برقعہ بریگیڈ حقیقت یا فسانہ
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ القاعدہ نے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے خواتین پر مشتمل ’برقعہ بریگیڈ‘ قائم کر لی ہے۔
tanveer.qaisar@express.com.pk
اِس سے پہلے کہ ہم اِس حیرت انگیز خبر کا تجزیہ کریں یا اِس پر کوئی تبصرہ کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے خبر کے مندرجات کا جائزہ لے لیا جائے۔
29 اکتوبر 2012کو یہ خبر منصۂ شہود پر آئی: ''برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ القاعدہ نے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے خواتین پر مشتمل 'برقعہ بریگیڈ' قائم کر لی ہے۔ مغربی ممالک کے ملٹری بیسز اور دیگر سرکاری عمارتوں تک رسائی کے حصول کے لیے خواتین کا یہ یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ جنونیوں کی طرف سے آن لائن جاری ایک فلم میں ان خواتین کو عسکری تربیت کرتے دکھایا گیا ہے۔ فلم میں القاعدہ کی خواتین یونٹ کی تمام کیڈر کو کسی نامعلوم مقام پر تربیت سیشن میں مشین گنز، گرینیڈ، راکٹ لانچرز، سپنر رائفلیں جیسے آتشیں اسلحے کو چلاتے دکھایا گیا ہے۔
تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنہیں چیچنیا سے بھرتی کیا گیا ہے۔ فلم کے منظر عام پر آنے سے مغربی حکام اور ماہرین کے درمیان تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے نیٹ ورک خواتین کی ایسی اکائیوں کو قائم کر رہے ہیں تاکہ مردوں کے مقابلے ان پر شک نہ کیا جائے اور وہ سیکیورٹی رکاوٹوں کو آسانی سے عبور کرسکیں۔ حالیہ مہینوں میں کئی ممالک میں خودکش خواتین کے کئی حملے سامنے آئے ہیں۔ کئی خواتین نے دھماکا خیز مواد اپنے عبایا میں چھپایا ہوا تھا۔ گزشتہ برس ایک سینئر القاعدہ کمانڈر کو برقعے میں ملبوس گرفتار کیا گیا۔ مغربی ممالک میں کئی دہشت گرد خواتین کی گرفتاری کے بعد اس رپورٹ سے مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔''
اِس خبر کو معمولی کہنے سے گریز کرنا چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ازبس ضروری ہے کہ اِس کی حقیقت کو طشت ازبام کرنے اور اِس پر فوری تبصرہ کرتے ہُوئے ہمیں بہت احتیاط کا اسلوب اختیار کرنا ہو گا۔ نائن الیون کے پُراسرار سانحہ کے بعد امریکا و مغربی ممالک اور دہشت گردوں (جس میں ''القاعدہ'' کو مرکزی مقام حاصل ہے) کے مابین جس خونی اور خونریز جنگ نے سر اٹھایا ہے (اور یہ گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے مسلسل جاری ہے) اِس نے مختلف شکلوں میں عالمِ اسلام کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
جارح قوتوں کا کچھ بگڑا ہے نہ اُن کی عوام کا، کچھ بگڑا اور نقصان پہنچا ہے تو وہ صرف مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ اِس نقصان اور خسارے کو جَلد پورا کرنے کے بارے میں کوئی پیشگوئی بھی نہیں کی جاسکتی۔ جارح قوتوں نے، جس میں روس بھی شامل تھا اور امریکا بھی، افغانستان اور عراق میں بربادیوں اور خُوں آشامیوں کی جو داستانیں رقم کی ہیں، اِس کی مثالیں ہمیں کم کم ملتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان باہمی اعتماد اور اعتبار کو پہنچا ہے۔ اعتماد اور اعتبار کا قتل ''دہشت گردی'' کے خلاف اِس جنگ کی سب سے بڑی Casuality قرار دی جاسکتی ہے۔ اِسی کا شاخسانہ ہے کہ امریکا و مغربی ممالک جنھیں ''دہشت گرد'' قرار دیتے ہیں، شک و شبہے کی اِس فضا میں یہ معلوم ہی نہیں ہونے پاتا کہ یہ ''دہشت گرد'' کس کے ہیں اور یہ کن قوتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میدانِ کارزار میں اُترے ہیں؟
