بی این پی مینگل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات
اے پی سی میں متفقہ طورپر12 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے
جہاں تک بلوچستان کے حقوق اور گوادر کے شہریوں کے حقوق کا تعلق ہے تو اس پر بات چیت کی جانی چاہیے، فوٹو : آئی این پی
بی این پی مینگل کے زیر اہتمام گزشتہ روز ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف گزشتہ سال 28 مئی کو اپنی صدارت میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے متفقہ قرارداد کے اعلامیہ پر من و عن عمل اور اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کرنیکا وعدہ پورا کریں۔
اے پی سی میں متفقہ طور پر12 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے، بلوچستان کے ساحل وسائل پر اختیار و حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے، گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ گوادر پورٹ اور میگا پراجیکٹس کے تمام ملازموں میں گوادر، مکران اور بلوچستان کے فرزندوں کو ترجیح دی جائے۔
گوادر کے مقامی لوگوں پر مختلف قسم کی جو پابندیاں عائد کی گئیں ہیں ان کو فوری طور پر ختم کر کے نقل و حمل کی مکمل آزادی دی جائے نیز سیاسی سرگرمیوں پر غیر علانیہ پابندیاں ختم کی جائیں۔وفاقی حکومت کو اس آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنا چاہیے۔ اقتصادی راہداری کے حوالے سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی جن سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں 'انھیں دور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان کے حوالے سے اس کانفرنس میں جو قرار دادیں منظور کی گئی ہیں' ان پر بھی غور کر کے معاملات کو بہتر کرنے اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنے کے مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی بھی مطالبہ کرتے ہوئے ملکی مفاد کو بھی پیش نظر رکھیں اور اس امر کا بھی خیال رکھیں کہ مطالبات حدود سے تجاوز نہ کریں۔ اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے پورے ملک کو فائدہ ہو گا۔ جہاں تک بلوچستان کے حقوق اور گوادر کے شہریوں کے حقوق کا تعلق ہے تو اس پر بات چیت کی جانی چاہیے اور وفاقی حکومت کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس طریقے سے ہی معاملات کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
اے پی سی میں متفقہ طور پر12 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے، بلوچستان کے ساحل وسائل پر اختیار و حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے، گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ گوادر پورٹ اور میگا پراجیکٹس کے تمام ملازموں میں گوادر، مکران اور بلوچستان کے فرزندوں کو ترجیح دی جائے۔
گوادر کے مقامی لوگوں پر مختلف قسم کی جو پابندیاں عائد کی گئیں ہیں ان کو فوری طور پر ختم کر کے نقل و حمل کی مکمل آزادی دی جائے نیز سیاسی سرگرمیوں پر غیر علانیہ پابندیاں ختم کی جائیں۔وفاقی حکومت کو اس آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنا چاہیے۔ اقتصادی راہداری کے حوالے سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی جن سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں 'انھیں دور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان کے حوالے سے اس کانفرنس میں جو قرار دادیں منظور کی گئی ہیں' ان پر بھی غور کر کے معاملات کو بہتر کرنے اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنے کے مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی بھی مطالبہ کرتے ہوئے ملکی مفاد کو بھی پیش نظر رکھیں اور اس امر کا بھی خیال رکھیں کہ مطالبات حدود سے تجاوز نہ کریں۔ اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے پورے ملک کو فائدہ ہو گا۔ جہاں تک بلوچستان کے حقوق اور گوادر کے شہریوں کے حقوق کا تعلق ہے تو اس پر بات چیت کی جانی چاہیے اور وفاقی حکومت کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس طریقے سے ہی معاملات کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