ایران اور امریکا کے درمیان بہتر تعلقات کے مثبت اشارے
اگرایران کی معیشت دباؤسےباہرآتی ہےتوایران میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اوروہاں سیاسی تبدیلیوں کاعمل تیزہوسکتاہے
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت یا ہم آہنگی کے اثرات مشرق وسطیٰ پر بھی پڑیں گے۔ ۔فوٹو:فائل
واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کے ایرانی ہم منصب نے آیندہ چند روز میں جوہری معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
واضح رہے اس حوالے سے عالمی طاقتوں اور ایران میں معاہدہ گزشتہ سال جولائی میں ہوا تھا۔ اگرچہ اس معاہدے میں امریکا کی اپوزیشن پارٹی نے شدید مخالفت کی اور اسرائیلی وزیراعظم نے بھی امریکی کانگریس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل اس معاہدے پر عملدرآمد کی اجازت ہرگز نہیں دے گا تاہم اب جان کیری نے کہا ہے کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور انھوں نے یقین دلا دیا ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد آیندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا۔
گویا اب یہ مہینوں اور ہفتوں کی بات نہیں بلکہ محض چند دن کا معاملہ ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے والی طاقتوں میں امریکا اور اقوام متحدہ کے علاوہ یورپی یونین بھی شامل ہے۔ واشنگٹن میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔
یاد رہے امریکا نے 1979ء میں ایران کے ساتھ اس وقت تعلقات منقطع کر دیے تھے جب تہران کی امریکی ایمبیسی پر ایرانی پاسداران انقلاب نے قبضہ کر کے تمام عملے کو یرغمال بنا لیا تھا، امریکی تعلقات کے انقطاع کے ساتھ ہی ایران کے تمام بیرونی اثاثوں کو ضبط کر لیا گیا۔ جان کیری نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے مثبت اثرات پہلے ہی نظر آنے شروع ہو گئے ہیں اور اب اس معاہدے کے ڈی ریل ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ ایران کے امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار خاصے عرصے سے نظر آ رہے تھے، اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت یا ہم آہنگی کے اثرات مشرق وسطیٰ پر بھی پڑیں گے۔ ایٹمی تنازع حل ہو جاتا ہے تو امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی رشتے بھی بحال ہو جائیں گے جس سے ایرانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت ایرانی معیشت خاصی دباؤ میں ہے۔
اگر ایران کی معیشت دباؤ سے باہر آتی ہے تو ایران میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور وہاں سیاسی تبدیلیوں کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا اور دیگر ممالک کو ایران کا راستہ اپنانا چاہیے اور ایٹمی معاملات پر امریکا اور مغربی ممالک سے مثبت بات چیت کرنی چاہیے تاکہ شمالی کوریا کا تنازع بھی ختم ہو جائے۔
واضح رہے اس حوالے سے عالمی طاقتوں اور ایران میں معاہدہ گزشتہ سال جولائی میں ہوا تھا۔ اگرچہ اس معاہدے میں امریکا کی اپوزیشن پارٹی نے شدید مخالفت کی اور اسرائیلی وزیراعظم نے بھی امریکی کانگریس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل اس معاہدے پر عملدرآمد کی اجازت ہرگز نہیں دے گا تاہم اب جان کیری نے کہا ہے کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور انھوں نے یقین دلا دیا ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد آیندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا۔
گویا اب یہ مہینوں اور ہفتوں کی بات نہیں بلکہ محض چند دن کا معاملہ ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے والی طاقتوں میں امریکا اور اقوام متحدہ کے علاوہ یورپی یونین بھی شامل ہے۔ واشنگٹن میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔
یاد رہے امریکا نے 1979ء میں ایران کے ساتھ اس وقت تعلقات منقطع کر دیے تھے جب تہران کی امریکی ایمبیسی پر ایرانی پاسداران انقلاب نے قبضہ کر کے تمام عملے کو یرغمال بنا لیا تھا، امریکی تعلقات کے انقطاع کے ساتھ ہی ایران کے تمام بیرونی اثاثوں کو ضبط کر لیا گیا۔ جان کیری نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے مثبت اثرات پہلے ہی نظر آنے شروع ہو گئے ہیں اور اب اس معاہدے کے ڈی ریل ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ ایران کے امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار خاصے عرصے سے نظر آ رہے تھے، اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت یا ہم آہنگی کے اثرات مشرق وسطیٰ پر بھی پڑیں گے۔ ایٹمی تنازع حل ہو جاتا ہے تو امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی رشتے بھی بحال ہو جائیں گے جس سے ایرانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت ایرانی معیشت خاصی دباؤ میں ہے۔
اگر ایران کی معیشت دباؤ سے باہر آتی ہے تو ایران میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور وہاں سیاسی تبدیلیوں کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا اور دیگر ممالک کو ایران کا راستہ اپنانا چاہیے اور ایٹمی معاملات پر امریکا اور مغربی ممالک سے مثبت بات چیت کرنی چاہیے تاکہ شمالی کوریا کا تنازع بھی ختم ہو جائے۔