کھیلوں کے اُفق پرمایوسی کے بادل چھائے رہے
ٹینس میں اعصام الحق کسی نہ کسی ایونٹ میں اپنا وجود منواتے رہے،تاہم کوئی میگا ایونٹ جیتنے کا اعزاز حاصل نہ ہوا۔
ٹینس میں اعصام الحق کسی نہ کسی ایونٹ میں اپنا وجود منواتے رہے،تاہم کوئی میگا ایونٹ جیتنے کا اعزاز حاصل نہ ہوا۔فوٹو : فائل
KARACHI:
سپورٹس تنظیموں کو سیاسی اثرورسوخ کے تابع رکھنے کی پالیسی پاکستانی حکمرانوں کا ''طرہ امتیاز'' رہی ہے، ایک اور برس کھیلوں سے کھلواڑ کی داستانیں چھوڑ کر رخصت ہوا، سپورٹس میں سیاسی مداخلت کرتے ہوئے لائے جانے والے عہدیداروں کی جانب سے من مانے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا۔
انفرا سٹرکچر اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے بجائے کرسیوں کو استحکام دینے اور مال بنانے پر توانائی زیادہ صرف ہونے کی وجہ بیشتر انٹرنیشنل مقابلوں ناکامیاں مقدر بنیں، اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کہیں بہتری کے آثار بھی نظر نہیں آئے۔
سیاسی مصلحتوں کے نتیجے میں کرکٹ سے باہر کے لوگوں کے سپرد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سال کے آغاز سے اختتام تک عجیب و غریب فیصلوں سے ملکی شائقین کے پسندیدہ کھیل کی بنیادیں کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سعید اجمل اور محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن غیر قانونی قرار پایا تو صدمے کے شکارسلیکٹرز کے پاس متبادل سپنرز ہی نہیں تھے، نتیجے میں ٹیم کا کمبی نیشن اور ورلڈکپ کی مہم کمزور ہوئی۔
محمدحفیظ کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ رپورٹ ہونے پر ایک سال کی پابندی کا شکار ہوئے، ایکشن کی اصلاح کے بعد سعید اجمل پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل گئے لیکن ان کی بولنگ میں دم خم نہ رہا، ایک عرصہ دنیا کے نمبر ون بولر کا اعزاز اپنے پاس رکھنے والے آف سپنر کا کریئر ہی غروب ہوتا نظر آرہا ہے، بعدازاں متبادل کے طور پر سامنے آنے والے بلال آصف کا ایکشن بھی رپورٹ ہوا لیکن انہیں بائیومکینک ٹیسٹ کے بعد کلیئر قرار دیا گیا۔
ورلڈکپ میں ناکام پلاننگ کے بعد الزام تراشی اور ایک دوسرے پر ملبہ گرانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد کپتان مصباح الحق کو قربانی کا بکرا بننا پڑا، قبل ازیں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل چھوڑنے والے سینئر کرکٹر نے ون ڈے کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا،حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے قیادت اظہر علی کے سپرد کردی گئی جن کو ورلڈکپ سکواڈ کے لیے منتخب کرنا بھی ضروری خیال نہیں کیا گیا تھا، تشکیل نو کے نام پر تجربات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو سال کے اختتام تک جاری رہا۔یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ جاوید میانداد سے چھین لیا۔ کئی اور سنگ میل بھی عبور کئے۔
تاہم اس کے ساتھ پورا سال تنازعات کی بھرپور اننگز بھی کھیلی، ہیڈ کوچ وقار یونس پر ناانصافیوں کے الزامات کے بعد ون ڈے سکواڈ میں جگہ تو بنائی لیکن کارکردگی مایوس کن رہی، ڈراپ ہونے کے بعد ضد پوری کرنے کے لیے انگلینڈ کے خلاف یو اے ای میں کھیلی جانے والی سیریز کے ون ڈے سکواڈ میں واپس آئے تو پہلے میچ میں ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان اور خود کو ٹیسٹ کرکٹ تک محدود کرلیا۔
سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے پی سی بی نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا،ڈومیسٹک سیزن اور بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں عمدہ کارکردگی نے پیسر کی حامیوں کو مہم تیز کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ محمد عامر کو دورہ نیوزی لینڈ، ایشیا کپ اور ورلڈٹی ٹوئنٹی کے ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کرکے فٹنس اینڈ ٹریننگ کیمپ میں شریک کرلیا گیا لیکن اس فیصلے کے خلاف قومی کرکٹرز میں بغاوت کی چنگاریاں بڑھکیں، محمد حفیظ اور اظہر علی نے پیسر کی موجودگی میں کیمپ جوائن کرنے سے انکار کردیا، تاہم چیئرمین پی سی بی شہریار خان کے ساتھ ملاقات میں ہتھیار ڈال دیئے۔
پی سی بی کی ایک بڑی کامیابی اور ملک کے لیے اچھا شگون زمبابوے ٹیم کا دورہ پاکستان تھا۔ مختصر سیریز میں محدود اوورز کے میچز ہی کھیلے گئے لیکن 6سال بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا جشن بڑے پر جوش انداز میں منایا گیا،لاہور کی پولیس اور متعلقہ اداروں نے ان تھک محنت سے بہترین سیکیورٹی انتظامات کرتے ہوئے اس ٹور کو کامیاب بنایا۔
پی سی بی نے ایک عرصہ سے تعطل کا شکار پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کے لیے بھی مثبت پیشرفت کی۔ فروری میں شیڈول ایونٹ کے لیے 5فرنچائزٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں چند انٹرنیشنل سٹارز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، پی سی بی کی کوشش اور منت سماجت کے باوجود پاک بھارت سیریز بی سی سی آئی کی ٹال مٹول پالیسی کی نذر ہوئی، باہمی مقابلوں کا میزبانی پاکستان کو کرنا تھی، سیریز کے التوا سے بھاری آمدن کی امیدیں دم توڑ گئیں، ان حالات میں پاکستان سپر لیگ کے سفید ہاتھی کو پالنے کے لیے وسائل صرف کرنابورڈ کے لیے مالی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
مجموعی کارکردگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو ون ڈے کرکٹ میں زوال کے آثار نمایاں رہے۔ پاکستان ٹیم رینکنگ میں بمشکل آٹھویں پوزیشن محفوظ کرتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار چیمپئنز ٹرافی سے اخراج کا صدمہ اٹھانے سے بچ گئی۔تنزلی کی جانب جاری سفر نہ رکا تو آئندہ ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ بھی کھیلنا پڑ سکتا ہے۔
سال بھر میں کھیلے جانے والے 27میچز میں سے صرف 12 میں فتح نصیب ہوئی، ان میں سے بھی 5 کمزور زمباوین ٹیم کے خلاف تھیں، مصباح الحق کی قیادت میں گرین شرٹس کو نیوزی لینڈ میں0-2سے شکست ہوئی، ورلڈکپ کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا نے 6 وکٹ سے زیر کرتے ہوئے پیش قدمی روک دی،تاہم وہاب ریاض کا شین واٹسن کو طوفانی سپیل یاد گار بن گیا۔
