پاکستان میں ڈرامائی تبدیلیاں
70ء کے انتخابات میں بھی ملک کے دونوں بازوؤں کے لوگوں نے پاکستان کی وحدت کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی۔
zahedahina@gmail.com
پاکستان غالباً دنیاکا واحد ملک ہے جہاں لوگوں کی اکثریت تو نہیں لیکن ان کی ایک خاصی بڑی تعداد ہمیشہ اپنے ملک سے شاکی رہتی ہے۔اس طبقے میں یہ بات آسانی سے کہہ دی جاتی ہے کہ پاکستان کو سامراجی طاقتوں نے اپنے مقصدکے لیے بنایا تھا، یہ ایک قومی ریاست نہیں ہے لہٰذا جب بھی عالمی طاقتیں چاہیں گی، اس کے نقشے کو تبدیل کردیں گی۔ عوام کی اکثریت اس طرح نہیں سوچتی، یہی وجہ ہے کہ یہ ملک بدترین بحرانوں سے باہر نکل آتا ہے۔
70ء کے انتخابات میں بھی ملک کے دونوں بازوؤں کے لوگوں نے پاکستان کی وحدت کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس وقت کی قابض فوجی اشرافیہ اگر اقتدار منتخب پارلیمنٹ کو منتقل کردیتی تو ملک دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتا، سامراجی طاقتوں یا پڑوسی ملکوں نے پاکستان کو نہیں توڑاا ور نہ عوام نے ایسا کرنا چاہا بلکہ حکمران اشرافیہ نے اپنے مفادات پر ملک کو قربان کردیا۔
1971 کے بعد بھی باقی ماندہ پاکستان کو کسی بیرونی طاقت نے توڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دو قطبی دنیا میں سوویت یونین اور امریکا دونوں اپنے حلیف ملکوں کو ٹوٹنے سے بچاتے تھے اب جب کہ یہ لڑائی ختم ہوگئی ہے تو دنیا کے ملکوں کو جمہوری اور مستحکم بنانا ہر بڑی طاقت کی اولین ترجیح ہوگئی ہے۔ پاکستان میں مایوس لوگوں کا دوسرا گروہ سائنسی کم اور نظریاتی زیادہ ہے، جس کا خیال ہے کہ پاکستان چونکہ تاریخی طور پر دنیا میں پہلے سے موجود نہیں تھا بلکہ اسے تخلیق کیا گیا تھا، اس لیے اس کا مستقبل بھی متزلزل رہے گا۔
مایوس لوگوں کے پہلے گروہ کی شکایات بجا ہیں، طویل آمرانہ ادوار میں پاکستان کو ایک وحدانی نظام کے تحت چلایا گیا ۔ یہ کہا گیا کہ پاکستان مختلف قومیتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ نہیں بلکہ ایک قوم ہے۔ دوسرے لفظوں میں وفاق کے تصورکو مستردکر دیا گیا اور پاکستان میں آباد قومیتوں (بشمول پنجاب) کے جائز حقوق اور شناخت کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ پوری دنیا میں 50 سے زیادہ مسلمان ملک ہیں جہاں مختلف قوموں، نسلوں، زبانوں، مسلکوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان رہتے ہیں۔ وہ مذہبی طور پر مسلمان ہیں۔
لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ سب کی جداگانہ شناخت کو بہ جبر ختم کر کے انھیں ایک کردیا جائے ؟ پاکستان میں ایسا کیا گیا جس کے نتائج منفی نکلے، ملک میں آباد تمام قومیتیں جن کا مذہب ایک تھا وہ اس ''جبری قوم سازی'' کے ردعمل میں ایک دوسرے سے دور ہوتی چلی گئیں۔ پاکستان کے بنگالی مسلمانوں کو مغربی بازو کے مسلمان پاکستانیوں سے شکایات تھیں۔ دوسری جانب موجودہ پاکستان کی چاروں قومیتوں کے مابین بھی بد اعتمادی اور دوریاں پیدا ہوگئیں۔
فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کے لیے پاکستان کی کثیر القومی شناخت کو مٹانا چاہا جس سے چھوٹی قومیتوں میں لوگوں کا ایک شدید ناراض گروہ پیدا ہوگیا، جس کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قومیت کے مسلمانوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد قومی شناختوں کو ختم کرنا نہیں تھا۔ آج بھی اس گروہ کے لوگ مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں،ان کی بڑی تعداد کا تعلق بلوچستان اور سندھ سے ہے۔ ان کی مایوسی اسی وقت ختم ہوگی جب وفاقی جمہوری نظام جاری رہے گا اور اس نظام میں وفاقی اکائیاں خود کو مطمئن محسوس کریں گی۔
