فائرنگ سے ہلاک صابر علی کا موبائل اور رکشا بھی نہ مل سکا

صابر رکشا چلاتا تھا اور گھر کی کفالت کرتا تھا

پولیس نے تاحال اس کا موبائل فون اور رکشا رجسٹریشن نمبر D-59722 کے بارے میں کوئی سراغ نہیں لگایا. فوٹو : ایکسپریس

HYDERABAD:
پاک کالونی میں فائرنگ سے ہلاک کیے جانے والے نوجوان صابر علی کا موبائل فون اور رکشا تاحال نہیں مل سکا ہے۔

جبکہ مقدمہ قتل کی تفتیش میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ، مقتول گھر کی کفالت میں بنیادی کردار ادا کرتا تھا ، تفصیلات کے مطابق پیر کو پاک کالونی کے علاقے میں میوا شاہ قبرستان سے 22 سالہ نوجوان کی لاش ملی تھی جسے نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کرکے ہلاک کیا جبکہ لاش میوا شاہ قبرستان میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے ، مقتول کے بھائی شہباز نے اپنی رہائش گاہ واقع پی آئی بی کالونی میں ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صابر رکشا چلاتا تھا اور گھر کی کفالت کرتا تھا ۔


انھوں نے بتایا کہ اتوار کی شب تقریباً ساڑھے 10 بجے اس کے والد حمید نے اسے فون کیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ برنس روڈ پر موجود ہے اور جلد ہی گھر آجائے گا ، جب کافی دیر گزرجانے پر وہ گھر نہیں پہنچا تو دوبارہ اس کے موبائل فون پر رابطہ کیا گیا لیکن فون بند ملا جس کے بعد اسے تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے ، اسے ہر ممکن مقام پر تلاش کیا ، دوست احباب اور دیگر علاقوں میں بھی اسے ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہ ملا ، پیر کی صبح جب وہ اسے تلاش کرتے کرتے ایدھی سرد خانے گئے تو وہاں لاش رکھی ہوئی تھی جسے انھوں نے شناخت کرلیا ۔

شہباز نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ صابر کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق نہیں تھا ، پولیس نے تاحال اس کا موبائل فون اور رکشا رجسٹریشن نمبر D-59722 کے بارے میں کوئی سراغ نہیں لگایا ، انھوں نے کہا کہ اگر صابر کا موبائل فون مل جائے تو شاید اس سے اس کے قتل کی کوئی کڑی مل سکے ، انھوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
Load Next Story