میگا ایونٹ کے بعد ٹیم کی کمان اظہر علی کے سپرد کی گئی، پہلی سیریز انتہائی ناخوشگوار رہی، بنگلہ دیش میں ٹیم تینوں میچز میں شرمناک ناکامی سے دوچار ہوئی،زمبابوے کو ہوم گراؤنڈز پر2-0سے زیر کرنے کے بعد ٹیم نے سری لنکا کو3-2 سے قابو کرکے چیمپئنز ٹرافی میں جگہ بنائی۔ دورئہ زمبابوے میں سیریز 2-1سے جیتی، انگلینڈ کے خلاف گرین شرٹس1-3 سے ناکام رہے، محمد حفیظ 20میچز میں41.15کی اوسط سے 782 رنز بنا کر ٹاپ سکورر ثابت ہوئے، اظہر علی 775، شعیب ملک607، احمد شہزاد 570 اور سرفراز احمد 551 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ بولرز میں وہاب ریاض نے20میچز میں27.43 کی ایوریج سے32 وکٹیں حاصل کیں، محمد عرفان 24، راحت علی 18اور یاسر شاہ16 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
ٹی ٹوئنٹی میں بھی کارکردگی غیرمعمولی نہیں رہی، 10میں سے 6 میچز جیتے مگر ان میں 4 فتوحات کمزور حریف زمبابوے کے خلاف تھیں، بنگلہ دیش سے واحد میچ میں شکست ہوئی، زمبابوے پر ہوم سیریز میں2-0سے ہاتھ صاف کرنے کے بعد سری لنکا میں میزبان کو بھی اسی مارجن سے ہرایا، پھر زمبابوین سرزمین پر سیریز2-0سے جیتی، یو اے ای میں انگلینڈ کے خلاف تینوں میچز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی بھی قابل رشک نہیں تھی، صرف 4ہی نصف سنچریز بن پائیں، ان میں سے 2 مختار احمد جبکہ ایک، ایک شعیب ملک اور احمد شہزاد نے بنائیں،سال میں 4وکٹ کی واحد پرفارمنس عماد وسیم کے نام رہی، انھوں نے زمبابوے کے خلاف یہ کارنامہ محض11 رنز دے کر انجام دیا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں زیادہ استحکام نظر آیا، دورہ بنگلہ دیش میں 1-0سے کامیابی کے بعد سری لنکا میں میزبان ٹیم کو 2-1 سے زیر کیا، یواے ای میں انگلینڈ کے خلاف 2-0سے سرخرو ہونے کا انعام گرین کیپس کو رینکنگ میں تیسری پوزیشن کی صورت میں ملا، تاہم سال کا اختتام چوتھے نمبر پر کیا۔ یونس خان اور مصباح الحق کے ساتھ لیگ سپنر یاسر شاہ نے فتوحات میں اہم کردار ادا کیا، محدود اوورز کی کرکٹ میں عمدہ فارم کی بدولت 5سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر شعیب ملک نے انگلینڈ کے خلاف پہلے میچ میں ڈبل سنچری بنائی، تاہم بعدازاں ناکام رہنے پر طویل فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
قومی ہاکی کا حال بھی برا رہا اورورلڈ کپ کے بعد تاریخ میں پہلی بار پاکستان ٹیم اولمپکس کی دوڑ سے بھی باہر ہو گئی۔ ورلڈلیگ کے ذریعے اولمپکس میں براہ راست رسائی حاصل کرنے کے لیے گرین شرٹس کو آسٹریلیا اور کوریا کے دورے بھی کروائے گئے لیکن گرین شرٹس عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔
ورلڈلیگ میں شرمناک کارکردگی کے بعد ہاکی حلقوں میں بھونچال آ گیا، اصلاح الدین صدیقی کو چیف سیلکٹر کے عہدے سے استعفٰی دینا پڑا، عوامی اور حکومتی دباؤ پر نہ چاہتے ہوئے بھی پہلے پی ایچ ایف کے صدر اختر رسول بعد ازاں سیکرٹری رانا مجاہد علی بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے، بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر پی ایچ ایف کے نئے صدر اور شہباز سینئر سیکرٹری مقرر ہوئے، نئے عہدیداروں کو مشکلات ورثے میں ملیں، فیڈریشن کا خزانہ خالی اور باصلاحیت کھلاڑی ناپید تھے۔
