ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات

بلوچستان کا 750 کلو میٹر اور سندھ کا 350 کلومیٹر علاقہ سمندر برد ہو چکا ہے جب کہ مزید تباہی کا زبردست خطرہ ہے

وفاقی اور صوبائی حکومت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔ فوٹو؛ فائل

سینیٹ ذیلی کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان کا 750 کلو میٹر اور سندھ کا 350 کلومیٹر علاقہ سمندر برد ہو چکا ہے جب کہ مزید تباہی کا زبردست خطرہ ہے جس سے بچنے کے لیے متعلقہ اداروں، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اس نہایت اہم معاملے کی سنگین نوعیت کو سمجھ کر اس کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے، اگر ابھی بھی اقدامات نہ کیے گئے تو آنیوالی نسلوں کو بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑیگا۔

ڈپٹی چیف وزارت دفاع نے بتایا کہ سمندر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ چیئرمین ارسا نے بتایا کہ سمندر کے پھیلاؤ کے حوالے سے 2004-5ء میں رپورٹ تیار کی گئی تھی جس میں دنیا کے ماہرین پر مشتمل پینل نے کچھ ہدایت تجویز کی تھیں مگر ان پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔


اس صورت حال سے سندھ میں سجاول، بدین، ٹھٹہ کا علاقہ متاثر ہوا ہے، چیئرمین ارسا نے کہا کہ پاکستان سے400 ٹن ملین سالٹ سمندر میں جاتی تھی، اب 126 ملین ٹن جا رہی ہے اور جب انڈس ڈیلٹا کو مقررہ مقدار میں میٹھا پانی میسر نہیں ہو گا تو یہ مسائل سامنے آئینگے۔

یہ مسئلہ بڑے ڈیم سے حل ہو سکتا ہے تاہم یہ بات کی سمجھ نہیں آتی کہ کسی بڑی وجہ کو بہانہ بنا کر حد سے زیادہ اہمیت کے حامل مسائل سے چشم پوشی اختیارکر لی جاتی ہے اور مسئلہ کو متبادل ذرائع سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور اس طرح ملک و قوم کا نا قابل تلافی نقصان کیا جاتا ہے۔ ویسے یہ بھی ایک اعتبار سے گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک و قوم کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصان سے بچایا جا سکے۔
Load Next Story