سراج الحق ہم سے بھی سب پوچھا کیے
مولانا سراج الحق نے کالم نگاروں کی ایک مختصر سی بیٹھک بلائی تھی
barq@email.com
صورت حال تقریباً ویسی ہی تھی جیسی ابن انشاء کو درپیش تھی کہ
کل چود ھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
فرق صرف اتنا تھا کہ یہ ذکر چاند کا نہیں بلکہ ''چاند تارے'' کا تھا بلکہ یوں کہیے کہ چاند کے داغوں کا تذکرہ زیادہ تھا یعنی اس مملکت اللہ داد پاکستان کا جس کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ چاند میری زمیں، پھول میرا وطن اور اک میرا چاند اک میرا تارہ ۔۔۔۔ اماں کی لاڈلی ابا کا پیارا ۔۔۔۔ اس موقعے پر کچھ ویسی ہی صورت حال تھی کہ
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
مولانا سراج الحق ہم سے پوچھ رہے تھے اور ہم ان سے پوچھ رہے تھے کہ پس چہ بائد کرد ۔ اس ''مریض'' کی حالت تو روز بروز بگڑتی ہی جارہی ہے جسے آج کل اپنے پرائے ''مرد بیمار'' کہتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو اسے اب بھی نچوڑے کھکھوڑے اور بھنبھوڑے جارہے ہیں اور جس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذت درد
کام ''یاروں'' کا بقدر لب و دندان نکلا
مولانا سراج الحق نے کالم نگاروں کی ایک مختصر سی بیٹھک بلائی تھی، گنتی کے چند کالم نگار تھے جن میں زیادہ تر (ہماے سوا) دانش ور بھی تھے اور تجزیہ نگار بھی ۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ جب کالم نگار + دانشور اکٹھے ہو جاتے ہیں تو کیا بلکہ کیا کیا ہوتا ہے کیوں کہ یہ ایک بدی ہو تو پوری محفل بلکہ پورے شہر کے لیے ''کفایت'' کرتا ہے یا یوں کہیے کہ ''کافی'' بھی ہوتی ہے اور چائے بھی حالانکہ وہ خود کو ''شافی'' پوز کرتا ہے۔
دل میں کیا کیا نہیں ہے اے ہمدم
ہر سخن تابہ لب نہیں آتا
یہ مولانا سراج الحق بھی کچھ ''بیبے'' قسم کے آدمی ہیں، بے چارے اس ملک کی ریت رواج کے مطابق مروجہ سیاست دانوں پر گئے ہی نہیں ہیں۔ نہ جانے کیوں ہمیں ان کے اندر سے ایک معصوم سا تھوڑا شریر سا اور بہت زیادہ چلبلا سا ایک بچہ جھانکتا ہوا نظر آتا ہے۔
ایک ایسا بچہ جس نے ابھی ابھی دنیا میں قدم رکھا ہو اور امیدوں توقعات خوش فہمیوں اور حیرت سے لدا پھندا ہو، کہتے ہیں کہ ہر نئے بچے کی پیدائش سے پتہ چلتا ہے کہ خدا ابھی انسانوں سے مایوس نہیں ہوا ہے اور ہمیں جناب سراج الحق کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا ابھی ''پاکستان'' سے مایوس نہیں ہوا ہے، اور یہاں تو انھوں نے حرکت بھی بچوں والی کی تھی۔ ہم تو گئے تھے کہ وہ کوئی مرصع و مرجع تقریر کریں گے لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نکلا ۔ بقول جمیل الدین عالی
ہم تو گئے تھے ''چھیلا'' بن کر ''بھیا'' کہہ گئی نار
