حیرت انگیز پیش گوئیاں
اب شہروں میں رہنے اور بڑے ہونے والے خوش حال بچوں کی اکثریت ہارر اسکوپ تو خریدتی ہے
zahedahina@gmail.com
اب شہروں میں رہنے اور بڑے ہونے والے خوش حال بچوں کی اکثریت ہارر اسکوپ تو خریدتی ہے لیکن یہ بچے جنتری سے ناواقف ہوتے ہیں جب کہ دس بیس برس پہلے تک بیشتر گھروں کا نظام جنتری کے بغیر نہیں چلتا تھا۔ کون سی تاریخ سعد ہے اور کون سی نحس، کب سفر کرنا چاہیے اور کب گھر سے باہر قدم نکالنا بلاؤں کو دعوت دینے کا سبب بنے گا۔ شادیوں کا موسم آتا اور بڑی بوڑھیاں جنتری لے کر بیٹھ جاتیں۔ لڑکی کو مایوں کب بٹھایا جائے اور نکاح کس گھنٹے گھڑی میں ہو۔ ایسی ہی دوسری متعدد باتیں۔ رات کو دیکھے جانے والے خواب کی تعبیر بھی جنتری میں ڈھونڈی جاتی۔ فارسی، اردو اور پنجابی میں سال بہ سال شائع ہونے والی یہ جنتریاں اپنے اندر رموز و اسرار کا ایک جہان معانی رکھتی تھیں۔
یہ باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ ایک چینی جوڑا جو نیویارک میں رہتا ہے، 2010ء سے ہر سال انگریزی میں چینی جنتری چھاپتا ہے اور ہزاروں کاپیاں بیچ لیتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جناب ماؤ کا سارا دور اور ثقافتی انقلاب کا زمانہ گزر گیا، اس کے باوجود چینی جنتری کسانوں اور دیہاتیوں کے گھروں میں آرام کرتی رہی۔ آج بھی بے شمار چینی اس کی روشنی میں فصل بوتے ہیں اور اسی کی رہنمائی میں اپنے روزمرہ مسائل حل کرتے ہیں۔
ایسے میں برسوں پرانی اپنی ایک تحریر یاد آئی جس میں بیسویں صدی کے ایک آئرش ماہر علم نجوم اور دست شناس 'کیرو' کی ان پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا تھا جو ایک کتاب کی شکل میں 1927ء میں شائع ہوئی تھیں اور جنھوں نے ہندوستان، یورپ اور امریکا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔
کیرو ایک آئرش گھرانے میں 1866ء کو پیدا ہوا اور 1936ء میں اس دارِفانی سے کوچ کرگیا۔ وہ اپنے زمانے کا مشہور ترین ستارہ شناس اور دست شناس تھا۔ 17 برس کی عمر میں ہندوستان آیا، جہاں اس نے 3 برس گزارے، ماہر ستارہ شناسوں اور دست شناسوں کی خدمت میں حاضری دی اور جب واپس گیا تو لندن میں اس نے اپنا دفتر کھولا۔ ایک شخص اس سے ملنے آیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اس کی طرف بڑھا دیں۔
وہ اس کی لکیروں کو دیکھتا رہا اور پھر اسے بتایا کہ تم کچھ دنوں میں ایک طاقتور سیاسی رہنما ہونے والے ہو۔ یہ آرتھر بالفور کی ہتھیلیاں تھیں جو 1902ء میں اس انگلستان کا وزیر اعظم بنا جس پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس پیش گوئی کے درست ثابت ہونے کے سبب وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور اس کے بعد اس کا تعاقب کرنے والے امیر و کبیر حضرات اور خواتین کی کوئی کمی نہ تھی۔
'ورلڈ پری ڈکشن' کے نام سے 1927ء میں کیرو کی ایک ضخیم کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب میں کیرو نے لکھا کہ آیندہ برسوں میں ہندوستان کو قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لوگوں میں سیاسی بے چینی پھیل جائے گی اور مذہبی اور سیاسی نوعیت کے فسادات ملک کے طول و عرض میں رونما ہوں گے۔ ہندوستان جو تاج برطانیہ کا انمول ہیرا ہے، عنقریب برطانوی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گا۔ عوامی بے چینی روز بروز بڑھتی چلی جائے گی اور طویل عرصے تک ہندوستان میں کسی قسم کے سیاسی استحکام یا امن کا نشان نہیں ملتا۔ ہندوستانی عوام سے برطانوی حکومت کی تمام مصالحتی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔
