمیت تمام ممالک خود کو تبدیل کررہے ہیں تو ہمیں بھی یہی روش اپنانی ہوگی۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی قوتیں اور بااثر ادارے تبدیلی کے اس ''مشکل مرحلے'' کو آسان بنانے کے لیے یکجا نظر آتے ہیں۔
پاکستان اس مرحلے سے گزر گیا تو ایک شاندار مستقبل اس کا منتظر ہوگا۔ تاریخ میں وہ تمام لوگ اور ادارے اپنا نام رقم کرلیں گے جو پاکستان کے مستقبل کو تابناک بنانے میں ''آج'' اپنا کردار ادا کریں گے۔ تاریخ آپ کی منتظر ہے۔