پاکستان سینئر ٹیم آئندہ ایک سال تک انٹرنیشنل مقابلوں سے دور رہنے پر مجبور تھی، جونیئر گزشتہ ڈیرھ برس سے کسی بھی ایونٹ میں شرکت نہ کر سکی تھی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ذمہ داروں نے ہنگامی بنیادوں پر قومی جونیئر ٹیم منتخب کر کے اس کی سلطان آف جوہر بارو کپ میں شرکت کو یقینی بنایا۔ طاہر زمان کی کوچنگ میں گرین شرٹس عمدہ کارکردگی نہ دکھا پائے، تاہم صرف ایک ماہ کے بعد ہی قومی ٹیم نے ملائیشیا میں ہی شیڈول جونیئر ایشیا کپ میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی اور آئندہ برس بھارت میں شیڈول جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت کا حق بھی حاصل کر لیا۔
اسلام آباد میں پی ایچ ایف اور آسٹریلیا کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے تحت دونوں ملک ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز کھیلیں گے، ماضی کے عہدیداروں کی نااہلی کی وجہ سے قومی ٹیم 2سال سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت سے محروم ہو چکی تھی، نئے سیٹ اپ کی کوششوں سے گرین شرٹس اس بار کے لیے ایونٹ کا حصہ بنیں گے، ایونٹ کے لیے قمر ابراہیم کو قومی ٹیم کا نیا ہیڈکوچ مقرر کیا گیا۔
ماضی میں ملک کی عالمی سطح پر پہچان کا اہم ذریعہ سمجھے جانے والا کھیل اسکواش میں بھی خوشگوار یادیں نہ چھوڑ سکا، تاہم ملک کو دو بڑے انٹرنیشنل ایونٹس کی میزبانی ملی، سینئرز سطح کے مقابلوں میں قومی پلیئرز کی کارکردگی واجبی سی رہی، ناصر اقبال، فرحان زمان اور دانش اطلس خان ایک، ایک پروفیشنل ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔
ناصر نے 25 ہزار جبکہ فرحان زمان اور دانش اطلس خان نے 10ہزار ڈالر انعامی رقم کے ٹورنامنٹس جیتے۔ فرحان محبوب اور عامر اطلس خان آف کلر نظر آئے، طیب اسلم بھی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم نہ کرسکے۔ ورلڈ اوپن میں بھی پاکستانی کھلاڑی کوئی تاثر نہ چھوڑ سکے۔ جونیئر لیول پر اسرار احمد نے ملک کی دو بڑے انٹرنیشنل ٹائٹلز سے عزت افزائی کی، وہ ایران میں ایشین جونیئر چیمپئن بننے کے بعد حال ہی میں یو ایس اوپن جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اسلام آباد میں تاریخ کی پہلی اسکواش اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔
فٹبال رینکنگ میں بہتری لانے کی کوششیں پی ایف ایف میں سیاسی مداخلت نے پامال کردیں۔ایک طرف کھیل کی عالمی تنظیم فکسنگ سکینڈل کی زد میں آنے کے بعد ساکھ کی بحالی کے لیے فکرمند رہی تو دوسری جانب پاکستان میں فٹبال فیڈریشن کے انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے متوازی باڈی قائم کردی گئی۔ فیفا کی جانب سے فیصل صالح حیات کو منتخب صدر پی ایف ایف تسلیم کئے جانے کے باوجود لاہور میں فیڈریشن کے دفتر کا قبضہ حاصل نہ ہو سکا۔
اس کشمکش میں فنڈز منجمند کئے جانے پر پاکستان کی متعدد ٹیمیں انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت نہ کرسکیں۔ ملک کے اندر فٹبال کی سرگرمیوں پر بھی جمود چھایا رہا، دوسری جانب اس قسم کے تنازع کا شکار رہنے کے بعد عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرلیا گیا تھا، طویل عرصہ کے بعد اولمپک ہاؤس کا قبضہ بھی مل گیا۔
ٹینس میں اعصام الحق کسی نہ کسی ایونٹ میں اپنا وجود منواتے رہے،تاہم کوئی میگا ایونٹ جیتنے کا اعزاز حاصل نہ ہوا۔ باکسنگ اور دیگر انفرادی کھیلوں میں شرکت برائے نام رہی، کوئی بڑی کامیابی ہاتھ نہ آسکی، ایشیائی سطح کے ایونٹس میں چند فتوحات نے نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ ضرور بڑھایا لیکن ایسی کارکردگی نظر نہیں آئی جس سے آئندہ اولمپک سطح پر میڈلز کی حصول کی توقعات وابستہ کی جاسکیں۔