ہندوستانی عورتیں پردے کی قید سے آزاد ہو کر میدان سیاست میں نکل آئیں گی اور برطانوی حکومت سے نجات پانے کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں میں جی جان سے حصہ لیں گی۔
برطانوی اشیا کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور پورے ہندوستان میں ''دیسی مال'' کے استعمال کی تحریک زور پکڑے گی۔ اس صورت حال سے جاپان فائدہ اٹھائے گا اور وہ ہندوستانی مارکیٹ کے ان حصوں پر قابض ہو جائے گا جنھیں پُر کرنے کے لیے دیسی مال موجود نہ ہو گا۔ برصغیر کے بارے میں اس نے مزید لکھا کہ برطانیہ ہندوستان کو آزاد کر دے گا۔ مذہبی فسادات ملک کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک روند ڈالیں گے اور آخرکار ہندوستان کو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مذہبی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے گا۔
ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مذہبی اور سیاسی فسادات، قحط بنگال، عورتوں کی آزادی، 1930ء میں بدیسی مال کا بائیکاٹ اور 1947ء میں مذہبی بنیادوں پر برصغیر کی تقسیم نے کیرو کی بیان کردہ تمام پیش گوئیوں کو حرف بہ حرف درست ثابت کیا۔
1927ء میں کیرو نے پرنس آف ویلز ایڈورڈ ہشتم کے بارے میں لکھا تھا کہ ''موجودہ پرنس آف ویلز پر اثرانداز ہونے والے ستاروں کی حرکات کچھ ایسے حالات کی نشان دہی کرتی ہیں جن کے سبب یہ مقبول اور ہر دلعزیز شہزادہ عشق بلاخیز کا شکار ہو جائے گا اور وہ اپنی محبت کی خاطر تاج برطانیہ کو اپنی ٹھوکر میں رکھے گا لیکن محبوبہ سے جدائی گوارا نہ کرے گا۔
اس تمام صورتِ حال کی ذمے داری شاہی شادیوں کے قانون پر عائد ہو گی۔'' اس پیش گوئی کے چند سال بعد شہزادہ ایک مطلقہ امریکی خاتون مسز سمپسن کی محبت میں گرفتار ہوا، ایڈورڈ ہشتم نے اس سے شادی کرنی چاہی تو شاہی خاندان، پارلیمنٹ اور عوام کی شدید مخالفت کی بنا پر اسے اندازہ ہوا کہ ایک طرف تخت ہے اور دوسری طر ف محبت۔ اس نازک مرحلے پر ایڈورڈ ہشتم نے محبت کی خاطر تخت سے دستبرداری کا جو فیصلہ کیا وہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ اس طرح نو سال بعد 1936ء میں کیرو کی یہ سنسنی خیز اور ناقابلِ یقین پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
1927ء میں کیرو نے لکھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی تقدیر میں فضائی برتری ہے۔ طیاروں اور ہوا میں اڑنے والی دوسری مشینوں کی ایجاد و اختراع کے سلسلے میں امریکا کو دوسری اقوام پر بالادستی حاصل ہو گی۔ کیرو کی اس پیش گوئی کے درست ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فضائی بالادستی کی جو دوڑ اور خلائی تسخیر کا جو دور شروع ہوا اور جس میں روس 4 اکتوبر 1957ء کو پہلا مصنوعی سیارہ چھوڑ کر بڑی حد تک آگے نکل گیا تھا، 1969ء میں انسان کو چاند پر اتار دینے کے بعد امریکا نے خلا کی تسخیر کر کے اپنی برتری ثابت کر دی۔
آج اس کے خلائی جہاز مریخ پر جا رہے ہیں اور کائنات کی انتہاؤں میں جھانک رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم 1939ء میں شروع ہوئی۔ اس سے 12 سال پیشتر کیرو نے اس دوسری عالمی جنگ کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر دلی صدمہ ہوتا ہے کہ ایک بار پھر ستارے اسی انداز سے اکٹھا ہو رہے ہیں جس طرح گزشتہ عالمی جنگ میں اکٹھا ہوئے تھے۔
جرمنی کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے اس نے 1927ء میں لکھا تھا کہ اپنے بیس لاکھ نوجوانوں کی قربانی دینے اور تقریباً دس سال پہلے ختم ہونے والی عالمی جنگ میں بری طرح تباہ ہو جانے کے باوجود جرمن قوم کی روح کو پابند نہیں کیا جا سکا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب جرمنی ایک بار پھر یورپ کی عظیم ترین قوت بن کر ابھرے گا اور جون 1931ء کا زمانہ خاص طور پر جرمن قوم کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہو گا۔ ایک عسکری نظام عنقریب جرمنی پر اپنا تسلط جمانے والا ہے۔