ہم اگر مذکورہ بالا خبر کا تجزیہ کریں تو دو الفاظ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں:''برقعہ اور چیچن۔'' برقعہ، عبایا اور حجاب کے الفاظ پوری دنیا میں مسلمان خواتین کی باپردگی کی علامت ہیں لیکن مغربی ممالک میں برقعہ، عبایا اور حجاب کے بارے میں خاصا متشدانہ طرزِعمل و فکر سامنے آیا ہے۔ کئی مغربی ممالک میں اِس کے خلاف آئینی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ خصوصاً فرانس میں تو اِس کے خلاف کئی سیاسی جماعتوں نے بیک زبان ہو کر مظاہرے کیے ہیں۔ سابق فرانسیسی صدر سرکوزی کے دَور میں پارلیمنٹ نے حجاب اور برقعے کے خلاف قانون منظور کیا اور اب اِس پر سختی سے عمل بھی کیا جا رہا ہے۔
کئی فرانسیسی شہروں میں اِس عملِ تنفیذ پر مسلمانوں کی طرف سے کئی شکایات بھی سامنے آچکی ہیں۔ اسکینڈے نیوین ممالک میں پردے کے خلاف مہم عروج پر ہے۔ یہ فرانس (جو سب سے زیادہ مسلمان آبادی رکھنے والا مغربی ملک بن چکا ہے) ہی ہے جس نے نقاب مخالف قوتوں کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ ایسے میں مغربی یا برطانوی میڈیا کی طرف سے جب یہ خبریں سامنے آتی ہیں کہ ''القاعدہ'' نے جنگجو خواتین پر مشتمل ''برقعہ بریگیڈ'' تشکیل دے دیا ہے، تو ہمیں اِس کی ہمنوائی کرتے وقت تھوڑا سا صبر کر کے یہ غور کرنا ہو گا کہ کہیں یہ ہوائی اُڑا کر دین کی مبادیات اور مسلمانوں کے حقوق کو زک پہنچانے کی دانستہ کوشش تو نہیں ہو رہی؟ لاریب ''القاعدہ'' نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے، یہاں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خون کی بے شمار ندیاں بہائی ہیں مگر اِس کے باوجود دو مونہے مغرب کی اختراع کردہ خبروں پر یقین کرنے سے قبل ہمیں اِس کی مختلف Dimensions پر سوچ وبچار بھی کرنا ہو گا۔
''برقعہ بریگیڈ'' کی ڈرا دینے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ اِس میں چیچن مسلمان خواتین کو بھرتی کیا گیا ہے۔ یہ ایک ستم ہی تو ہے کہ ''القاعدہ'' اور چیچن مجاہدین کو ایک ہی سکے کے دو رُخ بنا دیا گیا ہے۔ پاکستانی دنیا کی وہ واحد قوم ہے جس نے چیچن مجاہدین کی ہر قسم کی مدد کی۔ چیچنیا کے دارالحکومت ''گروزنی'' میں جب روسی فوجیں چیچن مسلمانوں کا قیمہ بنا رہی تھیں، پاکستانیوں نے ہر محاذ پر گروزنی کے مظلوم مجاہدین کی امداد کی۔ ایک دینی جماعت کے لوگ ایک چیچن مجاہد رہنما کو پاکستان لے آئے اور اُسے جلسے جلوسوں میں پیش کیا اور بے شمار چندہ بھی اکٹھا کیا۔ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ یہی چیچن مجاہدین بعدازاں پاکستان، اِس کے شہروں اور عوام پر حملہ آور ہُوئے اور القاعدہ کے ساتھی بن کر ہمارے کئی شہروں اور قصبات کو بے گناہ شہریوں کے معصوم خون سے رنگین بنا دیا۔ ''القاعدہ'' کے ساتھی بن کر وہ بدنام تو ہُوئے ہی، عالمی میڈیا نے بھی انھیں بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ گنہ گار اور بے گناہ چیچن افراد کا ساری دنیا میں اعتبار جاتا رہا۔