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے، ہمارے ملک کو کبھی کسی دوسرے ملک نے یا پاکستانی عوام نے توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ ملک کی یک جہتی کو نقصان فوجی آمریتوں نے پہنچایا اور فوجی آمروں نے لوگوں کو خود اپنے ملک کے مستقبل سے بھی مایوس کردیا ، لیکن اب وقت بہت آگے جا چکا ہے۔
کمزور ملکوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، دشمن ملکوں میں دوستیاں کرائی جارہی ہیں، پرانے جھگڑوں اور تنازعات کو نمٹایا جارہا ہے اور جمہوریتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ ملکوں کے درمیان جنگوں کے امکانات کو ختم کیا جاسکے کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کے دو جمہوری ملکوں میں کبھی کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی جب کہ دو مخالف نظام رکھنے والے ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی ہے۔
دنیا اب ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے اثرات ہر طرف محسوس کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں کیونکہ یہاں کم و بیش 60 سال تک فوجی اشرافیہ براہ راست یا بالواسط طور پر اقتدار میں تھی جس سے پاکستان کے سماجی، معاشی اور سیاسی ارتقاء کے عمل پر جمود طاری ہوگیا تھا۔ یہ جمود اب ٹوٹ رہا ہے جو خود ایک بڑا غیر معمولی واقعہ ہے۔
پچھلے تقریباً آٹھ برسوں کے دوران پاکستان برق رفتاری سے تبدیل ہوا ہے جس نے نہ صرف مایوس لوگوں کے گروہوں بلکہ امید پرستوں کو بھی چونکا کر رکھ دیا ہے۔ کون تصور کرسکتا تھا کہ جنرل مشرف جو بہت مضبوط نظر آرہے تھے محض ایک سال میں اتنے کمزور ہوجائیں گے کہ انھیں اقتدار سے بے دخل ہونا پڑے گا۔ کس کے وہم وگمان میں تھا کہ جن سیاستدانوں کی شکلوں کو جنرل صاحب اور ان کے رفقاء دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے وہ پاکستان میں ان کے برسرِاقتدار رہتے ہوئے داخل ہوجائیں گے۔
اس طرح کون سوچ سکتا تھا کہ جن دو بڑی جماعتوں کو ہر قیمت پر اقتدار سے باہر رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، ان میں سے ایک مرکز جب کہ دوسری پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں برسر اقتدار آجائے گی۔ چلیں یہ سب تو ہوگیا لیکن اس کے بعد بھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔کس کے گمان میں تھا کہ مرکز اور پنجاب کی حکومتوں کو باہم دست وگریباں کر کے پورے نظام کو گرانے اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو اپنی آئینی میعاد مکمل نہ کرنے دینے کی کوشش ناکام ثابت ہوگی؟ یاد کریں وہ دن جب بڑے نامی گرامی اینکر حضرات اور سیاسی پنڈت زرداری حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دیا کرتے تھے۔
اب ذرا یہ بھی دیکھیے کہ کون یہ پیش گوئی کرسکتا تھا کہ محض چند برسوں کے اندر 18 ویں ترمیم پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظورکرالی جائے گی۔ اس ترمیم نے 1973 کے آئین کو مزید جمہوری بنایا بلکہ صوبوں کو وہ خود مختاری عطا کردی جو ہندوستان جیسی جمہوریت میں بھی صوبوں کو حاصل نہیں ہے۔ یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کون کہہ سکتا تھا کہ صوبوں کو غیر معمولی خود مختاری دینے کے عمل میں وہ پارٹی پیش پیش ہوگی جو انتخابی اعتبار سے پنجاب کی نمایندگی کرتی تھی، وہی پنجاب جسے صوبوں کے حقوق کا سب سے بڑا ''غاصب '' اور فوجی حکمرانوں کا حلیف قراردیا جاتا تھا۔