سپورٹس تنظیموں کو سیاسی اثرورسوخ کے تابع رکھنے کی پالیسی پاکستانی حکمرانوں کا ''طرہ امتیاز'' رہی ہے، ایک اور برس کھیلوں سے کھلواڑ کی داستانیں چھوڑ کر رخصت ہوا، سپورٹس میں سیاسی مداخلت کرتے ہوئے لائے جانے والے عہدیداروں کی جانب سے من مانے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا۔
انفرا سٹرکچر اور باصلاحیت کھلاڑیوں کے بجائے کرسیوں کو استحکام دینے اور مال بنانے پر توانائی زیادہ صرف ہونے کی وجہ بیشتر انٹرنیشنل مقابلوں ناکامیاں مقدر بنیں، اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ کہیں بہتری کے آثار بھی نظر نہیں آئے۔
سیاسی مصلحتوں کے نتیجے میں کرکٹ سے باہر کے لوگوں کے سپرد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سال کے آغاز سے اختتام تک عجیب و غریب فیصلوں سے ملکی شائقین کے پسندیدہ کھیل کی بنیادیں کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سعید اجمل اور محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن غیر قانونی قرار پایا تو صدمے کے شکارسلیکٹرز کے پاس متبادل سپنرز ہی نہیں تھے، نتیجے میں ٹیم کا کمبی نیشن اور ورلڈکپ کی مہم کمزور ہوئی۔
محمدحفیظ کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ رپورٹ ہونے پر ایک سال کی پابندی کا شکار ہوئے، ایکشن کی اصلاح کے بعد سعید اجمل پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل گئے لیکن ان کی بولنگ میں دم خم نہ رہا، ایک عرصہ دنیا کے نمبر ون بولر کا اعزاز اپنے پاس رکھنے والے آف سپنر کا کریئر ہی غروب ہوتا نظر آرہا ہے، بعدازاں متبادل کے طور پر سامنے آنے والے بلال آصف کا ایکشن بھی رپورٹ ہوا لیکن انہیں بائیومکینک ٹیسٹ کے بعد کلیئر قرار دیا گیا۔
ورلڈکپ میں ناکام پلاننگ کے بعد الزام تراشی اور ایک دوسرے پر ملبہ گرانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد کپتان مصباح الحق کو قربانی کا بکرا بننا پڑا، قبل ازیں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل چھوڑنے والے سینئر کرکٹر نے ون ڈے کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا،حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے قیادت اظہر علی کے سپرد کردی گئی جن کو ورلڈکپ سکواڈ کے لیے منتخب کرنا بھی ضروری خیال نہیں کیا گیا تھا، تشکیل نو کے نام پر تجربات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو سال کے اختتام تک جاری رہا۔یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ جاوید میانداد سے چھین لیا۔ کئی اور سنگ میل بھی عبور کئے۔
تاہم اس کے ساتھ پورا سال تنازعات کی بھرپور اننگز بھی کھیلی، ہیڈ کوچ وقار یونس پر ناانصافیوں کے الزامات کے بعد ون ڈے سکواڈ میں جگہ تو بنائی لیکن کارکردگی مایوس کن رہی، ڈراپ ہونے کے بعد ضد پوری کرنے کے لیے انگلینڈ کے خلاف یو اے ای میں کھیلی جانے والی سیریز کے ون ڈے سکواڈ میں واپس آئے تو پہلے میچ میں ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان اور خود کو ٹیسٹ کرکٹ تک محدود کرلیا۔
سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے پی سی بی نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا،ڈومیسٹک سیزن اور بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں عمدہ کارکردگی نے پیسر کی حامیوں کو مہم تیز کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ محمد عامر کو دورہ نیوزی لینڈ، ایشیا کپ اور ورلڈٹی ٹوئنٹی کے ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کرکے فٹنس اینڈ ٹریننگ کیمپ میں شریک کرلیا گیا لیکن اس فیصلے کے خلاف قومی کرکٹرز میں بغاوت کی چنگاریاں بڑھکیں، محمد حفیظ اور اظہر علی نے پیسر کی موجودگی میں کیمپ جوائن کرنے سے انکار کردیا، تاہم چیئرمین پی سی بی شہریار خان کے ساتھ ملاقات میں ہتھیار ڈال دیئے۔
پی سی بی کی ایک بڑی کامیابی اور ملک کے لیے اچھا شگون زمبابوے ٹیم کا دورہ پاکستان تھا۔ مختصر سیریز میں محدود اوورز کے میچز ہی کھیلے گئے لیکن 6سال بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا جشن بڑے پر جوش انداز میں منایا گیا،لاہور کی پولیس اور متعلقہ اداروں نے ان تھک محنت سے بہترین سیکیورٹی انتظامات کرتے ہوئے اس ٹور کو کامیاب بنایا۔
پی سی بی نے ایک عرصہ سے تعطل کا شکار پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کے لیے بھی مثبت پیشرفت کی۔ فروری میں شیڈول ایونٹ کے لیے 5فرنچائزٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں چند انٹرنیشنل سٹارز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، پی سی بی کی کوشش اور منت سماجت کے باوجود پاک بھارت سیریز بی سی سی آئی کی ٹال مٹول پالیسی کی نذر ہوئی، باہمی مقابلوں کا میزبانی پاکستان کو کرنا تھی، سیریز کے التوا سے بھاری آمدن کی امیدیں دم توڑ گئیں، ان حالات میں پاکستان سپر لیگ کے سفید ہاتھی کو پالنے کے لیے وسائل صرف کرنابورڈ کے لیے مالی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
مجموعی کارکردگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو ون ڈے کرکٹ میں زوال کے آثار نمایاں رہے۔ پاکستان ٹیم رینکنگ میں بمشکل آٹھویں پوزیشن محفوظ کرتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار چیمپئنز ٹرافی سے اخراج کا صدمہ اٹھانے سے بچ گئی۔تنزلی کی جانب جاری سفر نہ رکا تو آئندہ ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ بھی کھیلنا پڑ سکتا ہے۔
سال بھر میں کھیلے جانے والے 27میچز میں سے صرف 12 میں فتح نصیب ہوئی، ان میں سے بھی 5 کمزور زمباوین ٹیم کے خلاف تھیں، مصباح الحق کی قیادت میں گرین شرٹس کو نیوزی لینڈ میں0-2سے شکست ہوئی، ورلڈکپ کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا نے 6 وکٹ سے زیر کرتے ہوئے پیش قدمی روک دی،تاہم وہاب ریاض کا شین واٹسن کو طوفانی سپیل یاد گار بن گیا۔
میگا ایونٹ کے بعد ٹیم کی کمان اظہر علی کے سپرد کی گئی، پہلی سیریز انتہائی ناخوشگوار رہی، بنگلہ دیش میں ٹیم تینوں میچز میں شرمناک ناکامی سے دوچار ہوئی،زمبابوے کو ہوم گراؤنڈز پر2-0سے زیر کرنے کے بعد ٹیم نے سری لنکا کو3-2 سے قابو کرکے چیمپئنز ٹرافی میں جگہ بنائی۔ دورئہ زمبابوے میں سیریز 2-1سے جیتی، انگلینڈ کے خلاف گرین شرٹس1-3 سے ناکام رہے، محمد حفیظ 20میچز میں41.15کی اوسط سے 782 رنز بنا کر ٹاپ سکورر ثابت ہوئے، اظہر علی 775، شعیب ملک607، احمد شہزاد 570 اور سرفراز احمد 551 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ بولرز میں وہاب ریاض نے20میچز میں27.43 کی ایوریج سے32 وکٹیں حاصل کیں، محمد عرفان 24، راحت علی 18اور یاسر شاہ16 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
