امریکا میں سمندری طوفان
امریکا کے پاس وسائل کی کمی نہیں،سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے ہیں۔
نیویارک شہر شدید سیلاب اور آندھی کی زد میں ہے۔ فوٹو:اے ایف پی
امریکا کی مشرقی ریاستیں اپنی تاریخ کے بدترین سمندری طوفان کی زد میں ہیں۔
اس سمندری طوفان کا نام سینڈی رکھا گیا ہے ۔پیر کو سمندری طوفان سینڈی امریکی ریاست نیو جرسی کے ساحلی علاقے سے ٹکرا چکا ہے ،سارے علاقے میں سیلابی صورت حال ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان سینڈی کے باعث امریکا کی 9ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ ہے جن میں ڈیلاور ، پینسلوانیا، ورجینیا اور نیویارک بھی شامل ہیں۔ نیویارک اور نیوجرسی کوآفت زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ نیویارک شہر شدید سیلاب اور آندھی کی زد میں ہے، شہر میں سمندری پانی کی بڑی لہریں داخل ہو گئی ہیں، زیرِ زمین ریلوے سرنگیں زیرِ آب آ گئی ہیں اور مین ہیٹن کے بڑے علاقے میں بجلی بھی بند ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے سول انتظامیہ اور فوج کو ہائی الرٹ،کردیا گیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس سمندری طوفان کے باعث 6 کروڑ سے زا ئد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکا بھر میں تقریبا 12 ہزار پرواز یں منسوخ ہو چکی ہیں۔ کئی ریاستوں میں اسکول اورذرایع آمدو رفت بند ہیں ۔مشرقی ساحلی پٹی پر موجود دو تہائی آئل ریفائنریز کو بھی بند کردیا گیا ۔امریکا میں محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طوفان مشرقی ساحلی علاقوں میں رہنے والے پانچ کروڑ افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔
اتوار کو نیویارک کے میئر نے زیریں علاقوں سے پونے چار لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیویارک کی بندر گاہ بھی بند کر دی گئی ۔قدرتی آفتوں کا اندازہ لگانے والے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ طوفان کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیس ارب ڈالر تک نقصان ہوسکتا ہے۔
اگلے روز وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما نے یہ تنبیہ جاری کی ہے کہ طوفان کئی دنوں تک شدید مشکلات اور ممکنہ طور پر مہلک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ طوفان سے نمٹنے کے لیے کی گئی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ انھوں نے امریکی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے مقامی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔صدر اوباما نے کہا کہ یہ ایک بڑا اور طاقتور طوفان ہے اور لوگوں کو کئی دنوں تک بجلی کی فراہمی بند ہونے سے لے کر ٹرانسپورٹ کے نظام میں خلل بند کے امکان کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ سخت سرد موسم اور تیز ہواؤں سے انتخابی مہم کے علاوہ چھ نومبر کو الیکشن کے دن پولنگ کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔طوفان زدہ علاقوں کے لوگوں کے لیے ایمرجنسی شیلٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ کسینو کی وجہ سے شہرت رکھنے والا ساحلی شہر ایٹلانٹک سٹی بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کو کتنے بڑے طوفان کا سامنا ہے۔
طوفان ''سینڈی''سے آنے والے دنوںمیں 6کروڑ امریکیوں کی زندگی متاثرہونے کا امکان ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 9 ستمبر1900 کے گلوسٹن سٹی طوفان سے بھی زیادہ تباہ کن ہو گا جس سے اس وقت 6ہزار سے 12 ہزار امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔ گلوسٹن ریاست ٹیکساس کا ایک شہر ہے چند برس قبل امریکی نیوز چینل ایم ایس این بی سی نے گلوسٹن طوفان کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت قرار دیا تھا جس کی رفتار 130 میل فی گھنٹہ تھی۔ 22 ستمبر2005 کو فی کس آمدنی کے لحاظ سے امریکا کا سب سے بڑا شہر گلوسٹن مکمل تباہ و برباد ہو گیا تھا، تعمیر نو میں کئی عشرے لگے مگر یہ اپنی پرانی شاندار حالت میں نہ آ سکا۔
امریکا میں پاکستانی سفارت خانے نے سمندری طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں مقیم پاکستانیوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میںپاکستانی سفارت خانے کے ایمرجنسی نمبر پر رابط کیا جاسکتا ہے۔قدرتی آفات پر کسی کا زور نہیں ہے۔پاکستان کے عوام کو 2008میں آنے والے زلزلے کے نقصانات ابھی تک یاد ہیں۔ یقینی طور امریکا کے عوام اس وقت شدید مشکل میں ہیں۔خصوصاً نیویارک اور نیوجرسی کے عوام زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں پاکستانی بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ پاکستانیوں کے حوالے سے ابھی تک اطلاعات یہی ہیں کہ وہ پوری طرح محفوظ ہیں۔
امریکا کی حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔اس نے اس سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق طوفان سے جانی نقصان بہت کم ہوا ہے۔بہرحال یہ امریکا کی تاریخ کے بدترین طوفانوں میں سے ایک ہے،اس کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر اوباما اور ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امید وار میٹ رومنی نے اپنی انتخابی مہم منسوخ کر دی ہے۔ابھی طوفان کے حوالے سے پوری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں ۔
