2016 امن اور خوشحالی کا سال ہونا چاہیے
بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار تو دکھائی دیے ہیں مگر ابھی بہت سے معاملات طے پانے ہیں
2016ء حکومت کے لیے کئی لحاظ سے فیصلہ کن ہے دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی سیاسی اور اقتصادی پالیسیاں کس حد تک اس جنگ میں کامیاب ہوتی ہیں۔ ۔فوٹو: فائل
پاکستان کو اس وقت دہشت گردی' امن و امان کی بگڑتی صورت حال' توانائی کے بحران' بیروزگاری' تعلیم اور صحت سمیت گوناگوں چیلنجز درپیش ہیں جنھیں حل کرنے کے حکومتی دعوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹے 2015ء گزر گیا اور اب 2016ء ان کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے شروع ہو گیا ہے' دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی اور انھیں حل کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔ اگر ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقے ہی اپنائے گئے اور حقیقی عمل کے مقابل بڑے بڑے دعوؤں ہی کا سہارا لیا گیا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ چیلنجز بدستور موجود رہیں گے اور نیا سال بھی یونہی گزر جائے گا۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری دہشت گردی کے عفریت اور بعض طاقتور گروہوں کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا تھا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کبھی نجات نہ ملے گی اور حکومت کو انتہا پسندوں کو ایک مدمقابل طاقتور فریق تسلیم کرتے ہوئے ان کے بعض مطالبات ماننا پڑیں گے۔
16 دسمبر 2014ء کو سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور نے تمام قومی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک صفحے پر کر دیا اور سب نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا، اس طرح 2015ء دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا' آپریشن ضرب عضب کے باعث جہاں شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا اور اس علاقے پر پاک فوج نے اپنا کنٹرول سنبھال کر امن و امان کی صورت حال بہتر بنائی وہیں کراچی میں شروع کیے گئے آپریشن کے باعث بھی دہشت گردی' ٹارگٹ کلنگ' بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی جس کا اعتراف نہ صرف وہاں کی صوبائی حکومت کی جانب سے کیا گیا بلکہ تاجر برادری اور عام شہریوں نے بھی اس پر اپنے بھرپور اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف جنرل راحیل نے جمعہ کو گوادر میں بلوچ عمائدین سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ 2016ء دہشتگردی کے خاتمے، قومی یکجہتی اور امن کا سال ہو گا، دہشتگردی، جرم اور کرپشن کا گٹھ جوڑ ختم کر دیںگے۔ سیاسی اور عسکری قیادت جس عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان جلد ہی اس عذاب سے چھٹکارا پا لے گا اور ایک بار پھر یہاں امن و امان لوٹ آئے گا۔ حکومت ملک کو خارجی اور داخلی سطح پر درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے کوشش تو کر رہی ہے مگر ابھی تک یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ معاملات کب تک چلیں گے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار تو دکھائی دیے ہیں مگر ابھی بہت سے معاملات طے پانے ہیں جب تک وہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچتے بھارت کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار اور مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جہاں تک افغانستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کا معاملہ ہے تو ابھی تک اس سلسلے میں بھی عملی طور پر اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ داخلی سطح پر سیاسی لحاظ سے بھی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن پارٹیوں کے حکومت کے بہت سے اقدامات پر تحفظات ہیں اور وہ ان کا کھلم کھلا اظہار بھی کرتی ہیں مگر ابھی تک کوئی ایسی صورت دکھائی نہیں دیتی کہ ان پارٹیوں کے اقدامات حکومت کے وجود کے لیے خطرہ ثابت ہوں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں قومی صحت پروگرام کا افتتاح کیا جس کے تحت معاشرے کے کمزور اور غریب طبقے کے لیے مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اب غریب کو علاج کے لیے جائیداد بیچنا پڑے گی اور نہ ہی قرض لینا پڑے گا' غریب خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دی جائے گی' یہ پروگرام پہلے مرحلے میں 15 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس کا دائرہ 23 اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔
اس پروگرام کے تحت سات بیماریوں ہیپاٹائٹس' جگر کی بیماریوں' کینسر' دل کے امراض' شوگر اور جھلسنے و حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کا علاج معالجہ مفت کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے قومی صحت پروگرام کا شروع کیا جانا خوش آیند ہے لیکن ملک بھر میں سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معاملات کا جائزہ لیا جائے تو اسے قطعی طور پر تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صورت حال یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے ادویات تک میسر نہیں' وینٹی لیٹر مشینوں کی نایابی کے باعث بچے دم توڑ رہے ہیں اور دیگر امراض کے لیے موجود مشینری بھی یا تو پرانی ہو چکی ہے یا کام ہی نہیں کر رہی۔ حکومت سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالت تسلی بخش بنا دے تو اس سے بھی معاملات میں خاطر خواہ بہتری آ سکتی ہے۔