ٹی ٹوئنٹی میں بھی کارکردگی غیرمعمولی نہیں رہی، 10میں سے 6 میچز جیتے مگر ان میں 4 فتوحات کمزور حریف زمبابوے کے خلاف تھیں، بنگلہ دیش سے واحد میچ میں شکست ہوئی، زمبابوے پر ہوم سیریز میں2-0سے ہاتھ صاف کرنے کے بعد سری لنکا میں میزبان کو بھی اسی مارجن سے ہرایا، پھر زمبابوین سرزمین پر سیریز2-0سے جیتی، یو اے ای میں انگلینڈ کے خلاف تینوں میچز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی بھی قابل رشک نہیں تھی، صرف 4ہی نصف سنچریز بن پائیں، ان میں سے 2 مختار احمد جبکہ ایک، ایک شعیب ملک اور احمد شہزاد نے بنائیں،سال میں 4وکٹ کی واحد پرفارمنس عماد وسیم کے نام رہی، انھوں نے زمبابوے کے خلاف یہ کارنامہ محض11 رنز دے کر انجام دیا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں زیادہ استحکام نظر آیا، دورہ بنگلہ دیش میں 1-0سے کامیابی کے بعد سری لنکا میں میزبان ٹیم کو 2-1 سے زیر کیا، یواے ای میں انگلینڈ کے خلاف 2-0سے سرخرو ہونے کا انعام گرین کیپس کو رینکنگ میں تیسری پوزیشن کی صورت میں ملا، تاہم سال کا اختتام چوتھے نمبر پر کیا۔ یونس خان اور مصباح الحق کے ساتھ لیگ سپنر یاسر شاہ نے فتوحات میں اہم کردار ادا کیا، محدود اوورز کی کرکٹ میں عمدہ فارم کی بدولت 5سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی پر شعیب ملک نے انگلینڈ کے خلاف پہلے میچ میں ڈبل سنچری بنائی، تاہم بعدازاں ناکام رہنے پر طویل فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
قومی ہاکی کا حال بھی برا رہا اورورلڈ کپ کے بعد تاریخ میں پہلی بار پاکستان ٹیم اولمپکس کی دوڑ سے بھی باہر ہو گئی۔ ورلڈلیگ کے ذریعے اولمپکس میں براہ راست رسائی حاصل کرنے کے لیے گرین شرٹس کو آسٹریلیا اور کوریا کے دورے بھی کروائے گئے لیکن گرین شرٹس عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔
ورلڈلیگ میں شرمناک کارکردگی کے بعد ہاکی حلقوں میں بھونچال آ گیا، اصلاح الدین صدیقی کو چیف سیلکٹر کے عہدے سے استعفٰی دینا پڑا، عوامی اور حکومتی دباؤ پر نہ چاہتے ہوئے بھی پہلے پی ایچ ایف کے صدر اختر رسول بعد ازاں سیکرٹری رانا مجاہد علی بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے، بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر پی ایچ ایف کے نئے صدر اور شہباز سینئر سیکرٹری مقرر ہوئے، نئے عہدیداروں کو مشکلات ورثے میں ملیں، فیڈریشن کا خزانہ خالی اور باصلاحیت کھلاڑی ناپید تھے۔
پاکستان سینئر ٹیم آئندہ ایک سال تک انٹرنیشنل مقابلوں سے دور رہنے پر مجبور تھی، جونیئر گزشتہ ڈیرھ برس سے کسی بھی ایونٹ میں شرکت نہ کر سکی تھی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ذمہ داروں نے ہنگامی بنیادوں پر قومی جونیئر ٹیم منتخب کر کے اس کی سلطان آف جوہر بارو کپ میں شرکت کو یقینی بنایا۔ طاہر زمان کی کوچنگ میں گرین شرٹس عمدہ کارکردگی نہ دکھا پائے، تاہم صرف ایک ماہ کے بعد ہی قومی ٹیم نے ملائیشیا میں ہی شیڈول جونیئر ایشیا کپ میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی اور آئندہ برس بھارت میں شیڈول جونیئر ورلڈ کپ میں شرکت کا حق بھی حاصل کر لیا۔
