مزید ٹیکس لگانے کی تیاریاں 

حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کو تسلیم کرے تاکہ اسے قرضے کی اقساط ملتی رہیں۔

اگر حکمران طبقہ اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی نہیں لاتا اور غیر ترقیاتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں تو اس سے معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو سکے گی۔ فوٹو: فائل

اخباری اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت 75ارب روپے سے زائد مالیت کے نئے ٹیکس لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے تحت تین سال میں ٹیکسوں میں چھوٹ اور رعایت ختم کی جا رہی ہے۔ حکومت پہلے ہی اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ اور رعایت ختم کر چکی ہے۔ ٹیکس نیٹ ضرور بڑھایا جانا چاہیے لیکن اس کا ہدف اشرافیہ کو ہونا چاہیے۔ مختلف اشیاء اور خدمات پر ٹیکس عائد کر کے عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔


ایک طرف روپے کی قیمت میں مسلسل کمی اور ڈالر کی عمودی پرواز نے اشیائے ضرورت کی مہنگائی کو مہمیز دے رکھی ہے اور نرخوں میں ہر روز اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے لہٰذا کوئی بھی نیا ٹیکس عائد کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ نہ ہو۔ حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کو تسلیم کرے تاکہ اسے قرضے کی اقساط ملتی رہیں۔ لیکن متوسط اور غریب طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔ ہمارا کلچر یہ ہے کہ ٹیکس عائد کرتے وقت بھی طاقتور طبقات کے مفاد کو اولیت دی جاتی ہے۔

حکومت عموماً بالواسطہ ٹیکس عائد کرتی ہے۔ یہ بالواسطہ ٹیکس صنعتکار یا امپورٹر عوام پر ڈال دیتا ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی' سیلز ٹیکس' جی ایس ٹی' کسٹمز ڈیوٹی اشیاء اور خدمات کی قیمت میں شامل ہو کر عام صارفین کی جیب سے وصول کی جاتی ہے۔ حکومت اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے بہت سے اقدامات کر سکتی ہے۔ اگر حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پا لے توشاید قرضے لینے کی نوبت نہ آئے۔ پاکستانی معیشت میں پوٹینشنل موجود ہے لیکن اسے عقل مندی سے استعمال کرنے والوں کی ضرورت ہے۔ اگر حکمران طبقہ اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی نہیں لاتا اور غیر ترقیاتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں تو اس سے معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو سکے گی۔
Load Next Story