پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی غیر پشتونوں سے تعلقات بڑھا لیے امریکی اخبار

تاجک ، ازبک اور دیگر غیر پشتون سیاستدانوں کے ساتھ رابطے پالیسی میں اہم تبدیلی ہے،خطے میں امن معاہدے کاامکان بڑھ گیا۔

پاکستانی افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد انتشار کے حوالے سے بھی فکرمند ہیں ،واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ. فوٹو: فائل

KARACHI:
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی میں نمایاں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے دشمن حلقوں یعنی غیرپشتون سیاسی رہنماؤں سے تعلقات بڑھانے شروع کر دیے ۔

پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی سے خطے میں امریکی کوششوں سے امن معاہدے کاامکان بڑھ گیا ہے، گزشتہ روزامریکی اخبار ''واشنگٹن پوسٹ'' کی رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان اب افغانستان میں ان غیر پشتون سیاسی رہنماؤں سے تعلقات بڑھا رہا ہے جنھیں پاکستانی حمایت سے طالبان نے افغان حکومت سے ہٹایا تھا تاہم ان الزامات کی پاکستانی حکومت نے ہمیشہ تردیدکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کواب یقین نہیں کہ مزاحمت کار دوبارہ افغانستان میں کنٹرول حاصل کرسکیں گے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پاکستانی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کوبھی بہت زیادہ بڑھاوا مل جائے گا۔


رپورٹ کے مطابق پاکستان افغانستان سے 2014ء میں غیرملکی افواج کے انخلا کے بعدانتشار کے حوالے سے بھی فکرمند ہے کیونکہ اس سے پاکستانی طالبان کوسرحد پار اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کرنے کیلیے زیادہ جگہ میسرآجائے گی ۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان، افغانستان اور امریکا نے طالبان سے امن عمل کیلیے کوششوں کوتیز کر دیا ہے جو اس سے پہلے عدم اعتمادکی بناء پر تعطل کاشکار ہو گئے تھے۔ پاکستان کوتوقع ہے کہ اپنے اثرورسوخ سے وہ طالبان کے ساتھ ایسا معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

جس سے اس کاغیرپشتون حلقوں سے بھی تعلق بڑھے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ پاکستان کے غیرپشتون حلقوں کے حوالے سے نئی پالیسی کی جھلک اس وقت سامنے آئی جب رواں برس فروری میں وزیر خارجہ حناربانی کھرنے دورہ افغانستان کے دوران تاجک ،ازبک اورہزارہ رہنماؤں سے ملاقات کی جبکہ رواں سال جولائی میں وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے بھی ان گروپوں کوکابل میں نئے پاکستانی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر مدعو کیا تھا۔
Load Next Story