2بھائیوں سمیت4افراد کے قاتلوں کا سراغ تاحا نہ مل سکا
انسپکٹر رینک کا افسر نہ ہونے پر تفتیش تھانہ گلستان جوہر کو منتقل کردی گئی
مبینہ ٹائون تھانے میں صرف ایک انسپکٹر سطح کاافسر ہے جو ایس ایچ او ہے، ذرائع. فوٹو: فائل
گلشن اقبال کے علاقے اسکائوٹ کالونی میں2سگے بھائیوں سمیت4افراد کے قتل کے مقدمے کی تفتیش مبینہ ٹائون تھانے میں انسپکٹر سطح کا افسر نہ ہونے کی وجہ سے تھانہ گلستان جوہر منتقل کردی گئی
قتل کے واقعے کو17روز گزر جانے کے باوجود انویسٹی گیشن پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ملوث ملزمان کا سراغ اور تفتیش کی سمت کا تعین نہیں کیا جا سکا، تفصیلات کے مطابق 15اکتوبر کو مبینہ ٹائون تھانے کی حدود میں ابو الحسن اصفہانی روڈ کے قریب اسکائوٹ کالونی میں واقع جامع صدیق اکبر مسجد سے متصل عطر کی دکان پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے4 افراد عبدالشکور ولد اسماعیل، محمد عمر ولد حق نواز اور 2 سگے بھائیوں اسد اﷲ ولد کامرن اﷲ ، عمران ولد کامران اﷲ کو قتل کردیا تھا جن کا تعلق اہلسنت و الجماعت سے تھا۔
پولیس نے واقعے کے4روز بعد مبینہ ٹائون تھانے میں بذریعہ سرکار کی مدعیت میں دہشت گردی ایکٹ 7ATA کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا اور مقدمے کی تفتیش مبینہ ٹائون تھانے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر افتخار احمد کے سپرد کردی گئی تھی تاہم واقعے کے9 روز گزر جانے کے بعد 24 اکتوبر کو ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نوید خواجہ کی ہدایت پر مقدمے کی تفتیش تھانہ گلستان جوہر کے انسپکٹر امتیاز شیخ کو منتقل کردی گئی ہے، ذرائع نے بتایاکہ تفتیش منتقل کرنے کی وجہ مبینہ ٹائون تھانے میں انسپکٹر سطح کا افسر کا نہ ہونا ہے جبکہ مبینہ ٹائون تھانے میں صرف ایک انسپکٹر سطح کا پولیس افسر موجود ہے جوکہ تھانے کا ایس ایچ او ہے۔
ذرائع کے بتایاکہ 4 افراد کے قتل کے مقدمہ نمبر 443/2012 میں قتل کی دفعہ کے علاوہ دہشت گردی ایکٹ کی بھی دفعہ شامل کی گئی ہے اور دہشت گردی کے عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ کی تفتیش مبینہ ٹائون سے تھانہ گلستان جوہر منتقل کی گئی ہے ، ذرائع کے مطابق 4 افراد کے قتل کے واقعے کو 17 روز گزر جانے کے باوجود پولیس کی جانب سے کو ئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے ، ابتدائی طور پر تفتیشی افسران نے جائے وقوع سے شواہد تواکھٹا کیے اور معائنے کے لیے لیباٹری بھی بجھوا دیے۔
تاہم ان شواہد کی مدد سے تفتیش پولیس کو ابتک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، ذرائع نے بتایا کہ پولیس 4 افراد کے قتل کے واقعے کی روایتی انداز میں تحقیقات کر رہی ہے اور اسی وجہ سے انویسٹی گیشن پولیس تاحال قتل ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی حاصل کرنے میںکامیاب نہیں ہوسکی اور نہ ہی تفتیشی افسران نے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے ابتک کسی عینی شاہد کو تلاش کیا نہ ورثا کے بیانات قلمبند کر سکی۔
قتل کے واقعے کو17روز گزر جانے کے باوجود انویسٹی گیشن پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ملوث ملزمان کا سراغ اور تفتیش کی سمت کا تعین نہیں کیا جا سکا، تفصیلات کے مطابق 15اکتوبر کو مبینہ ٹائون تھانے کی حدود میں ابو الحسن اصفہانی روڈ کے قریب اسکائوٹ کالونی میں واقع جامع صدیق اکبر مسجد سے متصل عطر کی دکان پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے4 افراد عبدالشکور ولد اسماعیل، محمد عمر ولد حق نواز اور 2 سگے بھائیوں اسد اﷲ ولد کامرن اﷲ ، عمران ولد کامران اﷲ کو قتل کردیا تھا جن کا تعلق اہلسنت و الجماعت سے تھا۔
پولیس نے واقعے کے4روز بعد مبینہ ٹائون تھانے میں بذریعہ سرکار کی مدعیت میں دہشت گردی ایکٹ 7ATA کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا اور مقدمے کی تفتیش مبینہ ٹائون تھانے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر افتخار احمد کے سپرد کردی گئی تھی تاہم واقعے کے9 روز گزر جانے کے بعد 24 اکتوبر کو ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نوید خواجہ کی ہدایت پر مقدمے کی تفتیش تھانہ گلستان جوہر کے انسپکٹر امتیاز شیخ کو منتقل کردی گئی ہے، ذرائع نے بتایاکہ تفتیش منتقل کرنے کی وجہ مبینہ ٹائون تھانے میں انسپکٹر سطح کا افسر کا نہ ہونا ہے جبکہ مبینہ ٹائون تھانے میں صرف ایک انسپکٹر سطح کا پولیس افسر موجود ہے جوکہ تھانے کا ایس ایچ او ہے۔
ذرائع کے بتایاکہ 4 افراد کے قتل کے مقدمہ نمبر 443/2012 میں قتل کی دفعہ کے علاوہ دہشت گردی ایکٹ کی بھی دفعہ شامل کی گئی ہے اور دہشت گردی کے عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ کی تفتیش مبینہ ٹائون سے تھانہ گلستان جوہر منتقل کی گئی ہے ، ذرائع کے مطابق 4 افراد کے قتل کے واقعے کو 17 روز گزر جانے کے باوجود پولیس کی جانب سے کو ئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے ، ابتدائی طور پر تفتیشی افسران نے جائے وقوع سے شواہد تواکھٹا کیے اور معائنے کے لیے لیباٹری بھی بجھوا دیے۔
تاہم ان شواہد کی مدد سے تفتیش پولیس کو ابتک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، ذرائع نے بتایا کہ پولیس 4 افراد کے قتل کے واقعے کی روایتی انداز میں تحقیقات کر رہی ہے اور اسی وجہ سے انویسٹی گیشن پولیس تاحال قتل ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی حاصل کرنے میںکامیاب نہیں ہوسکی اور نہ ہی تفتیشی افسران نے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے ابتک کسی عینی شاہد کو تلاش کیا نہ ورثا کے بیانات قلمبند کر سکی۔