ٹاک سرینڈر کی نوبت نہ آئے
خطے میں امن و استحکام اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت تعاون و اشتراک کا عزم ایک مثبت پیش رفت ہے
حقیقت بھی یہی کہ دہشت گردی اور غربت کے خاتمہ کو پاک بھارت تعلقات میں اساسی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ فوٹو : فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان بھارتی حکومت کی فراہم کردہ معلومات پر تفصیلی تحقیقات کریگا۔ وزیراعظم نواز شریف نے منگل کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ٹیلیفون کیا اور پٹھان کوٹ حملے میں جانی نقصان پرافسوس کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ ادھر امریکا نے حالیہ پاک بھارت رابطہ کو سراہا ہے ۔
بلاشبہ خطے میں امن و استحکام اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت تعاون و اشتراک کا عزم ایک مثبت پیش رفت ہے جسے بھارتی میڈیا نے بھی سراہتے ہوئے پہلی بار اسے انتہائی سنجیدہ کوریج دی ہے اور تقریباً تمام موقر معاصر بھارتی اخبارات نے اپنے حکمرانوں کو یہ صائب مشورہ دیا ہے کہ بات چیت جاری رکھیں، ٹاک سرینڈر کا مرحلہ نہ آنے دیں جو دہشتگردوں کے مکروہ ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہوگا۔
انڈین ایکسپریس، ٹائمز آف انڈیا دی ہندو اور ہندوستان ٹائمز نے اپنے اداریوں اور تجزیوں میں پٹھان کوٹ واقعہ کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ بھارت و پاکستان اس واقعہ کے ماسٹر مائنڈ اور دہشتگردی کے محرکات پر نظر رکھیں ۔ بھارتی دانشوروں ، میڈیا ہاؤسز اور تجزیہ کاروں کے انداز نظر میں پٹھان کوٹ سانحہ کے سیاق و سباق میں پیدا ہونے والی تبدیلی ایک اہم پیراڈائم شفٹ ہے، اس لیے پاکستان بھی اس سیاسی سفارتی اور اسٹریٹجیکل سوچ کی حمایت کریگا جو خود دہشتگردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کے سنجیدہ بیانات کو سراہتے ہیں، مضبوط اور تعاون پر مبنی تعلقات دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کا بہترین جواب ہیں۔ تاہم ضرورت اس تبدیلی فکر کو دو طرفہ ادارہ جاتی استقامت دینے کی ہے ، اگر خطے میں ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے، امن ، رواداری، ترقی اور خوشحالی دونوں ملکوں کا ایجنڈا بن جائے جب کہ میڈیا معروضی حقائق اور سنجیدہ اور تعمیری تنقید سے دو طرفہ جنگی جنون کے دیرینہ کلچر کی جگہ دیرینہ تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کی امنگ پیدا کرے، کشمیر سمیت دیگر معاملات مکالمہ کی میز پر تصفیہ پاجائیں تو برصغیر کی تقدیر بدل جائے۔
ادھر بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس میں کچھ خلا نظر آیا ہے جسے ہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سمجھ سکیں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کوئی الزام تراشی نہیں کی گئی، پٹھان کوٹ حملے پر پاکستان بھارتی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کر رہا ہے اگر کوئی شواہد ملے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ حقیقت بھی یہی کہ دہشت گردی اور غربت کے خاتمہ کو پاک بھارت تعلقات میں اساسی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ پاکستان واقعہ کی تحقیقات کرے اور جو نتیجہ نکلے اس پر عمل ہونا چاہیے۔
