فکر و اظہار پر پہرے

اس کا قد چھ فٹ کے قریب تھا، دوسرے تمام انسانوں کی طرح اس کے دو ہاتھ تھے،

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

اس کا قد چھ فٹ کے قریب تھا، دوسرے تمام انسانوں کی طرح اس کے دو ہاتھ تھے، دو پاؤں تھے، دو کان تھے، دوآنکھیں تھیں، ایک ناک تھی، منہ تھا، منہ میں زبان تھی، دانت تھے، وہ کسی طرح بھی اعضائی لحاظ سے دوسرے انسانوں سے مختلف نہ تھا لیکن وہ بول نہیں سکتا تھا، بولنے کی کوشش کرتا تو زبان سے بے معنی آوازیں نکلتی تھیں۔

اس کی حالت دیکھ کر مجھے ابتدائی دور کا وہ انسان ذہن میں گھوم گیا جو بولنا نہیں جانتا تھا، اس کے منہ میں زبان تو ہوتی تھی لیکن وہ اپنی زبان سے بامعنی نقطہ ادا نہیں کرپاتا تھا، کیوں کہ اس دور تک زبانیں رائج نہیں ہوئی تھیں، بس بے معنی آوازیں ہی ان کی گفتگو ہوتی تھی۔ یہ ہزاروں سال پہلے کا انسان تھا لیکن آج میرے سامنے جو گونگا انسان کھڑا تھا، وہ اکیسویں صدی کا انسان تھا۔

تفصیل اس اجمال کی یہ تھی کہ لوگ دولے شاہ کے مزار پر آکر منتیں مانتے تھے اور دولے شاہ سے یہ عہد کرتے تھے کہ اگر ان کی منت پوری ہوئی تو وہ اپنا ایک بیٹا دولے شاہ کی نذر کریںگے۔ دولے شاہ کے مزار کے مجاور نذر میں آئے ہوئے ان معصوم بچوں کے سر پر لوہے کا ایک ایسا سانچہ چڑھا دیتے تھے جس سے کاسۂ سر کی گروتھ رک جاتی اور اس کے نتیجے میں اس کے بھیجے کی نشوونما بھی رک جاتی اور وہ سوچنے سمجھنے اور بولنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا۔ اس کا سر اس کے جسم کی مناسبت سے چوں کہ بہت چھوٹا ہوتا تھا اس لیے اس کا حلیہ بڑا مضحکہ خیز ہوجاتا تھا۔

اسی لمحے کو عوام کے سامنے نمائش بناکر دولے شاہ کے مزار کے مجاور بھیک مانگتے تھے۔ یہ ان کا روزگار اور کمائی کا ذریعہ تھا لیکن انھیں یہ احساس بالکل نہ تھا کہ وہ کتنا بڑا جرم کررہے ہیں۔پسماندہ ملکوں کے عوام کو ان ملکوں کے انتہاپسندوں نے ان ملکوں کے عقائد و نظریات اور روایات نے دولے شاہ کے چوہے بناکر رکھ دیا ہے اور پسماندہ ملکوں کے حکمران ان چوہوں کے نام پر عالمی مالیاتی اداروں ترقی یافتہ ملکوں سے قرض اور بھیک لیتے ہیں، 10 فیصد عوام پر خرچ کرتے ہیں۔

نوے فیصد خود کھاجاتے ہیں۔ آج میرے ذہن میں یہ سوال کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں معاشی ترقی کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے میں جو ناقابل یقین ترقی ہورہی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ فکر واظہار تحقیق و تجربات کی مکمل آزادی ہے اور یہ آزادی یہ ترقی اس وقت ہی ممکن ہے جب انسانوں کو سوچنے، سمجھنے اور بولنے کی غیر مشروط آزادی ہو۔


