مخالفت برائے مخالفت نہیں ہونی چاہیے

اگر صوبوں کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کوئی تحفظات ہیں تو اس کےاظہار کا سب سے زیادہ بہتر پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہے

کالا باغ ڈیم کا منصوبہ پہلے ہی سیاستدانوں کی مخالفت کے باعث ختم ہوا ہے لہٰذا قومی ترقی کے اس اہم ترین منصوبے پر سیاست نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ فوٹو: فائل

پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ ہے جس سے تمام صوبوں میں صنعتی اور توانائی کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے' تمام صوبائی حکومتیں اس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور اپنے صوبے میں اس کی بروقت تکمیل کی خواہاں ہیں۔

مگر حیرت انگیز امر ہے کہ تمام تر حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت کی جانب سے اس راہداری منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر خیبرپختونخوا کے تحفظات کے سلسلے میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے صوبائی حکومت سے رابطہ کیا ہے تاہم وہ اپنے اس موقف پر ڈٹے ہیں کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں جو مراعات اور سہولیات پنجاب اور دیگر صوبوں کو دی جا رہی ہیں وہی مراعات خیبرپختونخوا کو دی جائیں۔

دوسری جانب اتوار کو خیبر پی کے اسمبلی کے اسپیکر نے پشاور میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جس میں یہ طے پایا کہ راہداری منصوبے پر صوبے کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر تحفظات دور کیے جائیں' یہ قومی تعمیر و ترقی کا منصوبہ ہے' راہداری روٹ میں تبدیلی سے سیاسی جماعتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ جے یو آئی ف جو حکومت کی اتحادی سیاسی جماعت ہے اس کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر اپنی سیاسی مخالف جماعت تحریک انصاف سے متفق ہونا جہاں اچنبھے کی بات ہے وہاں اس امر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ راہداری منصوبے میں کہیں نہ کہیں کوئی مسئلہ ہے جس سے صوبوں کی جانب سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہوا ہے صوبوں کی جانب سے اس سلسلے میں مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں جنھیں دور کرنے کی وفاقی حکومت بارہا یقین دہانی کراتی رہی ہے، اس سلسلے میں 28مئی کو وفاقی حکومت کی سرپرستی میں آل پارٹیز کانفرنس بھی ہوئی تھی جس میں اس منصوبے پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کیا گیا تھا اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی تھی۔

بعدازاں بلوچستان حکومت کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے توانائی منصوبوں کے سلسلے میں تحفظات سامنے آئے تو وزارت پانی و بجلی نے ان تحفظات کو دور کرنے کے پیش نظر پاک چین اقتصادی راہداری کے توانائی منصوبوں کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ اینڈ امپلی مینٹیشن کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا۔اب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ژوب میں راہداری منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔


اس منصوبہ پر بڑی تیزی سے کام ہو رہا ہے جس سے یقیناً بلوچستان حکومت کے تحفظات دور ہو جائیں گے جب کہ دوسری طرف صوبہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں ابھی تک تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی بھرپور یقین دہانیوں کے باوجود اس منصوبے کے بارے میں صوبوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار حیرت انگیز امر ہے، آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے، وفاقی حکومت اس جانب بھرپور توجہ دے اور تمام صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے معاملات طے کرے اور کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے صوبوں کے تحفظات اپنی جگہ مسلسل موجود رہیں اور مستقبل میں کوئی مسئلہ جنم لے۔

اگر صوبوں کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کوئی تحفظات ہیں تو اس کے اظہار کا سب سے زیادہ بہتر پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہے انھیں پارلیمنٹ میں اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔ چینی صدر شی چن پنگ نے اپریل میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں اقتصادی راہداری اور توانائی سمیت 51 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے جن کی مالیت 46 ارب ڈالر بتائی گئی۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے۔

جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ تک گوادر بندر گاہ' ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تجارت کو ترقی دینے کے علاوہ تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔ اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے' گوادر سے کاشغر تک تقریباً3,000 کلو میٹر طویل یہ منصوبہ مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔

پاکستان میں اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے' اگر کسی صوبے کو کچھ تحفظات ہیں تو اسے آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے تحفظات کو دور کرانے کی کوشش کرنی چاہیے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے مستقبل میں مسائل پیدا ہوں۔ وفاقی حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے کہ آخر تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود صوبوں کی جانب سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے۔

اس مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے۔ادھر اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کرنے والوں کو بھی مخالفت برائے مخالفت کا رویہ ترک کر کے ذمے داری کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ پہلے ہی سیاستدانوں کی مخالفت کے باعث ختم ہوا ہے لہٰذا قومی ترقی کے اس اہم ترین منصوبے پر سیاست نہ کی جائے تو بہتر ہے۔
Load Next Story