پاکستان سے تجارت2ارب ڈالرتک بڑھاناممکن ہےکینیڈین وفد
سربراہ آل پاکستان بزنس فورم سے ملاقات،تعاون کیلیے شعبوں کی نشاندہی کی
کینیڈا وفد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مددگار ثابت ہوگا فوٹو: اے ایف پی/فائل
HANGU:
پاکستان اور کینیڈا توانائی، فرٹیلائزر، تعلیم، زراعت اور دیگر چھوٹے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھا کر مختصر عرصے میں باہمی تجارت کے حجم کو2ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔
یہ بات کینیڈین صوبے اونٹاریو کی قانون ساز اسمبلی کے وفد کے سربراہ اور اپوزیشن رہنما پیٹرک براؤن نے آل پاکستان بزنس فورم (اے پی بی ایف) کے صدرابراہیم قریشی سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر پاکستانی نژاد کینیڈین سینیٹر سلمی عطاء اللہ، کینیڈا پاکستان بزنس کونسل کے صدر سمیر ڈوسل اور قائم مقام کینیڈین ہائی کمشنر اینڈریو ٹرنر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
کینیڈین وفد کے سربراہ پیٹرک براؤن نے کہا کہ اس وقت اونٹاریو میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ساڑھے 3لاکھ کے لگ بھگ ہے اور مقامی ترقی میں وہاں مقیم پاکستانیوں کی تیسری، چوتھی نسل تجارتی اور دیگر شعبوں میں اپنا مفید کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ کینیڈین عوام بھی پاکستان اور پاکستانی عوام کی ترقی و فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں اور یہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پل کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ تعاون کے لیے مختلف شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ توانائی،فرٹیلائزر،تعلیم اور زرعی شعبوں میں کینیڈین سرمایہ کاری اور تکینکی معاونت کے وسیع مواقع موجود ہیں، کینیڈین کاروباری افراد پاکستان کی تیزترقی کرتی ہوئی صارف مارکیٹ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر آل پاکستان بزنس فورم اور کینیڈا پاکستان بزنس کونسل نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی اتفاق ظاہر کیا۔
فورم کے صدرابراہیم قریشی نے کہا کہ لائیو اسٹاک اور زراعت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کینیڈا وفد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مددگار ثابت ہوگا اور دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں مدد مل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف غذائی میدان میں خود کفیل ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی غذائی اجناس برآمد کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر کینیڈا پاکستان بزنس کونسل کے صدر سمیر ڈوسل نے کہا کہ کینیڈین حکومت پاکستان کے ساتھ وسیع البنیاد تجارتی تعلقات کی خواہاں ہے، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے کی ضرورت ہے، پاکستان سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے محفوظ ملک ہے اور کینیڈا یقینی طور پر خطے کے اہم ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کی خواہش رکھتا ہے۔
پاکستان اور کینیڈا توانائی، فرٹیلائزر، تعلیم، زراعت اور دیگر چھوٹے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھا کر مختصر عرصے میں باہمی تجارت کے حجم کو2ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔
یہ بات کینیڈین صوبے اونٹاریو کی قانون ساز اسمبلی کے وفد کے سربراہ اور اپوزیشن رہنما پیٹرک براؤن نے آل پاکستان بزنس فورم (اے پی بی ایف) کے صدرابراہیم قریشی سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر پاکستانی نژاد کینیڈین سینیٹر سلمی عطاء اللہ، کینیڈا پاکستان بزنس کونسل کے صدر سمیر ڈوسل اور قائم مقام کینیڈین ہائی کمشنر اینڈریو ٹرنر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
کینیڈین وفد کے سربراہ پیٹرک براؤن نے کہا کہ اس وقت اونٹاریو میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ساڑھے 3لاکھ کے لگ بھگ ہے اور مقامی ترقی میں وہاں مقیم پاکستانیوں کی تیسری، چوتھی نسل تجارتی اور دیگر شعبوں میں اپنا مفید کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ کینیڈین عوام بھی پاکستان اور پاکستانی عوام کی ترقی و فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں اور یہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پل کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ تعاون کے لیے مختلف شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ توانائی،فرٹیلائزر،تعلیم اور زرعی شعبوں میں کینیڈین سرمایہ کاری اور تکینکی معاونت کے وسیع مواقع موجود ہیں، کینیڈین کاروباری افراد پاکستان کی تیزترقی کرتی ہوئی صارف مارکیٹ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر آل پاکستان بزنس فورم اور کینیڈا پاکستان بزنس کونسل نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی اتفاق ظاہر کیا۔
فورم کے صدرابراہیم قریشی نے کہا کہ لائیو اسٹاک اور زراعت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کینیڈا وفد کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مددگار ثابت ہوگا اور دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں مدد مل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف غذائی میدان میں خود کفیل ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی غذائی اجناس برآمد کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر کینیڈا پاکستان بزنس کونسل کے صدر سمیر ڈوسل نے کہا کہ کینیڈین حکومت پاکستان کے ساتھ وسیع البنیاد تجارتی تعلقات کی خواہاں ہے، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے کی ضرورت ہے، پاکستان سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے محفوظ ملک ہے اور کینیڈا یقینی طور پر خطے کے اہم ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کی خواہش رکھتا ہے۔