سیاست کے مزاج نے بھی انتہاپسندی کو ہوا دی ہےکوکب نورانی

متنازع معاملات پربات کیلیے فورم ہوناچاہیے،امین شہیدی،مجرم کوسزادیں،عصمت گیلانی

حکومت فرقہ وارانہ مسائل پر کڑا احتساب نہیں کرتی ،ابتسام الٰہی کی’’کل تک‘‘میں گفتگو فوٹو : فائل

علامہ کوکب نورانی نے کہاہے کہ چند سال قبل تک پاکستان میں رواداری تھی برداشت تھی فرقے تو چودہ سوسال سے چلے آرہے ہیں جب کبھی کوئی اختلاف ہوتا تھا تو علم وتحقیق کی راہ کھل جاتی تھی تبادلہ خیال اورمذاکرات ہوتے تھے لیکن آج تو مسجدوں میں رکھے گلاس کو بھی زنجیر ڈالنی پڑتی ہے ۔


پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ کسی حد تک سیاست کے مزاج نے بھی انتہا پسندی کو ہوا دی ہے، مذہب کے چند لوگ ہوں گے جو کشیدگی پیدا کرتے ہیں علماء کو ملا ازم کا نام دے کر چپ کرادیا جاتاہے حالانکہ علماء نے تو عوام کا ذہن بنانا ہوتا ہے ۔ساٹھ سال کی تاریخ دیکھ لیں حکمرانوں نے ہمیشہ جانبدارانہ کردار ادا کیا ہے ۔مجلس وحدت المسلمین کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہاکہ ایسافورم ہونا چاہیے جس میں متنازع معاملات پر تبادلہ خیال ہوسکے۔اس وقت ملک میں فرقہ واریت کے نام پر دہشت گردی کی جارہی ہے ہمیں اس بات کی گہرائی میں جانا ہوگا۔مسائل کا حل اس میں ہے کہ دس بدزبان خطیبوں ،دس ملکی مفادات کو بیچنے والوں، دس قاتلوں کو ہیروبنانے والے بیوروکریٹس کو پھانسی پرلٹکادیا جائے تو فساد ختم ہوجائیگا۔مذہبی سکالر سید عصمت گیلانی نے کہاہے کہ مجرم مجرم ہے چاہے۔

اس کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہوسزا ملنی چاہئے ۔اصل میں ہم سب مریض ہوچکے ہیں سیاستدان ،علماء مشائخ اپنا کردار ادا نہیں کررہے ۔سوشل میڈیا کا جوگندا امیج ابھر کرسامنے آرہا ہے، حکومت کو اس پر پابندی میںکمزوری نہیں دکھانی چاہیے۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ موجودہ علماء مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں کشیدگی تبھی پیدا ہوتی ہے جب ہم احترام کی حدود سے نکل جاتے ہیں ۔جو عناصر ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں ان کو سخت سزائیں ملنی چاہئیں ۔حکومت فرقہ وارانہ مسائل پر کڑا احتساب نہیں کرتی،حکومت کو کیپیٹل سزائوں پر عملدرآمد کرناچاہیے۔ تین چار کڑی سزائیں مل جائیں تو کسی کو فرقہ واریت کی جرات نہیں ہوگی ۔
Load Next Story