وقت آگے بڑھتا رہا اور پاکستان میں حیران کن واقعات کے رونما ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پانچ سال پہلے مایوس لوگوں کا گروہ یہ کہنے میں تاریخی طور پر درست تھا کہ پی پی پی کی منتخب حکومت وقت سے پہلے ختم کردی جائے گی کیونکہ پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی کوئی منتخب حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرسکی تھی، یہ کام بھی نہ ہوسکا۔
وقت پر انتخابات ہوئے اور نوازشریف اقتدار میں آگئے۔ ماضی کے تجربے کے تحت کہا گیا کہ کسی جماعت کو اکثریت نہیں لینے دی جائے گی کیونکہ مخلوط حکومت کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ وقت نے اس مفروضے کو بھی مسترد کردیا۔ میاں صاحب نے واضح اکثریت حاصل کرکے مستحکم حکومت بنالی۔ یہ مظہر بھی سب نے دیکھا کہ نواز شریف نے کے پی کے میں حکومت سازی کی کوشش نہیں کی اور بلوچستان میں پی این پی کو حکومت بنانے کا موقع دیا اور آج کا بلوچستان پہلے سے کہیں پُر امن اور مستحکم ہے۔
اب وہ مظہر بھی رونما ہونے والا تھا جس کا تصور واقعی بہت کم لوگ کرسکتے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت میں اتفاق رائے ہوگیا۔ نیشنل ایکشن پلان بنا اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے آپریشن کا آغازکردیا گیا ۔ وقت نے یہ مفروضہ بھی باطل کردیا کہ فوجی قیادت یہ کام کبھی نہیں کرے گی۔
افغانستان سے تعلقات بہتر ہونے لگے اور پھر مسئلہ آیا پاک ہند تعلقات کا۔ سب کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر کسی بھی صورت ، سیاسی اور عسکری قیادت میں اتفاق رائے نہیں ہوگا، لیکن حالات تیزی سے بدلے اور دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں ڈرامائی تبدیل ہونے لگی۔
دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی مختصر ملاقات نے سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔ ہر طرف ہلچل مچ گئی، اسی دوران پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوگیا، عام توقعات کے بر عکس دونوں ملکوں کی قیادتوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والوں کو کسی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ یہ تبدیلی اتنی اہم ہے کہ مخصوص مفادات کے حامل عناصر اسے روکنے کے لیے ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔ اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ تبدیلی مخالف قوتیں ملک میں سیاسی بحران اورعدم استحکام پیدا کرنے کی ایک بڑی کوشش کریں گی۔ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکے گی کیونکہ آج دہشت گردی کے خاتمے، خطے میں امن اور جمہوریت کے استحکام کے لیے نہ صرف یہ کہ ہم متحد ہیں بلکہ پوری دنیا پاکستان کے ساتھ ہے۔
70ء کے انتخابات میں بھی ملک کے دونوں بازوؤں کے لوگوں نے پاکستان کی وحدت کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس وقت کی قابض فوجی اشرافیہ اگر اقتدار منتخب پارلیمنٹ کو منتقل کردیتی تو ملک دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتا، سامراجی طاقتوں یا پڑوسی ملکوں نے پاکستان کو نہیں توڑاا ور نہ عوام نے ایسا کرنا چاہا بلکہ حکمران اشرافیہ نے اپنے مفادات پر ملک کو قربان کردیا۔
1971 کے بعد بھی باقی ماندہ پاکستان کو کسی بیرونی طاقت نے توڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دو قطبی دنیا میں سوویت یونین اور امریکا دونوں اپنے حلیف ملکوں کو ٹوٹنے سے بچاتے تھے اب جب کہ یہ لڑائی ختم ہوگئی ہے تو دنیا کے ملکوں کو جمہوری اور مستحکم بنانا ہر بڑی طاقت کی اولین ترجیح ہوگئی ہے۔ پاکستان میں مایوس لوگوں کا دوسرا گروہ سائنسی کم اور نظریاتی زیادہ ہے، جس کا خیال ہے کہ پاکستان چونکہ تاریخی طور پر دنیا میں پہلے سے موجود نہیں تھا بلکہ اسے تخلیق کیا گیا تھا، اس لیے اس کا مستقبل بھی متزلزل رہے گا۔
