بھارت میں کپاس کی پیداوار 33 فیصد کم
کم پیداوار کے باعث بھارتی حکومت ایکسپورٹ پر پھر پابندی لگا سکتی ہے، احسان الحق
کم پیداوار کے باعث بھارتی حکومت ایکسپورٹ پر پھر پابندی لگا سکتی ہے، احسان الحق فوٹو: فائل
بھارت میں بھی ناموافق موسمی اثرات کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی کا رحجان غالب ہوگیا ہے اورکاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق بھارت میں 28 اکتوبر2012 تک کپاس کی پیداوار میں 33 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور مجموعی طور پر8 لاکھ 69 ہزار روئی کی گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ مدت تک بھارت کی جن ریاستوں میں کپاس کی پیداوارمیں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ان میں بھارتی گجرات، مہاراشٹر اورمدھیہ پردیش شامل ہیں، مذکورہ ریاستوں میں گزشتہ سال کی نسبت کپاس کی پیداوار میں 43 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ بھارتی پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں 16فیصد کی کمی اور اندرا پردیش و کرناٹک میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت تقریباً 26 فیصد کی کمی ہوئی۔ کاٹن سیکٹر کے باخبرذرائع کے مطابق بھارت میں رواں سال کپاس کی پیداوارمیں کمی بنیادی وجوہ میں طویل ترین خشک سالی اورکپاس کے زیر کاشت رقبے میں گزشتہ سال کی نسبت کمی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ بھارت میں مالی سال2012-13 کے لیے 3 کروڑ 34 لاکھ گانٹھوں پر مشتمل کپاس کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے مذکورہ پیداواری ہدف کا حصول ناممکن لگ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار توقعات سے کافی کم ہونے کے باعث اس امر کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اپنی صنعتوں کی بقا کے لیے بھارتی روئی کی برآمدات پر ایک بار پھر پابندی عائدکردی جائے لیکن بھارت کے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں اضافے کا نیارحجان سامنے آ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ مدت تک بھارت کی جن ریاستوں میں کپاس کی پیداوارمیں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ان میں بھارتی گجرات، مہاراشٹر اورمدھیہ پردیش شامل ہیں، مذکورہ ریاستوں میں گزشتہ سال کی نسبت کپاس کی پیداوار میں 43 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ بھارتی پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں 16فیصد کی کمی اور اندرا پردیش و کرناٹک میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت تقریباً 26 فیصد کی کمی ہوئی۔ کاٹن سیکٹر کے باخبرذرائع کے مطابق بھارت میں رواں سال کپاس کی پیداوارمیں کمی بنیادی وجوہ میں طویل ترین خشک سالی اورکپاس کے زیر کاشت رقبے میں گزشتہ سال کی نسبت کمی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ بھارت میں مالی سال2012-13 کے لیے 3 کروڑ 34 لاکھ گانٹھوں پر مشتمل کپاس کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے مذکورہ پیداواری ہدف کا حصول ناممکن لگ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار توقعات سے کافی کم ہونے کے باعث اس امر کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اپنی صنعتوں کی بقا کے لیے بھارتی روئی کی برآمدات پر ایک بار پھر پابندی عائدکردی جائے لیکن بھارت کے اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں اضافے کا نیارحجان سامنے آ سکتا ہے۔