کچھ کہنے کے بجائے وہ ہم سے پوچھا کہیے کہ اس وقت کیا کیا جائے۔ یہ تو گویا وہی بات ہوئی کہ خدا دے اور بندہ لے ۔ ایک طرح سے انھوں نے خود کو تنقید کے لیے پیش کیا تھا اور وہ بھی ''کن'' کے سامنے ۔ کالم نگاروں، دانشوروں بلکہ ان دونوں ٹو ان ون تجزیہ نگاروں کے سامنے ۔ گھبرائیے نہیں ہم خود بھی اس نئی اصطلاح ''تجزیہ نگار'' کے بارے میں اتنے ہی لاعلم ہیں جتنے آپ ہیں یا خود یہ تجزیہ نگار ہو سکتے ہیں لیکن کریں بھی کیا کہ ؎ بنتی نہیں بادہ و ساغر کہئے بغیر ۔ تجزیہ نگار کے لغوی معنی کیا ہیں، یہ ہم نہیں جانتے ؟ لیکن مارکیٹ میں اس کا بول بالا ہے۔
اس لیے ہم بھی کبھی کبھی استعمال کر لیتے ہیں، بقول علامہ بریانی عرف برڈ فلو کہ اگر کوئی بیوی سے یہ کہہ دے کہ کھانے میں نمک کم ہے تو یہ بھی ایک تجزیہ ہے بلکہ بہت بڑا تجزیہ اور وہ بھی ''جابر سلطانہ' کے سامنے علم حق بلند کر کے کلمہ حق کی صورت میں۔ خیر تو مولانا سراج الحق نے ایک اور ''کشش'' بھی مہیا کر رکھی تھی جس کے سامنے گونگا بھی ''انداز گل افشانی گفتار'' دکھانے لگتا ہے اور یہاں تو اس انتہائی پرکشش چیز کے ساتھ مرغ نا مسلم اور ''بٹیر مسلم'' کا اہتمام بھی تھا۔ اس بٹیر مسلم پر ایک حقیقہ یاد آیا۔ ایک مرتبہ ہم نے کراچی میں ایک ریستوران کے بورڈ پر لکھا ہوا دیکھا ،
''مٹن بریانی، چرغا اور بٹیر مسلم''
ہنسی کی بات اس میں یہ تھی کہ بٹیر بے چارے میں اتنا گوشت ہی کہاں ہوتا ہے کہ اس کے پیس یا کٹ پیس کیے جائیں۔ ایک نوالے کے برابر تو بے چارے کی کل کائنات ہوتی ہے ۔ مسلم کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اسے ''بٹیر مسلم'' یعنی مسلمان بٹیر سمجھ بیٹھتے تھے اور یہ کسی حد تک سچ بھی ہوتا ہے کیوں کہ ذبح کرتے ہوئے کلمہ تو پڑھنا ہی پڑتا ہے، بلکہ اکثر لوگوں کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ بٹیر پکایا بھی نہیں جاتا بلکہ اسے خوب خستہ اور کرارے دار بھون کر ہڈیوں سمیت کھایا جاتا ہے جس طرح پاکستان میں لیڈر لوگ اس ملک، اس کے فنڈ اور عوام کے ساتھ کرتے ہیں، باقی تو خیر جو تھا سو تھا لیکن مولانا سراج الحق نے کہا کہ میں کچھ بولنے نہیں بلکہ سننے آیا ہوں اور جب سننے والوں نے یہ سنا تو ظاہر ہے کہ سنانا ہی سنانا تھا، جس میں تھوڑی دیر بعد وہی مقام آہی گیا کہ
ہم بھی وہاں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم چپ رہے ہم ہنس دیے منظور تھا ''پردہ اپنا''
لیکن تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ۔ ہم ہنس تو دیے لیکن چپ نہیں رہ سکے ہاں البتہ دل کی بات کی پیکنگ، لیبل اور ریپر تھوڑا سا بدل کر، ورنہ ہم سیدھے سیدھے کہنا چاہتے تھے کہ آپ صرف یہ کریں کہ کچھ بھی نہ کریں کیوں کہ ''کرنے والے'' وہ بھی کر رہے ہیں جو کرنا چاہیے اور وہ بھی کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے، مملکت اللہ داد پاکستان میں آج کل سیاست جس اونچے مقام پر پہنچی ہوئی ہے یا پہنچا دی گئی ہے اس میں ایک شریف دیانت دار اور مخلص آدمی یا جماعت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے ''زمانے'' کو خوش کرنا بہتر ہے۔