دہشتگردی میں ملوث قوتوں کوبے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دونوں ملکوں کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، اسے دوطرفہ تعلقات کی حرکیات میں عناد، اضطراب، برہمی، مخاصمت اور بدنیتی کے عناصر کو نکال باہر کرنا چاہیے، ذرا سی بات کو رائی کا پہاڑ بنانے کی سنسنی خیز روایت اب ختم ہونی چاہیے تاکہ ٹھوس حقائق کی روشنی میں پاک بھارت مسائل کا حل پیدا شدہ زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت صبر و تحمل اور غیر جذباتی انداز میں تلاش کرنے کے عمل کو ممکن بنایا جا سکے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کے درمیان عسکری طبل جنگ بعد میں بجتے ہیں ، پہلے حریف ملک اپنے میڈیا کے تیارکردہ جنگی ماحول اور جنون کے یرغمالی بن جاتے ہیں، لہٰذا پاک بھارت تعلقات میں ذرایع ابلاغ کی پوزیشن قطعی واضح ہونی چاہیے اور امن و خوشحالی ، اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سیاست اور سفارت کاری کا عمل ماضی کی رنجشوں سے ماورا ہو، مگر جن بنیادی ایشوز نے دو طرفہ بد اعتمادی پیدا کی ہے اس کے خاتمہ کے لیے بات چیت کا پر جوش اور سنجیدہ تسلسل ناگزیر ہے۔
شکر ہے کہ بھارتی قیادت کو اس کا خیال اب آیا ہے۔اور یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم اور غیر معمولی ہے کہ مودی اور شیو سینا کی ناروا حکمت عملی اور پالیسیوں کے باعث جو پرتشدد اور غیر عقلی صورتحال بھارتی سیکولرازم کو پیش آئی تھی اب وہی بی جے پی حکومت ہوشمندی اور عملیت پسندی سے پچھلی لغزشوں کا ازالہ کر رہی ہے، جسے ہر جمہوریت پسند کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کا یہ طرز عمل بھی مستحسن ہے کہ اس نے اس واقعہ پر ماضی کی تاریخ نہیں دہرائی اور دہشتگردوں اور ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاک بھارت مشترکہ میکانزم کی حمایت کی اور کہا ہے کہ ایئر بیس پر حملہ ریڈ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے جن کے ذمے داروں کو سخت سزا ملنی چاہیے جب کہ یہی عزم پاکستان کا ہے۔ تاہم ایک بار پھر اس امید کا اظہارلازم ہے کہ پٹھان کوٹ سانحہ نے جو صائب موقع فراہم کیا ہے اسے مستقبل کے فعال، متحرک و نارمل تعلقات اور روشن مستقبل کی جانب موڑنے میں پاک بھارت قیادت کو مفاہمت ، مکالمہ کے عزم اور معاملات کے حتمی تصفیہ میں روشن فکری کے ساتھ بڑھنا چاہیے۔
بلاشبہ خطے میں امن و استحکام اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاک بھارت تعاون و اشتراک کا عزم ایک مثبت پیش رفت ہے جسے بھارتی میڈیا نے بھی سراہتے ہوئے پہلی بار اسے انتہائی سنجیدہ کوریج دی ہے اور تقریباً تمام موقر معاصر بھارتی اخبارات نے اپنے حکمرانوں کو یہ صائب مشورہ دیا ہے کہ بات چیت جاری رکھیں، ٹاک سرینڈر کا مرحلہ نہ آنے دیں جو دہشتگردوں کے مکروہ ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہوگا۔
انڈین ایکسپریس، ٹائمز آف انڈیا دی ہندو اور ہندوستان ٹائمز نے اپنے اداریوں اور تجزیوں میں پٹھان کوٹ واقعہ کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ بھارت و پاکستان اس واقعہ کے ماسٹر مائنڈ اور دہشتگردی کے محرکات پر نظر رکھیں ۔ بھارتی دانشوروں ، میڈیا ہاؤسز اور تجزیہ کاروں کے انداز نظر میں پٹھان کوٹ سانحہ کے سیاق و سباق میں پیدا ہونے والی تبدیلی ایک اہم پیراڈائم شفٹ ہے، اس لیے پاکستان بھی اس سیاسی سفارتی اور اسٹریٹجیکل سوچ کی حمایت کریگا جو خود دہشتگردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم واقعہ کے بعد بھارتی حکومت کے سنجیدہ بیانات کو سراہتے ہیں، مضبوط اور تعاون پر مبنی تعلقات دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کا بہترین جواب ہیں۔ تاہم ضرورت اس تبدیلی فکر کو دو طرفہ ادارہ جاتی استقامت دینے کی ہے ، اگر خطے میں ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے، امن ، رواداری، ترقی اور خوشحالی دونوں ملکوں کا ایجنڈا بن جائے جب کہ میڈیا معروضی حقائق اور سنجیدہ اور تعمیری تنقید سے دو طرفہ جنگی جنون کے دیرینہ کلچر کی جگہ دیرینہ تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کی امنگ پیدا کرے، کشمیر سمیت دیگر معاملات مکالمہ کی میز پر تصفیہ پاجائیں تو برصغیر کی تقدیر بدل جائے۔
