2016ء خوبصورت خواب دیکھے جائیں

ہم نے اسلام آباد میں 2015ء کے سورج کو غروب ہوتے اور کراچی میں 2016ء کا سورج طلوع ہوتے دیکھا

zahedahina@gmail.com

ہم نے اسلام آباد میں 2015ء کے سورج کو غروب ہوتے اور کراچی میں 2016ء کا سورج طلوع ہوتے دیکھا۔ سال کے آغاز پر خوش امیدی کا اظہار ایک روایتی بات ہے لیکن اُن دنوں جب پاکستان میں حسبِ معمول جنرل راج کرتے تھے، اس بات کی امید ذرا کم تھی کہ آنیوالے دن عوام کے لیے کوئی خوش خبری لے کر آئینگے۔

یہ وہ دن تھے جب 1988ء سے ہمیں جمہوریت کی جھلکیاں نظر آنے لگی تھیں اور یقین تھا کہ اب کوئی طالع آزما جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی حماقت نہیں کرے گا لیکن شومئی قسمت کہ ابھی صرف گیارہ برس گزرے تھے جب ایک بار پھر ہم آمریت کے چنگل میں پھنس گئے۔

1999ء سے 2008ء کا عرصہ کن عذابوں میں گزرا یہ وہی جانتے ہیں جن کا خیال تھا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا واحد حل جمہوریت اور مسلسل جمہوریت ہے۔ یہی وہ دور ہے جب ہم نے اپنے سیاسی رہنماؤں کی بے تو قیری دیکھی اور اپنی اُس سیاسی رہنما کو چند افراد کی ہوس ملک گیری کے سبب دن دھاڑے قتل ہوتے دیکھا، جس سے بہت سی شکایتوں کے باوجود بیشمار امیدیں وابستہ تھیں، سب سے بڑی امید تو یہی تھی کہ اس نے جمہوریت کی خاطر بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور وہ خواہ اقتدار میں آئے یا اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھے، جمہوریت کی قدر و قیمت جانے گی اور پرانی غلطیاں نہیں دہرائے گی۔

2016ء کے پہلے دن اگر ہم مڑکر گزرے ہوئے دنوں کو دیکھیں تو یقین نہیں آتا کہ ساڑھے سات برس گزر گئے اور جمہوریت کی گاڑی کو ابھی تک کوئی پٹری سے نہیں اتار سکا۔ اب بھی یہ ڈولتی ہوئی چل رہی ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کے پہیے رفتار پکڑ رہے ہیں اور وہ لوگ جو پہلے پیپلز پارٹی اور پھر پی ایم ایل (ن) کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دیتے تھے وہ اداس بلبل ہوچکے ہیں اور خواہش کو خبر بنانے والی ان کی تمام مہارتیں دم توڑ چکی ہیں۔

پاکستان میں آمریتوں کے اتنے موسم گزرے ہیں کہ ان موسموں نے ملک میں ایک بہت بڑا حلقہ ان لوگوں کا پیدا کر دیا جنھوں نے آمروں کی نظرِ کرم کے سبب دولت کمائی اوراس کے ساتھ ہی ایک بڑا حلقئہ اثر پیدا کیا۔ ان لوگوں نے اخبار نکالے یا نکلوائے اور پس پردہ رہتے ہوئے لکھنے والوں کی ایک بڑی کھیپ کی سرپرستی کی جوان کی خواہش کو خبر بناتے تھے، اس کے ساتھ ہی الیکٹرانک چینلوں کی بہار آئی جن پر بعض وہ لوگ ' اینکر' ہوئے جو 'ٹائی ٹینک' جیسے عظیم الشان بحری جہازوں کا ' اینکر' کاٹ دینے میں مہارت رکھتے تھے۔