تئیس اکتوبر 2002 کو ماسکو میں جو المناک سانحہ وقوع پذیر ہُوا، اِس نے چیچن جانبازوں کی ساری دنیا میں عزت کو خاک میں ملا دیا۔ چیچنیا کی آزادی کے نام پر کئی چیچن ''مجاہدینِ اسلام'' نے ماسکو کے ایک تھیٹر پر قبضہ کر کے سب لوگوں کو محاصرے میں لے لیا۔ اپنے مطالبات منظور کرانے کی ضد میں یہ محاصرہ تین دن جاری رہا۔ پھر روسی حکومت اور چیچن مجاہد قابضین کے درمیان تصادم ہُوا تو تھیٹر کے اندر گُھس کر چیچن مجاہدین نے تقریباً ایک سو تیس محصورین کو قتل کر ڈالا اور خود بھی مارے گئے۔ غالباً یہ اِسی بدنامی کی بازگشت تھی کہ جب 18 مئی 2011کو پانچ چیچن افراد، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں، نے افغانستان سے آتے ہُوئے پاکستان سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تو اُنہیں گولیوں سے بُھون دیا گیا۔
مرنے والے، مبینہ طور پر، بہت شور مچاتے رہے کہ ہم نہتے ہیں لیکن اُن کا واویلا بے سُود رہا۔ یہ بہت بڑا سانحہ تھا اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اِس لیے وقوع پذیر ہُوا کہ دنیا میں چیچن اپنا اعتبار اور اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ اگر روس سے آزادی حاصل کرنی ہے تو اُنہیں چیچنیا ہی کو اپنا مورچہ بنانا ہو گا، مکالمے کی میز پر بیٹھنا ہو گا، اپنے ہمنوائوں اور خیرخواہوں کو قتل کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔ پاکستان میں پناہ یافتہ سب چیچن کو ''القاعدہ'' سے تعلق منقطع کرتے ہُوئے واپس اپنے وطن لوٹنا ہو گا۔ اُنہیں یقین کر لینا ہو گا کہ یہ سرزمین اُن پر روز بروز تنگ ہوتی جائے گی۔
اب ایک بار پھر نام نہاد ''برقعہ بریگیڈ'' میں چیچن خواتین کا نام آیا ہے تو ہم سب کو یہ احتیاط کرنا ہو گی کہ کہیں چیچن افراد کو مزید بدنام کرنے کی نئی سازش تو بروئے کار نہیں ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ دین اور دینی مبادیات کا دشمن تو ایسے شرانگیز کھیل کھیلتا رہے گا لیکن ہمیں بھی اپنے اقدامات پر نظرِثانی کرنا ہو گی۔ دشمن تو سو بھیس بدلنے کی سکت اور طاقت رکھتا ہے لیکن ہمیں بھی تو چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
29 اکتوبر 2012کو یہ خبر منصۂ شہود پر آئی: ''برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ القاعدہ نے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے خواتین پر مشتمل 'برقعہ بریگیڈ' قائم کر لی ہے۔ مغربی ممالک کے ملٹری بیسز اور دیگر سرکاری عمارتوں تک رسائی کے حصول کے لیے خواتین کا یہ یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ جنونیوں کی طرف سے آن لائن جاری ایک فلم میں ان خواتین کو عسکری تربیت کرتے دکھایا گیا ہے۔ فلم میں القاعدہ کی خواتین یونٹ کی تمام کیڈر کو کسی نامعلوم مقام پر تربیت سیشن میں مشین گنز، گرینیڈ، راکٹ لانچرز، سپنر رائفلیں جیسے آتشیں اسلحے کو چلاتے دکھایا گیا ہے۔
تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنہیں چیچنیا سے بھرتی کیا گیا ہے۔ فلم کے منظر عام پر آنے سے مغربی حکام اور ماہرین کے درمیان تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے نیٹ ورک خواتین کی ایسی اکائیوں کو قائم کر رہے ہیں تاکہ مردوں کے مقابلے ان پر شک نہ کیا جائے اور وہ سیکیورٹی رکاوٹوں کو آسانی سے عبور کرسکیں۔ حالیہ مہینوں میں کئی ممالک میں خودکش خواتین کے کئی حملے سامنے آئے ہیں۔ کئی خواتین نے دھماکا خیز مواد اپنے عبایا میں چھپایا ہوا تھا۔ گزشتہ برس ایک سینئر القاعدہ کمانڈر کو برقعے میں ملبوس گرفتار کیا گیا۔ مغربی ممالک میں کئی دہشت گرد خواتین کی گرفتاری کے بعد اس رپورٹ سے مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔''