اس عسکری نظام کے تحت پوری جرمن قوم ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جائے گی اور اس عسکری نظام کے سربراہ کی کوششوں سے آیندہ عالمی جنگ میں جرمنی کو روس کا تعاون حاصل ہو گا۔ جرمنی کے باب میں بھی کیرو کی پیش گوئیوں کی تصدیق تاریخ کے صفحات کرتے ہیں۔
اس کی عالمی پیش گوئیوں میں اسرائیل، عرب اقوام اور ہندوستان کے نام آتے ہیں ۔ اس نے لکھا کہ یورپی کرسچن یہودیوں کی مدد کریں گے اور انھیں فلسطین میں آباد کریں گے۔ یورپین اقوام کا یہ اقدام عرب مسلمانوں کو نہایت اشتعال دلائے گا اور وہ انگلستان اور امریکا پر مختلف انداز سے حملے کریں گے۔
اسرائیل سے جنگ کریں گے لیکن اسرائیل عربوں کی زمین کے ایک بڑے ٹکڑے پر قابض ہو جائے گا۔ اس نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے بہت پہلے دوسری عظیم عالمی جنگ کی پیش گوئی کی تھی۔ اسی طرح اس نے اس جنگ کے دوران روسی نوجوانوں کا خون یوں بہنے کی پیش گوئی کی تھی جیسے دریا لہریں لیتا ہے۔ یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران دو کروڑوں روسیوں کا خون بہا تھا۔
یہ وہ باتیں ہیں جنھیں توہم کا کارخانہ کہیے لیکن اسے کیا کہیں کہ ناسڑا ڈیمس سے کیرو تک ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جو مستقبل بینی کے دعویدار تھے اور ان کی بعید ازقیاس پیش گوئیاں ان کے چلے جانے کے بعد بھی پوری ہوتی رہیں اور لوگوں کو حیران کرتی رہیں۔ بات چینی جنتری سے شروع ہوئی تھی، اس کے مطابق 2016ء موسمیاتی تباہیوں کا سال ہو گا۔
کہیں قیامت خیز سیلاب آئیں گے اور کہیں ایسا سوکھا پڑے گا کہ لوگ پانی کی بوند کو ترسیں گے۔ امریکا اور کینیڈا سنگین مسائل سے دوچار ہوں گے اور کوریا، جاپان اور شمالی چین وباؤں کا شکار ہوں گے۔ پیش گوئیوں کا دور بیسویں صدی کے اختتام کے ساتھ رخصت ہو رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں مستقبل بینی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصے میں آئی ہے اور اس کے مظاہر ہم سب دیکھ رہے ہیں۔
یہ باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ ایک چینی جوڑا جو نیویارک میں رہتا ہے، 2010ء سے ہر سال انگریزی میں چینی جنتری چھاپتا ہے اور ہزاروں کاپیاں بیچ لیتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جناب ماؤ کا سارا دور اور ثقافتی انقلاب کا زمانہ گزر گیا، اس کے باوجود چینی جنتری کسانوں اور دیہاتیوں کے گھروں میں آرام کرتی رہی۔ آج بھی بے شمار چینی اس کی روشنی میں فصل بوتے ہیں اور اسی کی رہنمائی میں اپنے روزمرہ مسائل حل کرتے ہیں۔
ایسے میں برسوں پرانی اپنی ایک تحریر یاد آئی جس میں بیسویں صدی کے ایک آئرش ماہر علم نجوم اور دست شناس 'کیرو' کی ان پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا تھا جو ایک کتاب کی شکل میں 1927ء میں شائع ہوئی تھیں اور جنھوں نے ہندوستان، یورپ اور امریکا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔
کیرو ایک آئرش گھرانے میں 1866ء کو پیدا ہوا اور 1936ء میں اس دارِفانی سے کوچ کرگیا۔ وہ اپنے زمانے کا مشہور ترین ستارہ شناس اور دست شناس تھا۔ 17 برس کی عمر میں ہندوستان آیا، جہاں اس نے 3 برس گزارے، ماہر ستارہ شناسوں اور دست شناسوں کی خدمت میں حاضری دی اور جب واپس گیا تو لندن میں اس نے اپنا دفتر کھولا۔ ایک شخص اس سے ملنے آیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اس کی طرف بڑھا دیں۔
