چین اور ایران پاکستان کی ترقی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں
ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر کا قرضہ دینے کی پیشکش کر دی ہے۔
چین سے سرمایہ آئے اور ایران سے گیس پہنچے تو پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آسکتی ہے۔ فوٹو:فائل
جہاں ایک جانب عالمی میڈیا میں مملکت خداداد پاکستان کے بین الاقوامی برادری میں تنہا رہ جانے کی ہاہا کار مچائی جا رہی ہے۔
دوسری طرف ہمارا عظیم دوست چین پاکستان میں متعین اپنے سفیر محترم کے حوالے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول کے ساز گار اور سیکیورٹی کا بہتر انتظام ہونے کی خبر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے ایک برادر پڑوسی ملک ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر کا آسان شرائط پر قرضہ دینے کی پیشکش کر دی ہے۔ باقی رقم کا انتظام پاکستان صارفین پر عاید کیے جانے والے ڈویلپمنٹ چارجز کے ذریعے کرے گا۔ منصوبے پر بہت جلد دستخط متوقع ہیں۔ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس کے لیے ایرانی تجارتی بینک قرضہ دے گا۔ پاکستان میں متعین عوامی جمہوریہ چین کے سفیر لیوجیان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی ہماری ترقی اور پاکستان کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں جنھیں مل کر حل کیا جائے گا۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول ساز گار اور سیکیورٹی کا انتظام بہتر ہے جس وجہ سے کوئی چینی سرمایہ کار پاکستان آنے سے خوفزدہ نہیں۔ چین ہر قسم کے حالات میں پاکستان کی بھرپور مدد اور تعاون جاری رکھے گا۔ یہ بات انھوں نے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے زیراہتمام کاروباری برادری اور پاکستان میں رہنے والے چینی باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی کہ ہم پاکستان کو اپنے تجربات سے فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور توانائی کا بحران حل کرنے میں ہر ممکن مدد دینگے۔
چینی کمپنیوں کو ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کے منصوبہ میں شامل کیا جائے تو ہمیں خوشی ہو گی۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت آٹھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ پاکستان کی برآمدات میں رواں سال 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چینی حکومت مقامی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کر رہی ہیں۔ چین پاکستان میں ایک سو بیس منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس میں توانائی کی منصوبے شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے اچھے مواقع ہیں ۔ عوامی جمہوریہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اب پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ سازگار حالات سے فائدہ اٹھائے ، چین سے سرمایہ پاکستان آئے تو ایران سے گیس پہنچے تو پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آسکتی ہے۔ پاکستان کو اب پاک ایران گیس منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کردینا چاہیے ، اب اس معاملے میں کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس حوالے سے مثبت پیش رفت کرے گی۔
دوسری طرف ہمارا عظیم دوست چین پاکستان میں متعین اپنے سفیر محترم کے حوالے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول کے ساز گار اور سیکیورٹی کا بہتر انتظام ہونے کی خبر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے ایک برادر پڑوسی ملک ایران نے گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر کا آسان شرائط پر قرضہ دینے کی پیشکش کر دی ہے۔ باقی رقم کا انتظام پاکستان صارفین پر عاید کیے جانے والے ڈویلپمنٹ چارجز کے ذریعے کرے گا۔ منصوبے پر بہت جلد دستخط متوقع ہیں۔ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس کے لیے ایرانی تجارتی بینک قرضہ دے گا۔ پاکستان میں متعین عوامی جمہوریہ چین کے سفیر لیوجیان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی ہماری ترقی اور پاکستان کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں جنھیں مل کر حل کیا جائے گا۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول ساز گار اور سیکیورٹی کا انتظام بہتر ہے جس وجہ سے کوئی چینی سرمایہ کار پاکستان آنے سے خوفزدہ نہیں۔ چین ہر قسم کے حالات میں پاکستان کی بھرپور مدد اور تعاون جاری رکھے گا۔ یہ بات انھوں نے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے زیراہتمام کاروباری برادری اور پاکستان میں رہنے والے چینی باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی کہ ہم پاکستان کو اپنے تجربات سے فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور توانائی کا بحران حل کرنے میں ہر ممکن مدد دینگے۔
چینی کمپنیوں کو ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کے منصوبہ میں شامل کیا جائے تو ہمیں خوشی ہو گی۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت آٹھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ پاکستان کی برآمدات میں رواں سال 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چینی حکومت مقامی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کر رہی ہیں۔ چین پاکستان میں ایک سو بیس منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس میں توانائی کی منصوبے شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے اچھے مواقع ہیں ۔ عوامی جمہوریہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اب پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ سازگار حالات سے فائدہ اٹھائے ، چین سے سرمایہ پاکستان آئے تو ایران سے گیس پہنچے تو پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آسکتی ہے۔ پاکستان کو اب پاک ایران گیس منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کردینا چاہیے ، اب اس معاملے میں کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس حوالے سے مثبت پیش رفت کرے گی۔