مایوس لوگوں کے پہلے گروہ کی شکایات بجا ہیں، طویل آمرانہ ادوار میں پاکستان کو ایک وحدانی نظام کے تحت چلایا گیا ۔ یہ کہا گیا کہ پاکستان مختلف قومیتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ نہیں بلکہ ایک قوم ہے۔ دوسرے لفظوں میں وفاق کے تصورکو مستردکر دیا گیا اور پاکستان میں آباد قومیتوں (بشمول پنجاب) کے جائز حقوق اور شناخت کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ پوری دنیا میں 50 سے زیادہ مسلمان ملک ہیں جہاں مختلف قوموں، نسلوں، زبانوں، مسلکوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان رہتے ہیں۔ وہ مذہبی طور پر مسلمان ہیں۔
لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ سب کی جداگانہ شناخت کو بہ جبر ختم کر کے انھیں ایک کردیا جائے ؟ پاکستان میں ایسا کیا گیا جس کے نتائج منفی نکلے، ملک میں آباد تمام قومیتیں جن کا مذہب ایک تھا وہ اس ''جبری قوم سازی'' کے ردعمل میں ایک دوسرے سے دور ہوتی چلی گئیں۔ پاکستان کے بنگالی مسلمانوں کو مغربی بازو کے مسلمان پاکستانیوں سے شکایات تھیں۔ دوسری جانب موجودہ پاکستان کی چاروں قومیتوں کے مابین بھی بد اعتمادی اور دوریاں پیدا ہوگئیں۔
فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کے لیے پاکستان کی کثیر القومی شناخت کو مٹانا چاہا جس سے چھوٹی قومیتوں میں لوگوں کا ایک شدید ناراض گروہ پیدا ہوگیا، جس کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قومیت کے مسلمانوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد قومی شناختوں کو ختم کرنا نہیں تھا۔ آج بھی اس گروہ کے لوگ مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں،ان کی بڑی تعداد کا تعلق بلوچستان اور سندھ سے ہے۔ ان کی مایوسی اسی وقت ختم ہوگی جب وفاقی جمہوری نظام جاری رہے گا اور اس نظام میں وفاقی اکائیاں خود کو مطمئن محسوس کریں گی۔
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے، ہمارے ملک کو کبھی کسی دوسرے ملک نے یا پاکستانی عوام نے توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ ملک کی یک جہتی کو نقصان فوجی آمریتوں نے پہنچایا اور فوجی آمروں نے لوگوں کو خود اپنے ملک کے مستقبل سے بھی مایوس کردیا ، لیکن اب وقت بہت آگے جا چکا ہے۔
کمزور ملکوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، دشمن ملکوں میں دوستیاں کرائی جارہی ہیں، پرانے جھگڑوں اور تنازعات کو نمٹایا جارہا ہے اور جمہوریتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ ملکوں کے درمیان جنگوں کے امکانات کو ختم کیا جاسکے کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کے دو جمہوری ملکوں میں کبھی کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی جب کہ دو مخالف نظام رکھنے والے ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی ہے۔
دنیا اب ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے اثرات ہر طرف محسوس کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہیں کیونکہ یہاں کم و بیش 60 سال تک فوجی اشرافیہ براہ راست یا بالواسط طور پر اقتدار میں تھی جس سے پاکستان کے سماجی، معاشی اور سیاسی ارتقاء کے عمل پر جمود طاری ہوگیا تھا۔ یہ جمود اب ٹوٹ رہا ہے جو خود ایک بڑا غیر معمولی واقعہ ہے۔
پچھلے تقریباً آٹھ برسوں کے دوران پاکستان برق رفتاری سے تبدیل ہوا ہے جس نے نہ صرف مایوس لوگوں کے گروہوں بلکہ امید پرستوں کو بھی چونکا کر رکھ دیا ہے۔ کون تصور کرسکتا تھا کہ جنرل مشرف جو بہت مضبوط نظر آرہے تھے محض ایک سال میں اتنے کمزور ہوجائیں گے کہ انھیں اقتدار سے بے دخل ہونا پڑے گا۔ کس کے وہم وگمان میں تھا کہ جن سیاستدانوں کی شکلوں کو جنرل صاحب اور ان کے رفقاء دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے وہ پاکستان میں ان کے برسرِاقتدار رہتے ہوئے داخل ہوجائیں گے۔