ادھر بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس میں کچھ خلا نظر آیا ہے جسے ہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سمجھ سکیں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کوئی الزام تراشی نہیں کی گئی، پٹھان کوٹ حملے پر پاکستان بھارتی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کر رہا ہے اگر کوئی شواہد ملے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ حقیقت بھی یہی کہ دہشت گردی اور غربت کے خاتمہ کو پاک بھارت تعلقات میں اساسی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ پاکستان واقعہ کی تحقیقات کرے اور جو نتیجہ نکلے اس پر عمل ہونا چاہیے۔
دہشتگردی میں ملوث قوتوں کوبے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دونوں ملکوں کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، اسے دوطرفہ تعلقات کی حرکیات میں عناد، اضطراب، برہمی، مخاصمت اور بدنیتی کے عناصر کو نکال باہر کرنا چاہیے، ذرا سی بات کو رائی کا پہاڑ بنانے کی سنسنی خیز روایت اب ختم ہونی چاہیے تاکہ ٹھوس حقائق کی روشنی میں پاک بھارت مسائل کا حل پیدا شدہ زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت صبر و تحمل اور غیر جذباتی انداز میں تلاش کرنے کے عمل کو ممکن بنایا جا سکے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کے درمیان عسکری طبل جنگ بعد میں بجتے ہیں ، پہلے حریف ملک اپنے میڈیا کے تیارکردہ جنگی ماحول اور جنون کے یرغمالی بن جاتے ہیں، لہٰذا پاک بھارت تعلقات میں ذرایع ابلاغ کی پوزیشن قطعی واضح ہونی چاہیے اور امن و خوشحالی ، اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سیاست اور سفارت کاری کا عمل ماضی کی رنجشوں سے ماورا ہو، مگر جن بنیادی ایشوز نے دو طرفہ بد اعتمادی پیدا کی ہے اس کے خاتمہ کے لیے بات چیت کا پر جوش اور سنجیدہ تسلسل ناگزیر ہے۔
شکر ہے کہ بھارتی قیادت کو اس کا خیال اب آیا ہے۔اور یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم اور غیر معمولی ہے کہ مودی اور شیو سینا کی ناروا حکمت عملی اور پالیسیوں کے باعث جو پرتشدد اور غیر عقلی صورتحال بھارتی سیکولرازم کو پیش آئی تھی اب وہی بی جے پی حکومت ہوشمندی اور عملیت پسندی سے پچھلی لغزشوں کا ازالہ کر رہی ہے، جسے ہر جمہوریت پسند کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کا یہ طرز عمل بھی مستحسن ہے کہ اس نے اس واقعہ پر ماضی کی تاریخ نہیں دہرائی اور دہشتگردوں اور ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاک بھارت مشترکہ میکانزم کی حمایت کی اور کہا ہے کہ ایئر بیس پر حملہ ریڈ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے جن کے ذمے داروں کو سخت سزا ملنی چاہیے جب کہ یہی عزم پاکستان کا ہے۔ تاہم ایک بار پھر اس امید کا اظہارلازم ہے کہ پٹھان کوٹ سانحہ نے جو صائب موقع فراہم کیا ہے اسے مستقبل کے فعال، متحرک و نارمل تعلقات اور روشن مستقبل کی جانب موڑنے میں پاک بھارت قیادت کو مفاہمت ، مکالمہ کے عزم اور معاملات کے حتمی تصفیہ میں روشن فکری کے ساتھ بڑھنا چاہیے۔