وہ 'گوسپ' جو نان بائی کے تھڑے اور دودھ والے کی دکان پر کی جارہی تھی، اسے 'مصدقہ خبر' بنا دینے کا ہنر ان لوگوں نے اس تیزی سے سیکھا کہ بڑے بڑے ان کی ہنرمندی پر حیران رہ گئے۔ 126 دنوں کے دھرنے کا زمانہ اس حوالے سے بہت زرخیز تھا کہ جو چاہے کہیے اور اس کے لیے کوئی آپ سے تصدیق نہیں چاہے گا اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہے گا، یہی وہ دن تھے جب ہمارے یہاں گوئبلز کے بہت سے فرزند پیدا ہوئے۔ ان کا اصول یہی تھا کہ جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ وہ سچ معلوم ہو۔

انسان کا حافظ بہت کمزور ہوتا ہے۔ اس کی یہ کمزوری ، اس کا ایک بڑا اثاثہ ہے۔ اسی کے سہارے، وہ بدترین صدمات اور سانحے بھول جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم 2014ء میں ہونے والے 126 دنوں پر مشتمل دھرنے کو بھول گئے جو صبح و شام بڑے بڑے امید پرستوں کو دہلاتا تھا اور جمہوریت کے خاتمے کی پیش گوئی سن کر انھیں ہول چڑھتا تھا کہ اگر اس مرتبہ پھر پرانی کہانی دہرائی گئی تو کیا ہوگا۔ موجودہ حکومت اپنے دورِ اقتدار کی نصف مدت پوری کرچکی ہے۔ یہ اس نے کیسے گزاری اس کے منصوبہ سازہی بہتر جانتے ہیں اور اب اقتدار کی نصف مدت سامنے ہے جس میں عام آدمی سے کیے جانے والے وعدے پورے نہ کیے جاسکے تو اقتدار سے محرومی ایک لازمی امر ہے۔

میاں نواز شریف کو ہر قدم پر تاجر ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے، جیسے تجارت کوئی حرام کام ہے۔ انھیں لوہا کوٹنے والے کا بیٹا کہا جاتا ہے۔ ایک تاجر ہونے کے ناتے میاں صاحب جانتے ہیں کہ سرمایہ گھر کے آنگن میں کھنچی ہوئی رسی پر بیٹھا ہوا وہ پرندہ ہوتا ہے جس پر اگر ایک چھوٹا سے کنکر اچھال دیا جائے تو وہ فوراً اڑ جاتا ہے۔ اسی بات کو نظر میں رکھتے ہوئے انھوں نے بہت زیادہ بلند بانگ دعوے نہیں کیے ہیں اور کوشش یہی کی ہے کہ عوامی مفاد کو نظر میں رکھتے ہوئے قابل حصول اہداف رکھے جائیں اور انھیں کم سے کم مدت میں پورا کیا جائے ۔


میاں صاحب ایک اچھے اور کامیاب سیاستدان کی طرح جانتے ہیں کہ ایک خوش حال اور خوش امید سماج کی بنیادوں میں اگر امن کے بیچ کاشت کیے جائیں تب ہی جمہوریت پنپتی ہے اور سماج میں رواداری اور انصاف کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں، یہی وہ بنیادی بات ہے جس پر ان کا آج سے نہیں 90 کی دہائی سے ایمان ہے۔

انھیں ہندوستان دوستی کے طعنے دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان سے اپنے تمام جھگڑوں کو مکالمے کے ذریعے ختم کرنے کی بات انھوں نے اپنے انتخابی منشور میں کی اور جب وہ پہلی ، دوسری اور تیسری مرتبہ جیت کر آئے تو انھوں نے ہر مرتبہ ہندوستان سے بہتر تعلقات اور مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات حل کرنے کی بات کی۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ (ر) جنرل پرویز مشرف کی ہندوستان سے جھگڑے ختم کرنے ، حد تو یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوششوں پر انھیں داد دی جائے لیکن یہی کام جب میاں نواز شریف اور ان کے ہم خیال دوسرے سیاستدان کرنا چاہیں تو انھیں 'غدار' کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی جائے اور ' فروختند و چہ ارزاں فروختند' جیسے مصرعوں سے اپنے جملوں کی سجاوٹ کی جائے۔

