تھر پارکر میں غذائی بحران اور ہلاکتیں

صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی غفلت،کوتاہی کا ہی شاخسانہ ہےکہ سرکاری شفاخانوں میں عوام کو علاج کی سہولتیں میسر نہیں ہیں

حکومت کو چاہیے کہ تھرپارکر کے غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ یہ انسانیت کی بقا کا مسئلہ ہے ۔ فوٹو: فائل

صحرائے تھرکے باسی خوبصورت ثقافت کے امین ہیں،ان کی عظمت وکردار کا سب نمایاں وصف صابر وشاکرہونا ہے، چاہے مشکلات کے پہاڑ ان پر ٹوٹ پڑیں وہ شکوہ تک زبان پر نہیں لاتے، انتہائی پرامن لوگ، جہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر،لیکن بدانتظامی اورکرپشن ، جو سرکار اور سرکاری محکموں کا وطیرہ بن چکی ہے،اس کے نتیجے میں تھرپارکرکے علاقے مٹھی میں مزید دو بچوں کے جاں بحق ہونے کی روح فرسا خبر ملی ہے۔

تھرپارکرمیں پھرغذائی بحران سراٹھانے لگا چار روز میں آٹھ بچے جاں بحق ہوچکے ہیں ، سال گزشتہ میں تھر کے باسی پر قیامت ڈھا گیا تھا ، اور اس سال کا آغاز بھی اچھا نہیں ہوا ہے ، 2015ء میں 376 بچوں سمیت 594 افراد غذائی قلت سے لقمہ اجل بن گئے تھے، اس وقت 80بچے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، ضلع میں ڈاکٹروں کی 298 اسامیاں خالی ہیں، ڈسپنسریوں کے لیے تین ہزار ماہانہ بجٹ دیا جارہا ہے۔


انسانی جان کی قدروقیمت کو معمولی جاننا انتہا درجے کا قابل مذمت عمل ہے، صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی غفلت،کوتاہی کا ہی شاخسانہ ہے کہ سرکاری شفاخانوں میں عوام کو علاج کی سہولتیں میسر نہیں ہیں، اول توکوالیفائڈ ڈاکٹرز دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں میں جانا پسند نہیں کرتے اور اگر پوسٹنگ ہو بھی جائے تواپنی ڈیوٹی سرانجام نہیں دیتے ، ڈسپنسریوں کی ادویات پرائیوٹ میڈیکل اسٹوروں پر بیچ دی جاتی ہیں۔

مشنری بھی ناکارہ کردی جاتی ہے، لامحالہ معصوم بچے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ہیں، ہرروز کسی نہ کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے، آہ وفغاں اور فریاد بھری چیخیں تو ہر آنکھ کو اشکبار کردیتی ہیں ، لیکن حکومتی شعبے کے اہلکار ایسے سفاک اور بے رحم ہوتے ہیں کہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، حکومت کو چاہیے کہ تھرپارکر کے غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ یہ انسانیت کی بقا کا مسئلہ ہے ۔
Load Next Story