کراچی میں چنگ چی رکشے چلانے کی مشروط اجازت

دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان کے یہ ریمارکس بھی چشم کشا ہیں کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا کا قبضہ ہے۔

دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان کے یہ ریمارکس بھی چشم کشا ہیں کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا کا قبضہ ہے۔ فوٹو؛ فائل

سپریم کورٹ نے کراچی میں مقررہ معیار پر پورے اترنے والے رکشوں کو رجسٹریشن کے بعد سڑکوں پر مشروط چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار اور جسٹس دوست محمد پر مشتمل بینچ نے کراچی میں چنگ چی رکشوں پر پابندی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے مرکزی شاہراہوں کے علاوہ دیگر روٹس پر چنگ چی رکشے چلانے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف ان رکشوں کو چلانے کی اجازت ہوگی جو قانون کے مطابق معیار پر پورے اترتے ہوں اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے جنھیں فٹنس سرٹیفکیٹ ملا ہو۔ عدالت نے چاروں صوبوں کو حکم دیا ہے کہ 3 ماہ کے اندر رکشوں اور رکشا آپریٹرز کا معیار جانچنے کے بعد فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔ یہ صائب فیصلہ ہے ، پبلک ٹرانسپورٹ کی زبوں حالی کا سامنا پورے ملک کے عوام کو ہے، کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں یہ مسئلہ ایک عرصے سے شدت کا شکار ہے، سفری سہولیات سے محروم عوام بے کسی و لاچاری کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں۔


دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان کے یہ ریمارکس بھی چشم کشا ہیں کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا کا قبضہ ہے، شہر میں چلائی گئی نئی بسیں ایک ہفتے میں ہی فارغ کرادی گئیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ شہر میں 1955 ماڈل کی بسیں چلتی ہیں جن کی چھت بھی مسافروں سے بھری ہوتی ہے۔ شہر میں ٹرانسپورٹ مسائل کو حل کرنے کے لیے چنگ چی رکشے منظر عام پر آئے لیکن ٹریفک اصولوں کی پاسداری کے خلاف کم عمر بچوں اور بغیر لائسنس یافتہ ڈرائیورز کے باعث ٹریفک کے مسائل سنگین تر ہوگئے۔

رکشا چلانے کی مشروط اجازت لائق تحسین ہے لیکن ساتھ ہی سڑکوں پر چلنے والی خستہ حال بسوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تحقیقات بھی ضروری ہے، نیز پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

حکومت جب عوام کو سفری سہولت کا نیٹ ورک صوبائی سطح پر نہین دیتی تو نجی شعبہ کی اسے رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے جب کہ بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے عاری دیگر شہروں اور گاؤں دیہات میں ویگنوں، سوزوکی، رکشاؤں میں سفر کے دوران اندوہناک حادثات کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں، اس لیے پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق فیصلے صرف بڑے شہروں پر ہی نہیں بلکہ پورے ملک پر یکساں لاگو کیے جائیں۔
Load Next Story