کیا داعش خطرہ ہے
عراق وشام میں تباہی عروج پر ہے، وہاں داعش اہم عنصر ہے، پیرس سانحہ اسی دہشتگردی کی سفاک کڑی ہے
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قومی اسمبلی اس ضمن میں ایک جامع قرارداد منظور کرے تاکہ حکومت درست سمت میں کارروائی کرسکے۔ فوٹو: فائل
آج کسی کو شبہ نہیں کہ دنیا دہشتگردی کی ہولناک دہلیز پر کھڑی ہے ، امن کو لاحق خطرات کثیر جہتی اور عالمی ہیں جن میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) ایک نئے عفریت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پاکستان کو اس انتہا پسند تنظیم کے انکشاف سے دس بارہ سال قبل دہشتگردی کا ایک اعصاب شکن چیلنج القاعدہ اور طالبان کی طرف سے درپیش رہا تھا ۔
جس کا قوم نے پامردی سے مقابلہ کیا، پاک فوج جس کے لیے ضرب عضب آپریشن میں سرخرو ہوئی تاہم دہشتگردی سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا خسارہ ہوا، بدامنی ، قتل و غارت اور دہشت و وحشت پر کمر بستہ غیر ریاستی عناصر نے ریاستی رٹ کوبار بار چیلنج کیا جب کہ دہشتگردی کا ہدف پاکستان سمیت آگے جاکر پورا عالمی سماج بن گیا، اس عفریت نے سالمیت کے لیے اشتراک عمل کی کوششوں میں مصروف عالمی طاقتوں کے داخلی سیکیورٹی سسٹم کو بھی روند دیا۔
عراق وشام میں تباہی عروج پر ہے، وہاں داعش اہم عنصر ہے، پیرس سانحہ اسی دہشتگردی کی سفاک کڑی ہے۔ یوں دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان میں سال 2015 ء اندوہناک مضمرات کا حامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف 2016 ء کو دہشتگردی کے خاتمہ جب کہ وزیراعظم نواز شریف اسے خوشحالی کا سال کہنے کی خوشخبری دیتے ہیں مگر امید و خدشات کے ایک مخدوش منظرنامہ میں جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ داعش میں شمولیت کے لیے پاکستان سے لوگ بھرتی کیے جارہے ہیں ۔ اراکین نے سوال کیا کہ حکومت کیوں ایکشن نہیں لیتی۔
یاد رہے مشیر خارجہ سرتاج عزیز افغانستان میں داعش کی موجودگی پر چند روز قبل گہری تشویش ظاہر کرچکے ہیں، دفتر خارجہ کا البتہ کہنا ہے کہ داعش پاکستان میں منظم نہیں ہوئی اس کی موجودگی کے آثار نہیں ہیں، ادھر لاہور میں بعض ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی جس میں ایک ملزم کی بیوی کے شام میں داعش سے رابطہ کی اطلاع کا راز فاش ہوا اوربتایا گیا کہ ملزمان11 افراد شام بھجوا چکے ہیں، بعض وہاں ابھی پہنچے نہیں ، کراچی میں بھی کچھ اعلیٰ گھرانے کی خواتین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ داعش کے لیے چندہ اکٹھا کررہی ہیں۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 30 سے50 ہزار ماہوار مشاہیرہ پر نوجوان بھرتی کر کے افغانستان بھیجے جاتے ہیں۔یہ ساری اطلاعات تشویشناک ہیں اور حکمرانوں سمیت سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سول سوسائٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، حکومت ان سرگرمیوں کی تحقیقات کرے، خفیہ اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں فوری کارروائی ناگزیر ہے، سیاسی پارٹیاں اس پر قومی انداز فکر اور جمہوری طرز عمل اختیار کریں جب کہ صوبائی حکومتیں داعش کے لیے بھرتی مہم میں ملوث ملک دشمن مافیاز اور مفاد پرست عناصر کی سختی سے سرکوبی کریں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قومی اسمبلی اس ضمن میں ایک جامع قرارداد منظور کرے تاکہ حکومت درست سمت میں کارروائی کرسکے۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس بار داعش کے نام سے ملکی سالمیت کے لیے دہشتگردی سے خطرات سے لیس کوئی نئی مصیبت داعش نامی ''ٹروجن گھوڑے''کے طور پر افغانستان یا کسی طرف سے ملک میں پراسرار طور پر دبے پاؤں داخل نہ ہونے پائے۔ عالمی میڈیا میں داعش کی تشکیل اور اس کے ہولناک اہداف کی داستانیں وجودی خطرہ کے طور پر گردش میں ہیں۔خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
