پاک بھارت تنازعات اور خطے کی ترقی
وزیراعظم نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔
وزیراعظم نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو بلوچستان کے ضلع ژوب میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہاں تقریب سے خطاب اور ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے جہاں اقتصادی راہداری منصوبے کی افادیت پر بات کی' وہاں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بڑی امید افزااور مثبت گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ پاکستان آئیں' پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تشریف لائے' ہماری بہت اچھی گفتگو ہوئی۔
بھارت کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ آج وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے کہ بھارت سے ازسرنو مذاکرات شروع کیے جائیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے لیے خیرسگالی کا جذبہ رکھنا چاہیے۔ خطے میں ایک دوسرے کا دشمن بن کر ترقی نہیں کی جا سکتی' تنازعات کو دوستی سے حل کیا جائے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بگڑیں گے نہیں۔ اگر سب مثبت کردار ادا کریں گے تو مذاکرات کا عمل پٹڑی سے نہیں اترے گا۔
طویل کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے آثار خاصے واضح ہو گئے ہیں' خصوصاً بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی لاہور آمد اور پھر جاتی عمرہ رائیونڈ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد صورت حال خاصی بہتر اور مثبت ہو گئی ہے' اب دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کے بعد فضا مزید خوشگوار ہوجائے گی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ خطے میں ایک دوسرے کا دشمن بن کر ترقی نہیں کی جا سکتی۔ یہ معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے امن لازمی چیز ہے' اسی طرح اگر دو ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے دشمن ہوں' آپس میں جنگیں لڑیں یا پراکسی وار میں ملوث ہوں تو دونوں ملک معاشی و اقتصادی ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے سارے وسائل غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو جائیں گے۔ اس لیے سمجھدار اور ذہین ممالک اپنے ہمسایوں سے تنازعات ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اقتصادی سرگرمیوں پر پوری توجہ مرکوز کی جا سکے۔
یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مغربی یورپ کے ممالک نے یورپی یونین قائم کی۔اب یہ بہت طاقتور ہو چکی ہے اور اس کے ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں ختم کیں' اقتصادی و معاشی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے مشترکہ کرنسی جاری کی۔ آج یورپی یونین ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور اس میں شامل کمزور ممالک کی پوزیشن بھی بہتری کی جانب گامزن ہیں۔اب یورپی یونین یونان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ لاطینی امریکا کے ممالک بھی ایک اقتصادی بلاک میں شامل ہیں۔
لاطینی امریکا کے ممالک بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستیں روس کے ساتھ آج بھی اقتصادی بلاک میں شریک ہیں۔وسط ایشیائی ریاستوں کے باہمی تنازعات بھی نہیں ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی ضروریات کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح خلیجی عرب ممالک بھی اقتصادی بلاک میں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات' قطر' سعودی عرب' مسقط و امان اور بحرین کے شہری آسانی سے ایک دوسرے کے ہاں آ جا سکتے ہیں۔ افریقہ کے ممالک بھی اقتصادی بلاک بنا رہے ہیں اور آج افریقہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی سارک کے نام سے تنظیم قائم ہے لیکن یہ تنظیم اپنی افادیت کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہے۔ اس تنظیم کی کمزوری کی وجہ اس خطے کے ممالک کے باہمی تنازعات ہیں' بھارت اور پاکستان کے تنازعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اسی طرح افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی خوشگوار تعلقات نہیں ہیں' یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کے غریب خطوں میں شامل ہے۔ حالانکہ یہ خطہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے۔
بہر حال سارک میں بھارت اور پاکستان سب سے بڑے اور طاقتور ممالک ہیں۔ان ممالک کے پاس بے پناہ وسائل ہیں۔دونوں ملک ایٹمی قوت بھی ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے عوام کی اکثریت پسماندہ اور غربت کا شکار ہے۔ اگر یہ ممالک اپنے تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کر لیتے ہیں تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے' اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت اپنے دیرینہ تنازعات حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں اور بقول وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ازسرنو مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ اگر نیتیں ٹھیک ہوں اور حقائق کو تسلیم کرنے کی خوڈالی جائے تو تنازعات حل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