فکر اظہار پر یہ پابندیاں نئی نہیں ہیں، بلکہ سیکڑوں، ہزاروں سال پرانی ہیں۔ سقراط نے جب فکر و اظہار کی آزادی کو استعمال کرنا چاہا تو اسے اس جرم میں سزائے موت سنادی گئی اور اس کے ہاتھوں میں زہر کا پیالہ تھماکر اسے حکم دیا گیا کہ وہ یہ زہر پی لے۔ سچ اور حق کا پیغمبر زہر کا پیالہ پی گیا اس کے ہاتھوں میں زہر کا پیالہ پکڑانے والے احمق یہ سمجھ رہے تھے کہ سقراط کے مرجانے سے فکر و اظہار کی آزادی بھی مر جائے گی لیکن وہ مری نہیں۔ گلیلیو نے کہا زمین ساکت نہیں ہے، وہ سورج کے گرد گردش کررہی ہے۔ گلیلو کا سچ رائج الوقت جھوٹ کی نظروں میں مذہب سے بغاوت تھا۔

کیوں کہ اس دورکے احمقوں کا خیال تھا کہ سورج زمین کے گرد گردش کررہاہے اور زمین ساکت ہے۔ آج سقراط اورگلیلو کی فکر اور اظہار رائے کی آزادی کہیں چاند کو فتح کررہی ہے توکہیں مریخ پر کمندیں ڈال رہی ہے، توکہیں کائنات کے اسرار سے پردے اٹھاتی،کہیں دل جگر کو تبدیل کرتے نظر آرہی ہے، تو کہیں آئی ٹی کا انقلاب برپا کرکے دنیا کو ایک گاؤں میں بدلنے کا کام کرتی نظر آرہی ہے۔

انسان چاند پرکسی جن بھوت پر سوار ہوکر یا کسی عامل، کامل کے عمل یا تعویذ گنڈوں کی مدد سے نہیں پہنچا، فکرواظہار تحقیق وتجربات کی آزادی نے اسے چاند پر پہنچانے کی راہ ہموار کی۔ میں دولے شاہ کا چوہا ہوں، میں اب تک چاند دیکھنے اور چاند میں اپنی محبوبہ کو تلاش کرنے میں لگا ہوا ہوں۔

میں سورج کو نظام شمسی کا دہکتا ہوا سیارہ ماننے کے بجائے اسے زمین پر روشنی دینے والا ایک قدرتی لیمپ ہی سمجھتا ہوں۔ میں چاند پر جانے کے دعوے کو اس لیے جھٹلاتا ہوں کہ میں انسان کے چاند پر جانے کو دین میں مداخلت سمجھتا ہوں۔ میری آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ مریخ سے واقف ہی نہیں، جب کہ ترقی یافتہ دنیا مریخ پر پانی اور ہوا کی موجودگی کا کھوج لگا رہی ہے اور مریخ پر بستیاں بسانے کے منصوبے بنارہی ہے۔

میں چاند گرہن اور سورج گرہن کو سانپ کے پیٹ میں جانے اور آنے، یعنی سانپ کے نگلنے اور اگلنے کا عمل سمجھتا ہوں، مجھے یہ نہیں معلوم کہ چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آجاتی ہے اور سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے۔ میں ابھی تک زمین ہی کو کل کائنات سمجھتا ہوں اور اس تناظر میں اپنی عقائدی دنیا تعمیر کرتا ہوں۔

مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے نظام شمسی جیسے اربوں نظام شمسی کائنات میں بکھرے پڑے ہیں، مغرب نے کائنات کے اسرار کا پتہ چلانے کے لیے خلاء میں برسوں سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، میں خلاء کو جانتا ہوں نہ خلائی اسٹیشن سے واقف ہوں۔ مغرب خلائی شٹل کے ذریعے انسانوں کو خلائی سیر کرا رہا ہے اور میں ابھی تک بسوں، منی بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کر رہا ہوں۔ میں اس لیے حقائق سے گریزاں رہتا ہوں کہ بچپن ہی سے میرے سر پر روایات و عقائد کا آہنی شکنجہ کس کر مجھے دولے شاہ کا چوہا بنادیا گیا ہے۔
Load Next Story