پولیس فیکٹری میں آتشزدگی کا مقدمہ درج کرنے کو تیار نہیں
پولیس نے اگر زیادہ تنگ کیا تو چیف جسٹس سے درخواست کریں گے
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے عملے کو تفتیش کے بہانے گھنٹوں تھانے میں بٹھا کر تنگ کیا جا رہا ہے. فوٹو : پی پی آئی
گلبائی میں آتشزدگی کا شکار ہونے والے پرنٹنگ اینڈ پیکیجنگ فیکٹری کی عمارت منہدم کرنے کا سلسلہ شروع کیے جانے کے باوجود پولیس واقعے کا مقدمہ درج کرنے کو تیار نہیں۔
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے عملے کو تفتیش کے بہانے گھنٹوں تھانے میں بٹھا کر تنگ کیا جا رہا ہے،تفصیلات کے مطابق سائٹ بی تھانے کی حدود گلبائی میں پرنٹنگ اینڈ پیکیجنگ فیکٹری آتشزدگی کا مقدمہ درج کرانے کے لیے متعدد بار تھانے کے چکر لگائے تاہم ایس ایچ او تھانہ سائٹ بی معید کا کہنا ہے کہ ایس پی سائٹ ڈویژن اکرم ابڑو نے فوری طور پر مقدمہ درج کرنے سے منع کیا ہے، یہ بات کمپنی کے ایک مالک علی راجو نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی، انھوں نے بتایا کہ ایس ایچ او سائٹ بی معید کا کہنا ہے کہ ایس پی سائٹ ڈویژن اکرم ابڑو کی ہدایت پر ہم اپنے طور پر آگ لگنے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اس کے بات مقدمہ درج کرنے کی ضرورت محسوس کی تو درج کیا جائے گا، علی راجو نے بتایا کہ فیکٹری میں ان کے دوسرے پارٹنر خالد قاسم ہیں فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث نہ صرف لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا بلکہ پوری عمارت ختم ہو گئی، اس کے باوجود ہم آتشزدگی کا اتفاقیہ حادثہ مانتے ہوئے اس کا مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں جبکہ ہم کسی پر اپنا شک ظاہر نہیں کر رہے اور پورا واقعہ اﷲ کے اوپر چھوڑ رہے ہیں اس کے باوجود پولیس ہمیں تنگ کر رہی ہے،پولیس نے اگر زیادہ تنگ کیا تو چیف جسٹس سے درخواست کریں گے۔
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے عملے کو تفتیش کے بہانے گھنٹوں تھانے میں بٹھا کر تنگ کیا جا رہا ہے،تفصیلات کے مطابق سائٹ بی تھانے کی حدود گلبائی میں پرنٹنگ اینڈ پیکیجنگ فیکٹری آتشزدگی کا مقدمہ درج کرانے کے لیے متعدد بار تھانے کے چکر لگائے تاہم ایس ایچ او تھانہ سائٹ بی معید کا کہنا ہے کہ ایس پی سائٹ ڈویژن اکرم ابڑو نے فوری طور پر مقدمہ درج کرنے سے منع کیا ہے، یہ بات کمپنی کے ایک مالک علی راجو نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی، انھوں نے بتایا کہ ایس ایچ او سائٹ بی معید کا کہنا ہے کہ ایس پی سائٹ ڈویژن اکرم ابڑو کی ہدایت پر ہم اپنے طور پر آگ لگنے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اس کے بات مقدمہ درج کرنے کی ضرورت محسوس کی تو درج کیا جائے گا، علی راجو نے بتایا کہ فیکٹری میں ان کے دوسرے پارٹنر خالد قاسم ہیں فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث نہ صرف لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا بلکہ پوری عمارت ختم ہو گئی، اس کے باوجود ہم آتشزدگی کا اتفاقیہ حادثہ مانتے ہوئے اس کا مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں جبکہ ہم کسی پر اپنا شک ظاہر نہیں کر رہے اور پورا واقعہ اﷲ کے اوپر چھوڑ رہے ہیں اس کے باوجود پولیس ہمیں تنگ کر رہی ہے،پولیس نے اگر زیادہ تنگ کیا تو چیف جسٹس سے درخواست کریں گے۔