بھارت کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ آج وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے کہ بھارت سے ازسرنو مذاکرات شروع کیے جائیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے لیے خیرسگالی کا جذبہ رکھنا چاہیے۔ خطے میں ایک دوسرے کا دشمن بن کر ترقی نہیں کی جا سکتی' تنازعات کو دوستی سے حل کیا جائے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بگڑیں گے نہیں۔ اگر سب مثبت کردار ادا کریں گے تو مذاکرات کا عمل پٹڑی سے نہیں اترے گا۔
طویل کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے آثار خاصے واضح ہو گئے ہیں' خصوصاً بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی لاہور آمد اور پھر جاتی عمرہ رائیونڈ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد صورت حال خاصی بہتر اور مثبت ہو گئی ہے' اب دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کے بعد فضا مزید خوشگوار ہوجائے گی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ خطے میں ایک دوسرے کا دشمن بن کر ترقی نہیں کی جا سکتی۔ یہ معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے امن لازمی چیز ہے' اسی طرح اگر دو ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے دشمن ہوں' آپس میں جنگیں لڑیں یا پراکسی وار میں ملوث ہوں تو دونوں ملک معاشی و اقتصادی ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے سارے وسائل غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو جائیں گے۔ اس لیے سمجھدار اور ذہین ممالک اپنے ہمسایوں سے تنازعات ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اقتصادی سرگرمیوں پر پوری توجہ مرکوز کی جا سکے۔
یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مغربی یورپ کے ممالک نے یورپی یونین قائم کی۔اب یہ بہت طاقتور ہو چکی ہے اور اس کے ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں ختم کیں' اقتصادی و معاشی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے مشترکہ کرنسی جاری کی۔ آج یورپی یونین ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور اس میں شامل کمزور ممالک کی پوزیشن بھی بہتری کی جانب گامزن ہیں۔اب یورپی یونین یونان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ لاطینی امریکا کے ممالک بھی ایک اقتصادی بلاک میں شامل ہیں۔
لاطینی امریکا کے ممالک بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستیں روس کے ساتھ آج بھی اقتصادی بلاک میں شریک ہیں۔وسط ایشیائی ریاستوں کے باہمی تنازعات بھی نہیں ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی ضروریات کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح خلیجی عرب ممالک بھی اقتصادی بلاک میں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات' قطر' سعودی عرب' مسقط و امان اور بحرین کے شہری آسانی سے ایک دوسرے کے ہاں آ جا سکتے ہیں۔ افریقہ کے ممالک بھی اقتصادی بلاک بنا رہے ہیں اور آج افریقہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی سارک کے نام سے تنظیم قائم ہے لیکن یہ تنظیم اپنی افادیت کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہے۔ اس تنظیم کی کمزوری کی وجہ اس خطے کے ممالک کے باہمی تنازعات ہیں' بھارت اور پاکستان کے تنازعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اسی طرح افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی خوشگوار تعلقات نہیں ہیں' یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کے غریب خطوں میں شامل ہے۔ حالانکہ یہ خطہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے۔
بہر حال سارک میں بھارت اور پاکستان سب سے بڑے اور طاقتور ممالک ہیں۔ان ممالک کے پاس بے پناہ وسائل ہیں۔دونوں ملک ایٹمی قوت بھی ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے عوام کی اکثریت پسماندہ اور غربت کا شکار ہے۔ اگر یہ ممالک اپنے تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کر لیتے ہیں تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے' اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت اپنے دیرینہ تنازعات حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں اور بقول وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ازسرنو مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ اگر نیتیں ٹھیک ہوں اور حقائق کو تسلیم کرنے کی خوڈالی جائے تو تنازعات حل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