2015ء گزر گیا۔ ہم آج 2016ء کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں۔ 2015ء میں موجودہ پاکستانی حکومت نے جتنے معاشی اہداف حاصل کیے اور عسکری قیادت کے ساتھ یکجان ہوکر دہشتگردی کے خلاف جس قدر مشکل اور ہمہ جہت جنگ لڑی، اس کے لیے انھیں جتنی داد دی جائے ، وہ کم ہے۔

ان تمام باتوں کے ساتھ ہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہندوستان کی حکومت کو مذاکرات کی میز پر لے آنا ہے، کیسی دلچسپ بات ہے کہ پاکستان میں ان کے پرانے مذہبی اور دائیں بازو کے حلیف میاں صاحب کو وطن فروش کہہ رہے ہیں اور بالکل اسی طرح ہندوستان میں مودی صاحب کے دہائیوں پرانے ساتھی اور بھائی بند ان پر گرج برس رہے ہیں اور اس 'پاکستان دوستی' پر انھیں سبق سکھادینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ دونوں طرف کے انتہا پسندوں کو ابھی تک یقین نہیں آیا کہ پلوں کے نیچے سے دریا گزر گئے اور محاذ آرائی کا زمانہ رخصت ہوگیا۔

دنیا اپنی معاشی اور اقتصادی ضرورتوں کے تحت ایک دوسرے سے پیوست ہورہی ہے۔ بیجنگ کی فضائی آلودگی اب صرف چین کا معاملہ نہیں، یورپ کے لیے بھی یہ آلودگی ایک عذاب ہے اور اس عذاب سے نمٹنے کے لیے پرانے نظر یاتی حریفوں کو اب حلیف بن کر کام کرنا ہوگا۔ اسی طرح کچھ لوگ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور پر خواہ کتنے ہی تحفظات کا اظہار کریں لیکن یہ کاریڈور تو بن کر رہے گا۔ وہ سرحدیں جو آج تک نہایت مقدس سمجھی جاتی ہیں اور جن کے تحفظ کے لیے ہر ملک کے نوجوانوں نے اپنا خون دیا ہے، کچھ دن جاتے ہیں جب یہ سرحدیں محض نقشوں پر نظر آئیں گی اور لوگ انھیں رسمی طور پر مانتے ہوئے ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف سفر کررہے ہوں گے۔

دنیا بدل رہی ہے، زمین کا نقشہ بدل رہا ہے، آج دنیا کو ان رہنماؤں کی ضرورت ہے جو پچاس اور سو برس آگے کے زمانے پر نظر رکھیں۔ بیسویں صدی کا آغاز تھا جب بنگال کے قومی اور برصغیر کے عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے غلام وطن کے لیے ایک خواب دیکھا تھا کہ اور اس جنت کا نقشہ انھوں نے ان الفاظ میں کھینچا تھا:

''جہاں دل و دماغ میں کوئی خوف نہ ہوا اور جہاں سر اٹھا کر چلنے کی آزادی ہو جہاں عمل آزاد ہو، جہاں گھروں کی تنگ دیواروں سے دنیا کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہ بانٹا گیا ہو، جہاں لفظ گہری سچائیوں کے آئینہ دار ہوں۔ جہاں بہترین جدوجہد میں مصروف ہاتھ تکمیل چاہتا ہو ، جہاں تعقل کی شفاف ندی مردہ خیالوں کے ریگستانوں کی خشک ریت میں گم نہ ہوگئی ہو اور جہاں ذہن ہر لحظ کشادہ ہونے والے قول و فعل کی دنیا میں تمہاری راہنمائی کو پہنچتا ہو۔''

ہمارے رہنماؤںاورمدبروںکوایسے ہی خوبصورت خواب دیکھنے چاہئیں تب ہی ہماری نسلیں آزاد اور خوش حال ہو سکیں گی، تب ہی ہم جنگ کی بساط لپیٹ کر امن کا فرش بہار بچھا سکیں گے۔
Load Next Story