کل چود ھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
فرق صرف اتنا تھا کہ یہ ذکر چاند کا نہیں بلکہ ''چاند تارے'' کا تھا بلکہ یوں کہیے کہ چاند کے داغوں کا تذکرہ زیادہ تھا یعنی اس مملکت اللہ داد پاکستان کا جس کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ چاند میری زمیں، پھول میرا وطن اور اک میرا چاند اک میرا تارہ ۔۔۔۔ اماں کی لاڈلی ابا کا پیارا ۔۔۔۔ اس موقعے پر کچھ ویسی ہی صورت حال تھی کہ
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
مولانا سراج الحق ہم سے پوچھ رہے تھے اور ہم ان سے پوچھ رہے تھے کہ پس چہ بائد کرد ۔ اس ''مریض'' کی حالت تو روز بروز بگڑتی ہی جارہی ہے جسے آج کل اپنے پرائے ''مرد بیمار'' کہتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو اسے اب بھی نچوڑے کھکھوڑے اور بھنبھوڑے جارہے ہیں اور جس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
دل حسرت زدہ تھا مائدہ لذت درد
کام ''یاروں'' کا بقدر لب و دندان نکلا
مولانا سراج الحق نے کالم نگاروں کی ایک مختصر سی بیٹھک بلائی تھی، گنتی کے چند کالم نگار تھے جن میں زیادہ تر (ہماے سوا) دانش ور بھی تھے اور تجزیہ نگار بھی ۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ جب کالم نگار + دانشور اکٹھے ہو جاتے ہیں تو کیا بلکہ کیا کیا ہوتا ہے کیوں کہ یہ ایک بدی ہو تو پوری محفل بلکہ پورے شہر کے لیے ''کفایت'' کرتا ہے یا یوں کہیے کہ ''کافی'' بھی ہوتی ہے اور چائے بھی حالانکہ وہ خود کو ''شافی'' پوز کرتا ہے۔
دل میں کیا کیا نہیں ہے اے ہمدم
ہر سخن تابہ لب نہیں آتا
یہ مولانا سراج الحق بھی کچھ ''بیبے'' قسم کے آدمی ہیں، بے چارے اس ملک کی ریت رواج کے مطابق مروجہ سیاست دانوں پر گئے ہی نہیں ہیں۔ نہ جانے کیوں ہمیں ان کے اندر سے ایک معصوم سا تھوڑا شریر سا اور بہت زیادہ چلبلا سا ایک بچہ جھانکتا ہوا نظر آتا ہے۔
ایک ایسا بچہ جس نے ابھی ابھی دنیا میں قدم رکھا ہو اور امیدوں توقعات خوش فہمیوں اور حیرت سے لدا پھندا ہو، کہتے ہیں کہ ہر نئے بچے کی پیدائش سے پتہ چلتا ہے کہ خدا ابھی انسانوں سے مایوس نہیں ہوا ہے اور ہمیں جناب سراج الحق کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا ابھی ''پاکستان'' سے مایوس نہیں ہوا ہے، اور یہاں تو انھوں نے حرکت بھی بچوں والی کی تھی۔ ہم تو گئے تھے کہ وہ کوئی مرصع و مرجع تقریر کریں گے لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نکلا ۔ بقول جمیل الدین عالی
ہم تو گئے تھے ''چھیلا'' بن کر ''بھیا'' کہہ گئی نار
