مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان
شام اور یمن کی صورت حال کے باعث سعودی عرب کی حکومت اپنے ملک کی سلامتی کے لیے خطرات کو شدت سے محسوس کر رہی ہے
پاکستان کے لیے ان حالات میں بہتر راستہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے اتحاد اور ان میں موجود اختلافات ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔ فوٹو : آئی این پی
ISLAMABAD:
گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورت حال بالخصوص یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنم لینے والے تنازعہ اور پھر ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جہاں پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے وہاں پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کوششیں بھی جاری ہیں کہ مسلم ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔
شام اور یمن کی صورت حال کے باعث سعودی عرب کی حکومت اپنے ملک کی سلامتی کے لیے خطرات کو شدت سے محسوس کر رہی ہے۔ کچھ عرصے سے اپنے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سے رابطے کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ہم خیال مسلم ممالک کے اتحاد کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ اتوار کو سعودی وزیر دفاع و نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان السعود مختصر دورے پر پاکستان آئے جہاں انھوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات' خطے کی صورت حال' علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سعودی وزیر دفاع کو یقین دلایا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہو گا' اس کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے فوجی اتحاد کی حمایت کرتے ہیں' پاکستان او آئی سی ملکوں میں برادرانہ تعلقات کے فروغ کی پالیسی پر عمل پیرا رہا اور اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کو پرامن طریقے اور بات چیت سے حل کرانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی شہزادہ محمد بن سلمان السعود کو ایسی ہی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں' سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے کی صورت میں پاکستان سخت جواب دے گا۔
سعودی عرب کے مسلم ممالک سے پیدا ہونے والے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے' امن کا یہی بہترین راستہ ہے اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا کوئی بھی اختیار کیا گیا راستہ مشکلات اور مسائل میں اضافے ہی کا باعث بنے گا۔ جہاں تک سعودی عرب اور ایران کے تنازعے کا تعلق ہے تو پاکستان دونوں برادر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور اسے دونوں کی سلامتی اور خوشحالی عزیز ہے اس لیے پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں برادر مسلم ممالک اپنے تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے اسے بات چیت کے ذریعے حل کریںکیونکہ لڑائی جھگڑا کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔
افغانستان' عراق' شام اور یمن کے حالات سب کے سامنے ہیں ۔یہ ممالک خانہ جنگی کا شکار ہو کر اپنی قوت کھو چکے ہیں اور ان کی سلامتی کو لاحق خطرات بدستور موجود ہیں جن کا فوری طور پر کوئی حل نظر نہیں آ رہابلکہ ان ممالک کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بگڑتے ہوئے حالات اور باہمی تنازعات کی آگ کے شعلے پورے عالم اسلام کے لیے فکر مندی کا باعث ہیں۔
پاکستان کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات سے پوری امت مسلمہ متاثر ہو گی بہر حال سعودی عرب اس صورتحال میں اگر اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس کرتا ہے تو پاکستان کو اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ لہٰذا پاکستان کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو وہ اس کا ساتھ دے گا۔ کسی بھی مسلم ملک کی سلامتی تمام مسلم ممالک کو عزیز ہونی چاہیے۔
عرب لیگ اور او آئی سی کو سعودی عرب کے یمن اور ایران سے پیدا ہونے والے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرانے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا اور ایسا کوئی عمل جو مسلم ممالک کے درمیان انتشار اور افراتفری کو جنم دے اس کا فوری سدباب کرنا ہو گا۔ مسلم ممالک اگر متحد ہو کر کوشش کریں تو مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کو ختم کرایا جا سکتا ہے' عالمی طاقتوں کا رویہ اور پالیسی اپنے مفادات کے گرد گھومتی ہے لہٰذا ان سے یہ امید کرنی کہ وہ مشرق وسطی کے بحران کو عالم اسلام کے مفادات کے نقطہ نظر سے حل کرنے کی کوشش کریں گے 'جاگتے میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے لیے ان حالات میں بہتر راستہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے اتحاد اور ان میں موجود اختلافات ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورت حال بالخصوص یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنم لینے والے تنازعہ اور پھر ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جہاں پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے وہاں پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کوششیں بھی جاری ہیں کہ مسلم ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔
شام اور یمن کی صورت حال کے باعث سعودی عرب کی حکومت اپنے ملک کی سلامتی کے لیے خطرات کو شدت سے محسوس کر رہی ہے۔ کچھ عرصے سے اپنے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سے رابطے کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ہم خیال مسلم ممالک کے اتحاد کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ اتوار کو سعودی وزیر دفاع و نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان السعود مختصر دورے پر پاکستان آئے جہاں انھوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات' خطے کی صورت حال' علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سعودی وزیر دفاع کو یقین دلایا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہو گا' اس کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے فوجی اتحاد کی حمایت کرتے ہیں' پاکستان او آئی سی ملکوں میں برادرانہ تعلقات کے فروغ کی پالیسی پر عمل پیرا رہا اور اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کو پرامن طریقے اور بات چیت سے حل کرانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی شہزادہ محمد بن سلمان السعود کو ایسی ہی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں' سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے کی صورت میں پاکستان سخت جواب دے گا۔
سعودی عرب کے مسلم ممالک سے پیدا ہونے والے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے' امن کا یہی بہترین راستہ ہے اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا کوئی بھی اختیار کیا گیا راستہ مشکلات اور مسائل میں اضافے ہی کا باعث بنے گا۔ جہاں تک سعودی عرب اور ایران کے تنازعے کا تعلق ہے تو پاکستان دونوں برادر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور اسے دونوں کی سلامتی اور خوشحالی عزیز ہے اس لیے پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں برادر مسلم ممالک اپنے تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے اسے بات چیت کے ذریعے حل کریںکیونکہ لڑائی جھگڑا کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔
افغانستان' عراق' شام اور یمن کے حالات سب کے سامنے ہیں ۔یہ ممالک خانہ جنگی کا شکار ہو کر اپنی قوت کھو چکے ہیں اور ان کی سلامتی کو لاحق خطرات بدستور موجود ہیں جن کا فوری طور پر کوئی حل نظر نہیں آ رہابلکہ ان ممالک کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بگڑتے ہوئے حالات اور باہمی تنازعات کی آگ کے شعلے پورے عالم اسلام کے لیے فکر مندی کا باعث ہیں۔
پاکستان کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات سے پوری امت مسلمہ متاثر ہو گی بہر حال سعودی عرب اس صورتحال میں اگر اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس کرتا ہے تو پاکستان کو اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ لہٰذا پاکستان کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو وہ اس کا ساتھ دے گا۔ کسی بھی مسلم ملک کی سلامتی تمام مسلم ممالک کو عزیز ہونی چاہیے۔
عرب لیگ اور او آئی سی کو سعودی عرب کے یمن اور ایران سے پیدا ہونے والے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرانے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا اور ایسا کوئی عمل جو مسلم ممالک کے درمیان انتشار اور افراتفری کو جنم دے اس کا فوری سدباب کرنا ہو گا۔ مسلم ممالک اگر متحد ہو کر کوشش کریں تو مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کو ختم کرایا جا سکتا ہے' عالمی طاقتوں کا رویہ اور پالیسی اپنے مفادات کے گرد گھومتی ہے لہٰذا ان سے یہ امید کرنی کہ وہ مشرق وسطی کے بحران کو عالم اسلام کے مفادات کے نقطہ نظر سے حل کرنے کی کوشش کریں گے 'جاگتے میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کے لیے ان حالات میں بہتر راستہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے اتحاد اور ان میں موجود اختلافات ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