وہ اس کی لکیروں کو دیکھتا رہا اور پھر اسے بتایا کہ تم کچھ دنوں میں ایک طاقتور سیاسی رہنما ہونے والے ہو۔ یہ آرتھر بالفور کی ہتھیلیاں تھیں جو 1902ء میں اس انگلستان کا وزیر اعظم بنا جس پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس پیش گوئی کے درست ثابت ہونے کے سبب وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور اس کے بعد اس کا تعاقب کرنے والے امیر و کبیر حضرات اور خواتین کی کوئی کمی نہ تھی۔
'ورلڈ پری ڈکشن' کے نام سے 1927ء میں کیرو کی ایک ضخیم کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب میں کیرو نے لکھا کہ آیندہ برسوں میں ہندوستان کو قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لوگوں میں سیاسی بے چینی پھیل جائے گی اور مذہبی اور سیاسی نوعیت کے فسادات ملک کے طول و عرض میں رونما ہوں گے۔ ہندوستان جو تاج برطانیہ کا انمول ہیرا ہے، عنقریب برطانوی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گا۔ عوامی بے چینی روز بروز بڑھتی چلی جائے گی اور طویل عرصے تک ہندوستان میں کسی قسم کے سیاسی استحکام یا امن کا نشان نہیں ملتا۔ ہندوستانی عوام سے برطانوی حکومت کی تمام مصالحتی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔
ہندوستانی عورتیں پردے کی قید سے آزاد ہو کر میدان سیاست میں نکل آئیں گی اور برطانوی حکومت سے نجات پانے کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں میں جی جان سے حصہ لیں گی۔
برطانوی اشیا کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور پورے ہندوستان میں ''دیسی مال'' کے استعمال کی تحریک زور پکڑے گی۔ اس صورت حال سے جاپان فائدہ اٹھائے گا اور وہ ہندوستانی مارکیٹ کے ان حصوں پر قابض ہو جائے گا جنھیں پُر کرنے کے لیے دیسی مال موجود نہ ہو گا۔ برصغیر کے بارے میں اس نے مزید لکھا کہ برطانیہ ہندوستان کو آزاد کر دے گا۔ مذہبی فسادات ملک کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک روند ڈالیں گے اور آخرکار ہندوستان کو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مذہبی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے گا۔
ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مذہبی اور سیاسی فسادات، قحط بنگال، عورتوں کی آزادی، 1930ء میں بدیسی مال کا بائیکاٹ اور 1947ء میں مذہبی بنیادوں پر برصغیر کی تقسیم نے کیرو کی بیان کردہ تمام پیش گوئیوں کو حرف بہ حرف درست ثابت کیا۔
1927ء میں کیرو نے پرنس آف ویلز ایڈورڈ ہشتم کے بارے میں لکھا تھا کہ ''موجودہ پرنس آف ویلز پر اثرانداز ہونے والے ستاروں کی حرکات کچھ ایسے حالات کی نشان دہی کرتی ہیں جن کے سبب یہ مقبول اور ہر دلعزیز شہزادہ عشق بلاخیز کا شکار ہو جائے گا اور وہ اپنی محبت کی خاطر تاج برطانیہ کو اپنی ٹھوکر میں رکھے گا لیکن محبوبہ سے جدائی گوارا نہ کرے گا۔
اس تمام صورتِ حال کی ذمے داری شاہی شادیوں کے قانون پر عائد ہو گی۔'' اس پیش گوئی کے چند سال بعد شہزادہ ایک مطلقہ امریکی خاتون مسز سمپسن کی محبت میں گرفتار ہوا، ایڈورڈ ہشتم نے اس سے شادی کرنی چاہی تو شاہی خاندان، پارلیمنٹ اور عوام کی شدید مخالفت کی بنا پر اسے اندازہ ہوا کہ ایک طرف تخت ہے اور دوسری طر ف محبت۔ اس نازک مرحلے پر ایڈورڈ ہشتم نے محبت کی خاطر تخت سے دستبرداری کا جو فیصلہ کیا وہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ اس طرح نو سال بعد 1936ء میں کیرو کی یہ سنسنی خیز اور ناقابلِ یقین پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