جس کا قوم نے پامردی سے مقابلہ کیا، پاک فوج جس کے لیے ضرب عضب آپریشن میں سرخرو ہوئی تاہم دہشتگردی سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا خسارہ ہوا، بدامنی ، قتل و غارت اور دہشت و وحشت پر کمر بستہ غیر ریاستی عناصر نے ریاستی رٹ کوبار بار چیلنج کیا جب کہ دہشتگردی کا ہدف پاکستان سمیت آگے جاکر پورا عالمی سماج بن گیا، اس عفریت نے سالمیت کے لیے اشتراک عمل کی کوششوں میں مصروف عالمی طاقتوں کے داخلی سیکیورٹی سسٹم کو بھی روند دیا۔
عراق وشام میں تباہی عروج پر ہے، وہاں داعش اہم عنصر ہے، پیرس سانحہ اسی دہشتگردی کی سفاک کڑی ہے۔ یوں دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان میں سال 2015 ء اندوہناک مضمرات کا حامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف 2016 ء کو دہشتگردی کے خاتمہ جب کہ وزیراعظم نواز شریف اسے خوشحالی کا سال کہنے کی خوشخبری دیتے ہیں مگر امید و خدشات کے ایک مخدوش منظرنامہ میں جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ داعش میں شمولیت کے لیے پاکستان سے لوگ بھرتی کیے جارہے ہیں ۔ اراکین نے سوال کیا کہ حکومت کیوں ایکشن نہیں لیتی۔
یاد رہے مشیر خارجہ سرتاج عزیز افغانستان میں داعش کی موجودگی پر چند روز قبل گہری تشویش ظاہر کرچکے ہیں، دفتر خارجہ کا البتہ کہنا ہے کہ داعش پاکستان میں منظم نہیں ہوئی اس کی موجودگی کے آثار نہیں ہیں، ادھر لاہور میں بعض ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی جس میں ایک ملزم کی بیوی کے شام میں داعش سے رابطہ کی اطلاع کا راز فاش ہوا اوربتایا گیا کہ ملزمان11 افراد شام بھجوا چکے ہیں، بعض وہاں ابھی پہنچے نہیں ، کراچی میں بھی کچھ اعلیٰ گھرانے کی خواتین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ داعش کے لیے چندہ اکٹھا کررہی ہیں۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 30 سے50 ہزار ماہوار مشاہیرہ پر نوجوان بھرتی کر کے افغانستان بھیجے جاتے ہیں۔یہ ساری اطلاعات تشویشناک ہیں اور حکمرانوں سمیت سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سول سوسائٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، حکومت ان سرگرمیوں کی تحقیقات کرے، خفیہ اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں فوری کارروائی ناگزیر ہے، سیاسی پارٹیاں اس پر قومی انداز فکر اور جمہوری طرز عمل اختیار کریں جب کہ صوبائی حکومتیں داعش کے لیے بھرتی مہم میں ملوث ملک دشمن مافیاز اور مفاد پرست عناصر کی سختی سے سرکوبی کریں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قومی اسمبلی اس ضمن میں ایک جامع قرارداد منظور کرے تاکہ حکومت درست سمت میں کارروائی کرسکے۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس بار داعش کے نام سے ملکی سالمیت کے لیے دہشتگردی سے خطرات سے لیس کوئی نئی مصیبت داعش نامی ''ٹروجن گھوڑے''کے طور پر افغانستان یا کسی طرف سے ملک میں پراسرار طور پر دبے پاؤں داخل نہ ہونے پائے۔ عالمی میڈیا میں داعش کی تشکیل اور اس کے ہولناک اہداف کی داستانیں وجودی خطرہ کے طور پر گردش میں ہیں۔خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