اِس خبر کو معمولی کہنے سے گریز کرنا چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ازبس ضروری ہے کہ اِس کی حقیقت کو طشت ازبام کرنے اور اِس پر فوری تبصرہ کرتے ہُوئے ہمیں بہت احتیاط کا اسلوب اختیار کرنا ہو گا۔ نائن الیون کے پُراسرار سانحہ کے بعد امریکا و مغربی ممالک اور دہشت گردوں (جس میں ''القاعدہ'' کو مرکزی مقام حاصل ہے) کے مابین جس خونی اور خونریز جنگ نے سر اٹھایا ہے (اور یہ گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے مسلسل جاری ہے) اِس نے مختلف شکلوں میں عالمِ اسلام کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔
جارح قوتوں کا کچھ بگڑا ہے نہ اُن کی عوام کا، کچھ بگڑا اور نقصان پہنچا ہے تو وہ صرف مسلمانوں کو پہنچا ہے۔ اِس نقصان اور خسارے کو جَلد پورا کرنے کے بارے میں کوئی پیشگوئی بھی نہیں کی جاسکتی۔ جارح قوتوں نے، جس میں روس بھی شامل تھا اور امریکا بھی، افغانستان اور عراق میں بربادیوں اور خُوں آشامیوں کی جو داستانیں رقم کی ہیں، اِس کی مثالیں ہمیں کم کم ملتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان باہمی اعتماد اور اعتبار کو پہنچا ہے۔ اعتماد اور اعتبار کا قتل ''دہشت گردی'' کے خلاف اِس جنگ کی سب سے بڑی Casuality قرار دی جاسکتی ہے۔ اِسی کا شاخسانہ ہے کہ امریکا و مغربی ممالک جنھیں ''دہشت گرد'' قرار دیتے ہیں، شک و شبہے کی اِس فضا میں یہ معلوم ہی نہیں ہونے پاتا کہ یہ ''دہشت گرد'' کس کے ہیں اور یہ کن قوتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میدانِ کارزار میں اُترے ہیں؟
ہم اگر مذکورہ بالا خبر کا تجزیہ کریں تو دو الفاظ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں:''برقعہ اور چیچن۔'' برقعہ، عبایا اور حجاب کے الفاظ پوری دنیا میں مسلمان خواتین کی باپردگی کی علامت ہیں لیکن مغربی ممالک میں برقعہ، عبایا اور حجاب کے بارے میں خاصا متشدانہ طرزِعمل و فکر سامنے آیا ہے۔ کئی مغربی ممالک میں اِس کے خلاف آئینی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ خصوصاً فرانس میں تو اِس کے خلاف کئی سیاسی جماعتوں نے بیک زبان ہو کر مظاہرے کیے ہیں۔ سابق فرانسیسی صدر سرکوزی کے دَور میں پارلیمنٹ نے حجاب اور برقعے کے خلاف قانون منظور کیا اور اب اِس پر سختی سے عمل بھی کیا جا رہا ہے۔
کئی فرانسیسی شہروں میں اِس عملِ تنفیذ پر مسلمانوں کی طرف سے کئی شکایات بھی سامنے آچکی ہیں۔ اسکینڈے نیوین ممالک میں پردے کے خلاف مہم عروج پر ہے۔ یہ فرانس (جو سب سے زیادہ مسلمان آبادی رکھنے والا مغربی ملک بن چکا ہے) ہی ہے جس نے نقاب مخالف قوتوں کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ ایسے میں مغربی یا برطانوی میڈیا کی طرف سے جب یہ خبریں سامنے آتی ہیں کہ ''القاعدہ'' نے جنگجو خواتین پر مشتمل ''برقعہ بریگیڈ'' تشکیل دے دیا ہے، تو ہمیں اِس کی ہمنوائی کرتے وقت تھوڑا سا صبر کر کے یہ غور کرنا ہو گا کہ کہیں یہ ہوائی اُڑا کر دین کی مبادیات اور مسلمانوں کے حقوق کو زک پہنچانے کی دانستہ کوشش تو نہیں ہو رہی؟ لاریب ''القاعدہ'' نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے، یہاں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خون کی بے شمار ندیاں بہائی ہیں مگر اِس کے باوجود دو مونہے مغرب کی اختراع کردہ خبروں پر یقین کرنے سے قبل ہمیں اِس کی مختلف Dimensions پر سوچ وبچار بھی کرنا ہو گا۔