اسلام آباد میں پی ایچ ایف اور آسٹریلیا کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے تحت دونوں ملک ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز کھیلیں گے، ماضی کے عہدیداروں کی نااہلی کی وجہ سے قومی ٹیم 2سال سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں شرکت سے محروم ہو چکی تھی، نئے سیٹ اپ کی کوششوں سے گرین شرٹس اس بار کے لیے ایونٹ کا حصہ بنیں گے، ایونٹ کے لیے قمر ابراہیم کو قومی ٹیم کا نیا ہیڈکوچ مقرر کیا گیا۔
ماضی میں ملک کی عالمی سطح پر پہچان کا اہم ذریعہ سمجھے جانے والا کھیل اسکواش میں بھی خوشگوار یادیں نہ چھوڑ سکا، تاہم ملک کو دو بڑے انٹرنیشنل ایونٹس کی میزبانی ملی، سینئرز سطح کے مقابلوں میں قومی پلیئرز کی کارکردگی واجبی سی رہی، ناصر اقبال، فرحان زمان اور دانش اطلس خان ایک، ایک پروفیشنل ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔
ناصر نے 25 ہزار جبکہ فرحان زمان اور دانش اطلس خان نے 10ہزار ڈالر انعامی رقم کے ٹورنامنٹس جیتے۔ فرحان محبوب اور عامر اطلس خان آف کلر نظر آئے، طیب اسلم بھی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم نہ کرسکے۔ ورلڈ اوپن میں بھی پاکستانی کھلاڑی کوئی تاثر نہ چھوڑ سکے۔ جونیئر لیول پر اسرار احمد نے ملک کی دو بڑے انٹرنیشنل ٹائٹلز سے عزت افزائی کی، وہ ایران میں ایشین جونیئر چیمپئن بننے کے بعد حال ہی میں یو ایس اوپن جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اسلام آباد میں تاریخ کی پہلی اسکواش اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔
فٹبال رینکنگ میں بہتری لانے کی کوششیں پی ایف ایف میں سیاسی مداخلت نے پامال کردیں۔ایک طرف کھیل کی عالمی تنظیم فکسنگ سکینڈل کی زد میں آنے کے بعد ساکھ کی بحالی کے لیے فکرمند رہی تو دوسری جانب پاکستان میں فٹبال فیڈریشن کے انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے متوازی باڈی قائم کردی گئی۔ فیفا کی جانب سے فیصل صالح حیات کو منتخب صدر پی ایف ایف تسلیم کئے جانے کے باوجود لاہور میں فیڈریشن کے دفتر کا قبضہ حاصل نہ ہو سکا۔
اس کشمکش میں فنڈز منجمند کئے جانے پر پاکستان کی متعدد ٹیمیں انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت نہ کرسکیں۔ ملک کے اندر فٹبال کی سرگرمیوں پر بھی جمود چھایا رہا، دوسری جانب اس قسم کے تنازع کا شکار رہنے کے بعد عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرلیا گیا تھا، طویل عرصہ کے بعد اولمپک ہاؤس کا قبضہ بھی مل گیا۔
ٹینس میں اعصام الحق کسی نہ کسی ایونٹ میں اپنا وجود منواتے رہے،تاہم کوئی میگا ایونٹ جیتنے کا اعزاز حاصل نہ ہوا۔ باکسنگ اور دیگر انفرادی کھیلوں میں شرکت برائے نام رہی، کوئی بڑی کامیابی ہاتھ نہ آسکی، ایشیائی سطح کے ایونٹس میں چند فتوحات نے نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ ضرور بڑھایا لیکن ایسی کارکردگی نظر نہیں آئی جس سے آئندہ اولمپک سطح پر میڈلز کی حصول کی توقعات وابستہ کی جاسکیں۔