اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے حق پر چیف جسٹس کے ریمارکس
دیارِ غیر میں برسوں سے آباد پاکستانی بھی وطن کی محبت سے اتنے ہی سرشار ہیں جتنا ملک میں رہنے والا ایک عام پاکستانی.
بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے لیے زرمبادلہ کماتے ہیں,چیف جسٹس فوٹو: آن لائن/فائل
چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ حق کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے لیے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کماتے ہیں۔ان کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کل انتخابات کا اعلان ہوگا تو اس عمل میں خاصا وقت لگ سکتا ہے اس لیے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان اور جماعت اسلامی کی جانب سے بوگس ووٹرز کے اندراج سے متعلق درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے سے بوگس ووٹنگ کا اندیشہ ہے، چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ اوورسیز کو ووٹ کے حوالے سے 20 سے 25 ملکوں نے پوسٹل بیلٹ کا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ دوران سماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی افسر پیش نہیں ہوا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن والے ابھی تک عید منانے گئے ہوئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کے قوانین میں ہے کہ ووٹر اپنے مستقل یا عارضی جس پتے پر چاہے ووٹ بنوا سکتا ہے۔
عدالت نے تارکین وطن پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے دائر درخواستیں جعلی ووٹر فہرستوںکے مقدمے کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ حق سے متعلق چیف جسٹس کے یہ ریمارکس قابل تحسین ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد سے ملکی امور میں عدالت عظمیٰ کا کردار تمام اداروں سے نمایاں رہا ہے۔ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں چیف جسٹس کی بحالی کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے ہر اس معاملے پر از خود نوٹس لیا ہے جسے حکمران نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
اب اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم جلد ہی ایک اور خوشخبری سنے گی۔ دیارِ غیر میں برسوں سے آباد پاکستانی بھی وطن کی محبت سے اتنے ہی سرشار ہیں جتنا ملک میں رہنے والا ایک عام پاکستانی، ایسے میں ملک کے لیے اربِوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے والے تارکین وطن کو ووٹ کے حق سے محروم کردینا ظلم کے مترادف ہے۔ جہاں تک بات انتخابی دھاندلیوں اور بوگس ووٹنگ کی آتی ہے تو اس کے لیے شفاف طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ چیف جسٹس نے پوسٹل بیلٹ کے طریقے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن تندہی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے اور بروقت اقدامات کرتے ہوئے تمام سقم دور کرلیے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ شفاف انتخابات کا انعقاد عمل میں نہ آسکے۔ اصل بات بیرون وطن پاکستانیوں کی اپنے وطن سے محبت اور جمہوریت کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ ہے۔
وہ پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے اہل اقتدار کو ان کو یہ حق دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ چیف جسٹس نے جمہوری بیس کو وسعت دینے کی بات کی ہے اور بیرون ملک مقیم ہموطنوں کو ووٹ کا حق دینے کے استدلال کو جس مثبت انداز میں پیش کیا ہے وہ انتخابات کے عمل کو بھی اعتبار اور وقار بخشنے کی طرف ایک خوش آیند علامت ہے۔ یہ امور چونکہ عدلیہ میں زیر بحث ہیں اس لیے ان پر زیادہ رائے زنی مناسب نہیں تاہم اس یقین کا اظہار کرنا جمہوریت کے مفاد میں ہے کہ ووٹ بیس میں توسیع سے ایک طرف بیرون ملک پاکستانیوں کی شراکت کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے تو دوسری طرف ان سیاسی حلقوں کو اطمینان حاصل ہوگا جو یہ سمجھتے ہیں کہ لاکھوں پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا مناسب نہیں ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کل انتخابات کا اعلان ہوگا تو اس عمل میں خاصا وقت لگ سکتا ہے اس لیے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان اور جماعت اسلامی کی جانب سے بوگس ووٹرز کے اندراج سے متعلق درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن میں ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے سے بوگس ووٹنگ کا اندیشہ ہے، چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ اوورسیز کو ووٹ کے حوالے سے 20 سے 25 ملکوں نے پوسٹل بیلٹ کا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ دوران سماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی افسر پیش نہیں ہوا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن والے ابھی تک عید منانے گئے ہوئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کے قوانین میں ہے کہ ووٹر اپنے مستقل یا عارضی جس پتے پر چاہے ووٹ بنوا سکتا ہے۔
عدالت نے تارکین وطن پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے دائر درخواستیں جعلی ووٹر فہرستوںکے مقدمے کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ حق سے متعلق چیف جسٹس کے یہ ریمارکس قابل تحسین ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد سے ملکی امور میں عدالت عظمیٰ کا کردار تمام اداروں سے نمایاں رہا ہے۔ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں چیف جسٹس کی بحالی کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے ہر اس معاملے پر از خود نوٹس لیا ہے جسے حکمران نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
اب اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم جلد ہی ایک اور خوشخبری سنے گی۔ دیارِ غیر میں برسوں سے آباد پاکستانی بھی وطن کی محبت سے اتنے ہی سرشار ہیں جتنا ملک میں رہنے والا ایک عام پاکستانی، ایسے میں ملک کے لیے اربِوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے والے تارکین وطن کو ووٹ کے حق سے محروم کردینا ظلم کے مترادف ہے۔ جہاں تک بات انتخابی دھاندلیوں اور بوگس ووٹنگ کی آتی ہے تو اس کے لیے شفاف طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ چیف جسٹس نے پوسٹل بیلٹ کے طریقے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن تندہی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے اور بروقت اقدامات کرتے ہوئے تمام سقم دور کرلیے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ شفاف انتخابات کا انعقاد عمل میں نہ آسکے۔ اصل بات بیرون وطن پاکستانیوں کی اپنے وطن سے محبت اور جمہوریت کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ ہے۔
وہ پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے اہل اقتدار کو ان کو یہ حق دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ چیف جسٹس نے جمہوری بیس کو وسعت دینے کی بات کی ہے اور بیرون ملک مقیم ہموطنوں کو ووٹ کا حق دینے کے استدلال کو جس مثبت انداز میں پیش کیا ہے وہ انتخابات کے عمل کو بھی اعتبار اور وقار بخشنے کی طرف ایک خوش آیند علامت ہے۔ یہ امور چونکہ عدلیہ میں زیر بحث ہیں اس لیے ان پر زیادہ رائے زنی مناسب نہیں تاہم اس یقین کا اظہار کرنا جمہوریت کے مفاد میں ہے کہ ووٹ بیس میں توسیع سے ایک طرف بیرون ملک پاکستانیوں کی شراکت کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے تو دوسری طرف ان سیاسی حلقوں کو اطمینان حاصل ہوگا جو یہ سمجھتے ہیں کہ لاکھوں پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا مناسب نہیں ہے۔