کچھ کہنے کے بجائے وہ ہم سے پوچھا کہیے کہ اس وقت کیا کیا جائے۔ یہ تو گویا وہی بات ہوئی کہ خدا دے اور بندہ لے ۔ ایک طرح سے انھوں نے خود کو تنقید کے لیے پیش کیا تھا اور وہ بھی ''کن'' کے سامنے ۔ کالم نگاروں، دانشوروں بلکہ ان دونوں ٹو ان ون تجزیہ نگاروں کے سامنے ۔ گھبرائیے نہیں ہم خود بھی اس نئی اصطلاح ''تجزیہ نگار'' کے بارے میں اتنے ہی لاعلم ہیں جتنے آپ ہیں یا خود یہ تجزیہ نگار ہو سکتے ہیں لیکن کریں بھی کیا کہ ؎ بنتی نہیں بادہ و ساغر کہئے بغیر ۔ تجزیہ نگار کے لغوی معنی کیا ہیں، یہ ہم نہیں جانتے ؟ لیکن مارکیٹ میں اس کا بول بالا ہے۔
اس لیے ہم بھی کبھی کبھی استعمال کر لیتے ہیں، بقول علامہ بریانی عرف برڈ فلو کہ اگر کوئی بیوی سے یہ کہہ دے کہ کھانے میں نمک کم ہے تو یہ بھی ایک تجزیہ ہے بلکہ بہت بڑا تجزیہ اور وہ بھی ''جابر سلطانہ' کے سامنے علم حق بلند کر کے کلمہ حق کی صورت میں۔ خیر تو مولانا سراج الحق نے ایک اور ''کشش'' بھی مہیا کر رکھی تھی جس کے سامنے گونگا بھی ''انداز گل افشانی گفتار'' دکھانے لگتا ہے اور یہاں تو اس انتہائی پرکشش چیز کے ساتھ مرغ نا مسلم اور ''بٹیر مسلم'' کا اہتمام بھی تھا۔ اس بٹیر مسلم پر ایک حقیقہ یاد آیا۔ ایک مرتبہ ہم نے کراچی میں ایک ریستوران کے بورڈ پر لکھا ہوا دیکھا ،
''مٹن بریانی، چرغا اور بٹیر مسلم''
ہنسی کی بات اس میں یہ تھی کہ بٹیر بے چارے میں اتنا گوشت ہی کہاں ہوتا ہے کہ اس کے پیس یا کٹ پیس کیے جائیں۔ ایک نوالے کے برابر تو بے چارے کی کل کائنات ہوتی ہے ۔ مسلم کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اسے ''بٹیر مسلم'' یعنی مسلمان بٹیر سمجھ بیٹھتے تھے اور یہ کسی حد تک سچ بھی ہوتا ہے کیوں کہ ذبح کرتے ہوئے کلمہ تو پڑھنا ہی پڑتا ہے، بلکہ اکثر لوگوں کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ بٹیر پکایا بھی نہیں جاتا بلکہ اسے خوب خستہ اور کرارے دار بھون کر ہڈیوں سمیت کھایا جاتا ہے جس طرح پاکستان میں لیڈر لوگ اس ملک، اس کے فنڈ اور عوام کے ساتھ کرتے ہیں، باقی تو خیر جو تھا سو تھا لیکن مولانا سراج الحق نے کہا کہ میں کچھ بولنے نہیں بلکہ سننے آیا ہوں اور جب سننے والوں نے یہ سنا تو ظاہر ہے کہ سنانا ہی سنانا تھا، جس میں تھوڑی دیر بعد وہی مقام آہی گیا کہ
ہم بھی وہاں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم چپ رہے ہم ہنس دیے منظور تھا ''پردہ اپنا''
لیکن تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ ۔ ہم ہنس تو دیے لیکن چپ نہیں رہ سکے ہاں البتہ دل کی بات کی پیکنگ، لیبل اور ریپر تھوڑا سا بدل کر، ورنہ ہم سیدھے سیدھے کہنا چاہتے تھے کہ آپ صرف یہ کریں کہ کچھ بھی نہ کریں کیوں کہ ''کرنے والے'' وہ بھی کر رہے ہیں جو کرنا چاہیے اور وہ بھی کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے، مملکت اللہ داد پاکستان میں آج کل سیاست جس اونچے مقام پر پہنچی ہوئی ہے یا پہنچا دی گئی ہے اس میں ایک شریف دیانت دار اور مخلص آدمی یا جماعت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے ''زمانے'' کو خوش کرنا بہتر ہے۔