1927ء میں کیرو نے لکھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی تقدیر میں فضائی برتری ہے۔ طیاروں اور ہوا میں اڑنے والی دوسری مشینوں کی ایجاد و اختراع کے سلسلے میں امریکا کو دوسری اقوام پر بالادستی حاصل ہو گی۔ کیرو کی اس پیش گوئی کے درست ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فضائی بالادستی کی جو دوڑ اور خلائی تسخیر کا جو دور شروع ہوا اور جس میں روس 4 اکتوبر 1957ء کو پہلا مصنوعی سیارہ چھوڑ کر بڑی حد تک آگے نکل گیا تھا، 1969ء میں انسان کو چاند پر اتار دینے کے بعد امریکا نے خلا کی تسخیر کر کے اپنی برتری ثابت کر دی۔
آج اس کے خلائی جہاز مریخ پر جا رہے ہیں اور کائنات کی انتہاؤں میں جھانک رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم 1939ء میں شروع ہوئی۔ اس سے 12 سال پیشتر کیرو نے اس دوسری عالمی جنگ کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر دلی صدمہ ہوتا ہے کہ ایک بار پھر ستارے اسی انداز سے اکٹھا ہو رہے ہیں جس طرح گزشتہ عالمی جنگ میں اکٹھا ہوئے تھے۔
جرمنی کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے اس نے 1927ء میں لکھا تھا کہ اپنے بیس لاکھ نوجوانوں کی قربانی دینے اور تقریباً دس سال پہلے ختم ہونے والی عالمی جنگ میں بری طرح تباہ ہو جانے کے باوجود جرمن قوم کی روح کو پابند نہیں کیا جا سکا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب جرمنی ایک بار پھر یورپ کی عظیم ترین قوت بن کر ابھرے گا اور جون 1931ء کا زمانہ خاص طور پر جرمن قوم کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہو گا۔ ایک عسکری نظام عنقریب جرمنی پر اپنا تسلط جمانے والا ہے۔
اس عسکری نظام کے تحت پوری جرمن قوم ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن جائے گی اور اس عسکری نظام کے سربراہ کی کوششوں سے آیندہ عالمی جنگ میں جرمنی کو روس کا تعاون حاصل ہو گا۔ جرمنی کے باب میں بھی کیرو کی پیش گوئیوں کی تصدیق تاریخ کے صفحات کرتے ہیں۔
اس کی عالمی پیش گوئیوں میں اسرائیل، عرب اقوام اور ہندوستان کے نام آتے ہیں ۔ اس نے لکھا کہ یورپی کرسچن یہودیوں کی مدد کریں گے اور انھیں فلسطین میں آباد کریں گے۔ یورپین اقوام کا یہ اقدام عرب مسلمانوں کو نہایت اشتعال دلائے گا اور وہ انگلستان اور امریکا پر مختلف انداز سے حملے کریں گے۔
اسرائیل سے جنگ کریں گے لیکن اسرائیل عربوں کی زمین کے ایک بڑے ٹکڑے پر قابض ہو جائے گا۔ اس نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے بہت پہلے دوسری عظیم عالمی جنگ کی پیش گوئی کی تھی۔ اسی طرح اس نے اس جنگ کے دوران روسی نوجوانوں کا خون یوں بہنے کی پیش گوئی کی تھی جیسے دریا لہریں لیتا ہے۔ یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران دو کروڑوں روسیوں کا خون بہا تھا۔
یہ وہ باتیں ہیں جنھیں توہم کا کارخانہ کہیے لیکن اسے کیا کہیں کہ ناسڑا ڈیمس سے کیرو تک ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جو مستقبل بینی کے دعویدار تھے اور ان کی بعید ازقیاس پیش گوئیاں ان کے چلے جانے کے بعد بھی پوری ہوتی رہیں اور لوگوں کو حیران کرتی رہیں۔ بات چینی جنتری سے شروع ہوئی تھی، اس کے مطابق 2016ء موسمیاتی تباہیوں کا سال ہو گا۔
کہیں قیامت خیز سیلاب آئیں گے اور کہیں ایسا سوکھا پڑے گا کہ لوگ پانی کی بوند کو ترسیں گے۔ امریکا اور کینیڈا سنگین مسائل سے دوچار ہوں گے اور کوریا، جاپان اور شمالی چین وباؤں کا شکار ہوں گے۔ پیش گوئیوں کا دور بیسویں صدی کے اختتام کے ساتھ رخصت ہو رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں مستقبل بینی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصے میں آئی ہے اور اس کے مظاہر ہم سب دیکھ رہے ہیں۔