''برقعہ بریگیڈ'' کی ڈرا دینے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ اِس میں چیچن مسلمان خواتین کو بھرتی کیا گیا ہے۔ یہ ایک ستم ہی تو ہے کہ ''القاعدہ'' اور چیچن مجاہدین کو ایک ہی سکے کے دو رُخ بنا دیا گیا ہے۔ پاکستانی دنیا کی وہ واحد قوم ہے جس نے چیچن مجاہدین کی ہر قسم کی مدد کی۔ چیچنیا کے دارالحکومت ''گروزنی'' میں جب روسی فوجیں چیچن مسلمانوں کا قیمہ بنا رہی تھیں، پاکستانیوں نے ہر محاذ پر گروزنی کے مظلوم مجاہدین کی امداد کی۔ ایک دینی جماعت کے لوگ ایک چیچن مجاہد رہنما کو پاکستان لے آئے اور اُسے جلسے جلوسوں میں پیش کیا اور بے شمار چندہ بھی اکٹھا کیا۔ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ یہی چیچن مجاہدین بعدازاں پاکستان، اِس کے شہروں اور عوام پر حملہ آور ہُوئے اور القاعدہ کے ساتھی بن کر ہمارے کئی شہروں اور قصبات کو بے گناہ شہریوں کے معصوم خون سے رنگین بنا دیا۔ ''القاعدہ'' کے ساتھی بن کر وہ بدنام تو ہُوئے ہی، عالمی میڈیا نے بھی انھیں بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ گنہ گار اور بے گناہ چیچن افراد کا ساری دنیا میں اعتبار جاتا رہا۔
تئیس اکتوبر 2002 کو ماسکو میں جو المناک سانحہ وقوع پذیر ہُوا، اِس نے چیچن جانبازوں کی ساری دنیا میں عزت کو خاک میں ملا دیا۔ چیچنیا کی آزادی کے نام پر کئی چیچن ''مجاہدینِ اسلام'' نے ماسکو کے ایک تھیٹر پر قبضہ کر کے سب لوگوں کو محاصرے میں لے لیا۔ اپنے مطالبات منظور کرانے کی ضد میں یہ محاصرہ تین دن جاری رہا۔ پھر روسی حکومت اور چیچن مجاہد قابضین کے درمیان تصادم ہُوا تو تھیٹر کے اندر گُھس کر چیچن مجاہدین نے تقریباً ایک سو تیس محصورین کو قتل کر ڈالا اور خود بھی مارے گئے۔ غالباً یہ اِسی بدنامی کی بازگشت تھی کہ جب 18 مئی 2011کو پانچ چیچن افراد، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں، نے افغانستان سے آتے ہُوئے پاکستان سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تو اُنہیں گولیوں سے بُھون دیا گیا۔
مرنے والے، مبینہ طور پر، بہت شور مچاتے رہے کہ ہم نہتے ہیں لیکن اُن کا واویلا بے سُود رہا۔ یہ بہت بڑا سانحہ تھا اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اِس لیے وقوع پذیر ہُوا کہ دنیا میں چیچن اپنا اعتبار اور اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ اگر روس سے آزادی حاصل کرنی ہے تو اُنہیں چیچنیا ہی کو اپنا مورچہ بنانا ہو گا، مکالمے کی میز پر بیٹھنا ہو گا، اپنے ہمنوائوں اور خیرخواہوں کو قتل کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔ پاکستان میں پناہ یافتہ سب چیچن کو ''القاعدہ'' سے تعلق منقطع کرتے ہُوئے واپس اپنے وطن لوٹنا ہو گا۔ اُنہیں یقین کر لینا ہو گا کہ یہ سرزمین اُن پر روز بروز تنگ ہوتی جائے گی۔
اب ایک بار پھر نام نہاد ''برقعہ بریگیڈ'' میں چیچن خواتین کا نام آیا ہے تو ہم سب کو یہ احتیاط کرنا ہو گی کہ کہیں چیچن افراد کو مزید بدنام کرنے کی نئی سازش تو بروئے کار نہیں ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ دین اور دینی مبادیات کا دشمن تو ایسے شرانگیز کھیل کھیلتا رہے گا لیکن ہمیں بھی اپنے اقدامات پر نظرِثانی کرنا ہو گی۔ دشمن تو سو بھیس بدلنے کی سکت اور طاقت رکھتا ہے لیکن ہمیں بھی تو چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