بھارتی ائیر بیس پر حملہپاکستان کی مذمت

پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے کے بعد نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی

موجودہ حالات میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے دانشمندانہ رویوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اب انھوں نے ان شرپسند عناصر کو ناکام بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے، فوٹو : اے ایف پی

بھارتی پنجاب کے ضلع پٹھانکوٹ میں بھارتی فضائیہ کی ایئربیس پر ہفتے کو صبح تین بجے کے قریب دہشت گردوں نے گھس کر حملہ کر دیا جس سے ابتدائی طور پر بھارتی ایئر فورس کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع ملی جب کہ فورسز کی جوابی کارروائی سے پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو سرچ آپریشن کے دوران بھی پٹھانکوٹ ایئر بیس پر دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں، سرچ آپریشن کے دوران گرنیڈ دھماکے سے ایک لیفٹیننٹ کرنل ہلاک اور تین سپاہی زخمی ہو گئے۔

ذرایع کے مطابق حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر لیفٹیننٹ کرنل سمیت گیارہ بھارتی فوجی ہلاک اور 18زخمی ہوئے ہیں۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس حملے کے بعد نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ پاکستان نے بھارتی شہر پٹھانکوٹ میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان پٹھانکوٹ میں دہشت گرد حملے جس میں کئی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں' کی مذمت کرتا ہے، پاکستان بھارتی حکومت اور بھارتی عوام کے ساتھ دلی افسوس اور دکھ کا اظہار کرتا اور اس واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین حال ہی میں مثبت اعلیٰ سطح کے روابط ہوئے ہیں، پاکستان سمجھتا ہے کہ ان کا تعمیری انداز میں فائدہ اٹھانا چاہیے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھارت اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کے عزم پر کاربند ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمنوں نے پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملہ کیا جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، بھارتی فوج دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، انسانیت کے دشمن بھارتی ترقی اور خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتے، ہمیں اپنی سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے جنہوں نے دہشتگردوں کو اپنی کارروائیوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ اس حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نہایت محتاط انداز میں بیان جاری کیا اور پاکستان کے خلاف روایتی الزام تراشی یا ہرزہ سرائی نہیں کی۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کو بھی اس امر کا ادراک ہو چکا ہے کہ اس کے اپنے ہاں بھی دہشت گردوں کے ایسے منظم گروہ موجود ہیں جو اس خطے میں امن اور خوشحالی نہیں چاہتے بلکہ ان کا ایجنڈا اسے عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات چلتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا سانحہ رونما ہو جاتا ہے جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی پیدا ہو جاتی اور مذاکرات کا عمل التوا کا شکار ہو جاتا ہے' اب جب کہ گزشتہ ہفتے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا مختصر دورہ کر کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا تو ایسے میں پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملے کا واقعہ سامنے آ گیا اور پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو ایک بار پھر سبوتاژ کرنے کی مذموم حرکت کی گئی' اس سے یوں عیاں ہوتا ہے کہ بعض خفیہ قوتیں پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی خواہاں نہیں، ان کا ایجنڈا ہی دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور کشیدگی کو ہوا دینا ہے اور اسی میں ان کی بقا مضمر ہے۔

پٹھانکوٹ ایئر بیس میں بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی تعداد درجنوں میں ہوتی ہے اور یہ فضائی اڈہ جغرافیائی اور فوجی حوالے سے اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد سے قریب ہے۔ خبروں کے مطابق بھارتی پنجاب کے ضلع پٹھانکوٹ کے علاقے میں فوجی یونیفارم میں ملبوس اور سرکاری گاڑی میں سوار مسلح حملہ آوروں نے ہفتہ کو علی الصبح تین بجے کے قریب ایئربیس پر دھاوا بول دیا۔ حملہ آور نان آپریشنل ایریا میں داخل ہو گئے جہاں طیارے اور ہیلی کاپٹر پارک کیے جاتے ہیں۔