اس سمندری طوفان کا نام سینڈی رکھا گیا ہے ۔پیر کو سمندری طوفان سینڈی امریکی ریاست نیو جرسی کے ساحلی علاقے سے ٹکرا چکا ہے ،سارے علاقے میں سیلابی صورت حال ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان سینڈی کے باعث امریکا کی 9ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ ہے جن میں ڈیلاور ، پینسلوانیا، ورجینیا اور نیویارک بھی شامل ہیں۔ نیویارک اور نیوجرسی کوآفت زدہ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ نیویارک شہر شدید سیلاب اور آندھی کی زد میں ہے، شہر میں سمندری پانی کی بڑی لہریں داخل ہو گئی ہیں، زیرِ زمین ریلوے سرنگیں زیرِ آب آ گئی ہیں اور مین ہیٹن کے بڑے علاقے میں بجلی بھی بند ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے سول انتظامیہ اور فوج کو ہائی الرٹ،کردیا گیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس سمندری طوفان کے باعث 6 کروڑ سے زا ئد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکا بھر میں تقریبا 12 ہزار پرواز یں منسوخ ہو چکی ہیں۔ کئی ریاستوں میں اسکول اورذرایع آمدو رفت بند ہیں ۔مشرقی ساحلی پٹی پر موجود دو تہائی آئل ریفائنریز کو بھی بند کردیا گیا ۔امریکا میں محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طوفان مشرقی ساحلی علاقوں میں رہنے والے پانچ کروڑ افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔
اتوار کو نیویارک کے میئر نے زیریں علاقوں سے پونے چار لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیویارک کی بندر گاہ بھی بند کر دی گئی ۔قدرتی آفتوں کا اندازہ لگانے والے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ طوفان کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیس ارب ڈالر تک نقصان ہوسکتا ہے۔
اگلے روز وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما نے یہ تنبیہ جاری کی ہے کہ طوفان کئی دنوں تک شدید مشکلات اور ممکنہ طور پر مہلک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ طوفان سے نمٹنے کے لیے کی گئی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ انھوں نے امریکی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے مقامی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل کریں۔صدر اوباما نے کہا کہ یہ ایک بڑا اور طاقتور طوفان ہے اور لوگوں کو کئی دنوں تک بجلی کی فراہمی بند ہونے سے لے کر ٹرانسپورٹ کے نظام میں خلل بند کے امکان کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ سخت سرد موسم اور تیز ہواؤں سے انتخابی مہم کے علاوہ چھ نومبر کو الیکشن کے دن پولنگ کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔طوفان زدہ علاقوں کے لوگوں کے لیے ایمرجنسی شیلٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ کسینو کی وجہ سے شہرت رکھنے والا ساحلی شہر ایٹلانٹک سٹی بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا کو کتنے بڑے طوفان کا سامنا ہے۔
طوفان ''سینڈی''سے آنے والے دنوںمیں 6کروڑ امریکیوں کی زندگی متاثرہونے کا امکان ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 9 ستمبر1900 کے گلوسٹن سٹی طوفان سے بھی زیادہ تباہ کن ہو گا جس سے اس وقت 6ہزار سے 12 ہزار امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔ گلوسٹن ریاست ٹیکساس کا ایک شہر ہے چند برس قبل امریکی نیوز چینل ایم ایس این بی سی نے گلوسٹن طوفان کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت قرار دیا تھا جس کی رفتار 130 میل فی گھنٹہ تھی۔ 22 ستمبر2005 کو فی کس آمدنی کے لحاظ سے امریکا کا سب سے بڑا شہر گلوسٹن مکمل تباہ و برباد ہو گیا تھا، تعمیر نو میں کئی عشرے لگے مگر یہ اپنی پرانی شاندار حالت میں نہ آ سکا۔
امریکا میں پاکستانی سفارت خانے نے سمندری طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں مقیم پاکستانیوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میںپاکستانی سفارت خانے کے ایمرجنسی نمبر پر رابط کیا جاسکتا ہے۔قدرتی آفات پر کسی کا زور نہیں ہے۔پاکستان کے عوام کو 2008میں آنے والے زلزلے کے نقصانات ابھی تک یاد ہیں۔ یقینی طور امریکا کے عوام اس وقت شدید مشکل میں ہیں۔خصوصاً نیویارک اور نیوجرسی کے عوام زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں پاکستانی بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ پاکستانیوں کے حوالے سے ابھی تک اطلاعات یہی ہیں کہ وہ پوری طرح محفوظ ہیں۔
امریکا کی حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔اس نے اس سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق طوفان سے جانی نقصان بہت کم ہوا ہے۔بہرحال یہ امریکا کی تاریخ کے بدترین طوفانوں میں سے ایک ہے،اس کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر اوباما اور ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امید وار میٹ رومنی نے اپنی انتخابی مہم منسوخ کر دی ہے۔ابھی طوفان کے حوالے سے پوری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں ۔