کراچی تین دن میں38افراد ڈنگی بخار میں مبتلا ہوگئے
6سال کے دوران 25ہزارافراد متاثر ہوچکے ہیں،محکمہ صحت نے گائیڈ لائن جاری نہیں کی.
6سال کے دوران 25ہزارافراد متاثر ہوچکے ہیں،محکمہ صحت نے گائیڈ لائن جاری نہیں کی. فوٹو: فائل
KOTRI:
کراچی میںگذشتہ تین دن کے دوران38 افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوگئے جس کے بعد ڈنگی وائرس میں 405افرادکے مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبائی محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 6سال کے دوران ڈنگی وائرس کا شکار ہونے والے 180 افراد زندگی کی بازی ہارگئے ہیں، 22ہزار افرادکو پلیٹ لیٹ کی منتقلی کے مراحل سے گزرنا پڑا، محکمے کے ایک افسر کے مطابق کراچی میں 2006 میں ڈنگی وائرس سے 5ہزار متاثرہ افراد رپورٹ ہوئے تھے ان میں42 افرادکی اموات کی تصدیق کی گئی تھی،,2007میں4ہزارڈنگی پازٹیوکی تصدیق کی گئی، 29افراد موت کا شکار ہوگئے ، 2008میں 3ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے اور24 افراد موت کا شکار ہوئے۔
2009میں 2 ہزار7سو افراد وائرس کا نشانہ بننے ان میں 19 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے، 2010 میں ڈنگی وائرس نے کراچی میں سب سے زیادہ تباہی مچائی، صرف کراچی میں ساڑھے 7ہزار مریضوں کی تصدیق کی گئی ، ان میں50 افراد لقمہ اجل ہو گئے ،2011میں 12سو کیسوںکی تصدیق کی گئی تھی ان میں10افراد جان کی بازی ہار گئے،رواں سال405افراد ڈنگی وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، ڈنگی وائرس کاسلسلہ دسمبر تک جاری رہتا ہے تاہم صوبائی محکمہ صحت نے سیزن شروع ہونے کے باوجود بھی عوام کو اس وائرس سے بچانے کیلیے کوئی گائیڈ لائن مرتب نہیںکی، اس وائرس کا شکار ہونیوالے افرادکے لیے پلیٹ لیٹ کی فراہمی کیلیے کوئی بندوبست بھی نہیں کیا جبکہ اسکولوں میں بھی اسپرے مہم شروع نہیںکی جا سکی۔
کراچی میںگذشتہ تین دن کے دوران38 افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوگئے جس کے بعد ڈنگی وائرس میں 405افرادکے مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
صوبائی محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 6سال کے دوران ڈنگی وائرس کا شکار ہونے والے 180 افراد زندگی کی بازی ہارگئے ہیں، 22ہزار افرادکو پلیٹ لیٹ کی منتقلی کے مراحل سے گزرنا پڑا، محکمے کے ایک افسر کے مطابق کراچی میں 2006 میں ڈنگی وائرس سے 5ہزار متاثرہ افراد رپورٹ ہوئے تھے ان میں42 افرادکی اموات کی تصدیق کی گئی تھی،,2007میں4ہزارڈنگی پازٹیوکی تصدیق کی گئی، 29افراد موت کا شکار ہوگئے ، 2008میں 3ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے اور24 افراد موت کا شکار ہوئے۔
2009میں 2 ہزار7سو افراد وائرس کا نشانہ بننے ان میں 19 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے، 2010 میں ڈنگی وائرس نے کراچی میں سب سے زیادہ تباہی مچائی، صرف کراچی میں ساڑھے 7ہزار مریضوں کی تصدیق کی گئی ، ان میں50 افراد لقمہ اجل ہو گئے ،2011میں 12سو کیسوںکی تصدیق کی گئی تھی ان میں10افراد جان کی بازی ہار گئے،رواں سال405افراد ڈنگی وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، ڈنگی وائرس کاسلسلہ دسمبر تک جاری رہتا ہے تاہم صوبائی محکمہ صحت نے سیزن شروع ہونے کے باوجود بھی عوام کو اس وائرس سے بچانے کیلیے کوئی گائیڈ لائن مرتب نہیںکی، اس وائرس کا شکار ہونیوالے افرادکے لیے پلیٹ لیٹ کی فراہمی کیلیے کوئی بندوبست بھی نہیں کیا جبکہ اسکولوں میں بھی اسپرے مہم شروع نہیںکی جا سکی۔