مسلمانوں کی قیادت اور باہمی اختلافات

سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ختم کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

ضرورت صرف یہ ہے کہ اس خطے کی بالادست اشرافیہ اپنے نظریاتی اختلافات کو ریاستی تنازعات کی بنیاد نہ بنائے۔ فوٹو : فائل

لاہور:
سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قومی اسمبلی میں بحث ہوئی۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ دو برادر ممالک کے مابین کشیدگی ایک حساس مسئلہ ہے، یہ خطے نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے، خطرے کی بو آرہی ہے، اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں، اس لیے تمام اہم امور کو ایک طرف رکھ کر مشیر خارجہ سرتاج عزیز اس معاملے پر ایوان کو بریف کریں اور حکومت کا موقف واضح کریں۔

گزشتہ روز مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے ۔پاکستان دونوں دوست ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے جلد اختلافات دور کر لینے چاہئیں۔بعدازاں خورشید شاہ نے سعودی ، ایران مسئلے پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا، ان کا کہنا ہے حکومت اس مسئلے پر اپنی مجبوریاں اور اپنے کردار پر بریفنگ دے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کو موثر کردار ادا کرنا ہو گا وہ اسلامی دنیا کی قیادت سے رابطے کر کے پریشانی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے متوازن پالیسی اپنائی جائے ہمیں بڑھ چڑھ کر اس معاملے میں شامل ہو کر دونوں ممالک کو ایک جگہ لانا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ختم کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔پاکستان کو اس حوالے سے لازمی طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں۔اس حیثیت سے یقیناً فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی یہ تجویز صائب ہے کہ اس معاملے پرپارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس ہو جہاں سب کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات کو ایک حد سے زیادہ آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔


اس معاملے میں دیگر مسلم ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس حوالے سے بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دو مسلم ملکوں کے درمیان کشیدگی کا بڑھنا کسی کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ اس کا فائدہ ان قوتوں کو ہو گا جو مسلم امہ میں نفاق اور دراڑ ڈالنا چاہتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جو صورت حال ہے ' اسے بھی جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ شام اور عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات پورے عالم اسلام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہم انھی سطور میں پہلے بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ اس بحران کو ختم کرانا عالم اسلام کی بنیادی ذمے داری ہے کیونکہ امریکا 'برطانیہ 'فرانس اور روس اس علاقے میں اپنی اپنی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا مقصد اس خطے میں امن کا قیام نہیں ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک مسلمان ہیں ' اس لیے اپنے اختلافات کو جنگ تک نہ لے جانے کی بنیادی ذمے داری بھی انھی پر عائد ہے۔ او آئی سی جو مسلم ممالک کی سب سے بڑی تنظیم ہے ' اس کا کردار انتہائی کمزور رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تنظیم ایک متحرک اور رہنما کردار ادا کرے۔ پاکستان اس موقعے پر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ۔ پاکستان کو او آئی سی کا اجلاس طلب کرنا چاہیے۔ یہ ایک اچھا موقع ہے۔ تمام مسلم ممالک کے سربراہ ایک جگہ پر اکٹھے ہوں اور ان کا ایجنڈا مشرق وسطیٰ ہونا چاہیے۔ شام اور عراق میں لڑنے والے فریقین کو بھی صورت حال کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے۔ لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ہمارے سامنے یورپ کی مثال موجود ہے۔ یورپ کے ممالک مذہبی حوالے سے ایک ہی دائرے میں ہیں لیکن انھوں نے اپنے اختلافات کو ختم کیا ہے۔ آج مغربی یورپی یونین جیسے اتحاد کا حصہ بن گیا ہے۔دنیا کے نقشے پر غور کیا جائے تو شمالی افریقہ سے لے کر وسط ایشیا میں چین اور روس کی سرحدوں تک کا سارا خطہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت کا خطہ ہے۔

تمام مسلم ممالک اسی خطے میں ہیں۔ صرف یورپ میں واقعہ البانیہ' انڈونیشیا اور ملائیشیا اس خطے سے باہر ہیں۔ اگر اس خطے کی مسلم قیادت دور اندیشی 'معاملہ فہمی اور زیرکی کا مظاہرہ کرے تو کاکیشیا سے لے کر سوڈان 'مراکش اور الجزائر تک ایک ایسی یونین کا قیام عمل میں آ سکتا ہے جس میں کاروبار کرنا اور آنا جانا بغیر ویزے کے ہو جائے۔

یہ سارا خطہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔یہ خطہ تیل سے مالا مال ہے ' یہاں سونے 'چاندی اور ہیرے کی کانیں ہیں۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس خطے کی بالادست اشرافیہ اپنے نظریاتی اختلافات کو ریاستی تنازعات کی بنیاد نہ بنائے۔ نظریات خواہ کچھ بھی ہوں لیکن مفادات اگر اجتماعی بن جائیں تو ہر قسم کا لڑائی جھگڑا ختم کیا جا سکتا ہے۔
Load Next Story