2016ء حکومت کے لیے کئی لحاظ سے فیصلہ کن ہے دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی سیاسی اور اقتصادی پالیسیاں کس حد تک اس جنگ میں کامیاب ہوتی ہیں۔ حکومت 2016ء کو خوشحالی اور امن کا سال بنا سکتی ہے بشرطیکہ نیک نیتی سے سخت محنت کی جائے۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری دہشت گردی کے عفریت اور بعض طاقتور گروہوں کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا تھا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کبھی نجات نہ ملے گی اور حکومت کو انتہا پسندوں کو ایک مدمقابل طاقتور فریق تسلیم کرتے ہوئے ان کے بعض مطالبات ماننا پڑیں گے۔
16 دسمبر 2014ء کو سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور نے تمام قومی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک صفحے پر کر دیا اور سب نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا، اس طرح 2015ء دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا' آپریشن ضرب عضب کے باعث جہاں شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا اور اس علاقے پر پاک فوج نے اپنا کنٹرول سنبھال کر امن و امان کی صورت حال بہتر بنائی وہیں کراچی میں شروع کیے گئے آپریشن کے باعث بھی دہشت گردی' ٹارگٹ کلنگ' بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی جس کا اعتراف نہ صرف وہاں کی صوبائی حکومت کی جانب سے کیا گیا بلکہ تاجر برادری اور عام شہریوں نے بھی اس پر اپنے بھرپور اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف جنرل راحیل نے جمعہ کو گوادر میں بلوچ عمائدین سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ 2016ء دہشتگردی کے خاتمے، قومی یکجہتی اور امن کا سال ہو گا، دہشتگردی، جرم اور کرپشن کا گٹھ جوڑ ختم کر دیںگے۔ سیاسی اور عسکری قیادت جس عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان جلد ہی اس عذاب سے چھٹکارا پا لے گا اور ایک بار پھر یہاں امن و امان لوٹ آئے گا۔ حکومت ملک کو خارجی اور داخلی سطح پر درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے کوشش تو کر رہی ہے مگر ابھی تک یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ معاملات کب تک چلیں گے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار تو دکھائی دیے ہیں مگر ابھی بہت سے معاملات طے پانے ہیں جب تک وہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچتے بھارت کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار اور مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جہاں تک افغانستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کا معاملہ ہے تو ابھی تک اس سلسلے میں بھی عملی طور پر اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ داخلی سطح پر سیاسی لحاظ سے بھی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن پارٹیوں کے حکومت کے بہت سے اقدامات پر تحفظات ہیں اور وہ ان کا کھلم کھلا اظہار بھی کرتی ہیں مگر ابھی تک کوئی ایسی صورت دکھائی نہیں دیتی کہ ان پارٹیوں کے اقدامات حکومت کے وجود کے لیے خطرہ ثابت ہوں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں قومی صحت پروگرام کا افتتاح کیا جس کے تحت معاشرے کے کمزور اور غریب طبقے کے لیے مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اب غریب کو علاج کے لیے جائیداد بیچنا پڑے گی اور نہ ہی قرض لینا پڑے گا' غریب خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دی جائے گی' یہ پروگرام پہلے مرحلے میں 15 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس کا دائرہ 23 اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔
اس پروگرام کے تحت سات بیماریوں ہیپاٹائٹس' جگر کی بیماریوں' کینسر' دل کے امراض' شوگر اور جھلسنے و حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کا علاج معالجہ مفت کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے قومی صحت پروگرام کا شروع کیا جانا خوش آیند ہے لیکن ملک بھر میں سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معاملات کا جائزہ لیا جائے تو اسے قطعی طور پر تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صورت حال یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے ادویات تک میسر نہیں' وینٹی لیٹر مشینوں کی نایابی کے باعث بچے دم توڑ رہے ہیں اور دیگر امراض کے لیے موجود مشینری بھی یا تو پرانی ہو چکی ہے یا کام ہی نہیں کر رہی۔ حکومت سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالت تسلی بخش بنا دے تو اس سے بھی معاملات میں خاطر خواہ بہتری آ سکتی ہے۔
2016ء حکومت کے لیے کئی لحاظ سے فیصلہ کن ہے دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی سیاسی اور اقتصادی پالیسیاں کس حد تک اس جنگ میں کامیاب ہوتی ہیں۔ حکومت 2016ء کو خوشحالی اور امن کا سال بنا سکتی ہے بشرطیکہ نیک نیتی سے سخت محنت کی جائے۔