حملہ آوروں نے حملہ ایئربیس کے رہائشی علاقے سے شروع کیا اور ان کا مقصد وہاں سے مبینہ طور پر اس فضائی اڈے کے عسکری حصے کی طرف پیشقدمی تھا تا کہ اسٹرٹیجک حوالے سے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ اس دوران بھارتی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تاحال حملہ آوروں کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بعض سیکیورٹی حکام الزام لگاتے ہیں کہ حملہ آوروں کا تعلق ایک شدت پسند گروپ سے ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی گورداسپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی ہے جو گزشتہ روز چھینی گئی تھی۔

خبروں کے مطابق پٹھانکوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے کا معاملہ پراسرار ہوگیا ہے، علاقے کے مقامی افراد کی جانب سے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پٹھانکوٹ کے رہائشیوں نے ائیربیس پر حملے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ گزشتہ شام پانچ بجے ائیرفورس کے بیرئیر کو ہٹا کر اندر منتقل کر دیا گیا تھا۔ بھارتی ائیرفورس نے علاقے کی تمام دکانیں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ رات آٹھ بجے علاقے میں مکمل سناٹا ہوگیا تھا۔صبح تین بجے دوست نے اطلاع دی کہ حملہ ہوگیا۔میڈیا کے مطابق ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کا الزام پاکستان پر ڈالا جائے جب کہ بھارتی حکومت نے بھی اپنی نااہلی چھپانے کے لیے حملہ آوروں کو سرحدپار سے امداد ملنے کا الزام لگایا ہے۔

ذرایع کے مطابق بھارتی قومی سلامتی کے مشیر نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر ایک روز قبل ہنگامی اجلاس بھی بلایا تھا جس میں اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی تھی۔اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اصل حقائق منظر عام پر لائے جائیں ،کہیں ایسا تو نہیں کہ بھارتی فورسز کے اندر ہی سے کچھ افراد اس کارروائی میں ملوث ہوں اور ان کا مقصد مودی حکومت کو دباؤ میں لا کر پاک بھارت مذاکرات کی راہ روکنا ہو۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں بھارت میں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا میڈیا' کچھ حکومتی ارکان اور انتہا پسند قوتیں کسی ثبوت کا انتظار کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عاید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے بعض عناصر تو پاکستان کے خلاف باقاعدہ محاذ کھول دیتے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے بھی روایتی سوچ اور تعصب کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگا دیا کہ پٹھانکوٹ میں حملہ کرنے والے گروپ کو پاکستان کے بعض عناصر سے تعاون حاصل تھا تاہم ایک اور بھارتی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی نہیں کی بلکہ ان خفیہ عناصر کی مذمت کی جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں' انھوں نے کہا کہ جو عناصر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی بحالی نہیں چاہتے وہ پٹھانکوٹ حملے جیسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں تاہم امن مذاکرات کے عمل کی اپنی طاقت ہے۔

جو خفیہ عناصر پاک بھارت تعلقات خراب کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی حکومت کو ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے بلکہ ایسی قوتوں کو ناکام بنانے کے لیے مذاکرات کے عمل کو فی الفور شروع کرنا چاہیے' ان عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کا یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے کسی طور بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔

شرپسند عناصر پاک بھارت تعلقات کو سبوتاژ کرنے میں آج تک کامیاب ہوتے آئے ہیں لیکن موجودہ حالات میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے دانشمندانہ رویوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اب انھوں نے ان شرپسند عناصر کو ناکام بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور وہ اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن مذاکرات کو ہر ممکن طور پر آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

اس صورت حال میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو خبردار رہنا چاہیے کہ دہشت گرد نچلا نہیں بیٹھیں گے اور دوبارہ کوئی ایسی کارروائی کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ دشمنی کے شعلوں کو بڑھاوا دے کر دونوں ممالک کے درمیان نفرت اور کشیدگی کی دیوار کو برقرار رکھا جائے اور یہ ممالک کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آنے پائیں۔ لہٰذا تمام تر تلخیوں کے باوصف مذاکرات کے عمل کو جلد از جلد شروع کیا جائے۔
Load Next Story