اس طرح کون سوچ سکتا تھا کہ جن دو بڑی جماعتوں کو ہر قیمت پر اقتدار سے باہر رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، ان میں سے ایک مرکز جب کہ دوسری پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں برسر اقتدار آجائے گی۔ چلیں یہ سب تو ہوگیا لیکن اس کے بعد بھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔کس کے گمان میں تھا کہ مرکز اور پنجاب کی حکومتوں کو باہم دست وگریباں کر کے پورے نظام کو گرانے اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو اپنی آئینی میعاد مکمل نہ کرنے دینے کی کوشش ناکام ثابت ہوگی؟ یاد کریں وہ دن جب بڑے نامی گرامی اینکر حضرات اور سیاسی پنڈت زرداری حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دیا کرتے تھے۔
اب ذرا یہ بھی دیکھیے کہ کون یہ پیش گوئی کرسکتا تھا کہ محض چند برسوں کے اندر 18 ویں ترمیم پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظورکرالی جائے گی۔ اس ترمیم نے 1973 کے آئین کو مزید جمہوری بنایا بلکہ صوبوں کو وہ خود مختاری عطا کردی جو ہندوستان جیسی جمہوریت میں بھی صوبوں کو حاصل نہیں ہے۔ یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کون کہہ سکتا تھا کہ صوبوں کو غیر معمولی خود مختاری دینے کے عمل میں وہ پارٹی پیش پیش ہوگی جو انتخابی اعتبار سے پنجاب کی نمایندگی کرتی تھی، وہی پنجاب جسے صوبوں کے حقوق کا سب سے بڑا ''غاصب '' اور فوجی حکمرانوں کا حلیف قراردیا جاتا تھا۔
وقت آگے بڑھتا رہا اور پاکستان میں حیران کن واقعات کے رونما ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پانچ سال پہلے مایوس لوگوں کا گروہ یہ کہنے میں تاریخی طور پر درست تھا کہ پی پی پی کی منتخب حکومت وقت سے پہلے ختم کردی جائے گی کیونکہ پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی کوئی منتخب حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرسکی تھی، یہ کام بھی نہ ہوسکا۔
وقت پر انتخابات ہوئے اور نوازشریف اقتدار میں آگئے۔ ماضی کے تجربے کے تحت کہا گیا کہ کسی جماعت کو اکثریت نہیں لینے دی جائے گی کیونکہ مخلوط حکومت کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ وقت نے اس مفروضے کو بھی مسترد کردیا۔ میاں صاحب نے واضح اکثریت حاصل کرکے مستحکم حکومت بنالی۔ یہ مظہر بھی سب نے دیکھا کہ نواز شریف نے کے پی کے میں حکومت سازی کی کوشش نہیں کی اور بلوچستان میں پی این پی کو حکومت بنانے کا موقع دیا اور آج کا بلوچستان پہلے سے کہیں پُر امن اور مستحکم ہے۔
اب وہ مظہر بھی رونما ہونے والا تھا جس کا تصور واقعی بہت کم لوگ کرسکتے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت میں اتفاق رائے ہوگیا۔ نیشنل ایکشن پلان بنا اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے آپریشن کا آغازکردیا گیا ۔ وقت نے یہ مفروضہ بھی باطل کردیا کہ فوجی قیادت یہ کام کبھی نہیں کرے گی۔
افغانستان سے تعلقات بہتر ہونے لگے اور پھر مسئلہ آیا پاک ہند تعلقات کا۔ سب کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر کسی بھی صورت ، سیاسی اور عسکری قیادت میں اتفاق رائے نہیں ہوگا، لیکن حالات تیزی سے بدلے اور دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں ڈرامائی تبدیل ہونے لگی۔
دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی مختصر ملاقات نے سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔ ہر طرف ہلچل مچ گئی، اسی دوران پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوگیا، عام توقعات کے بر عکس دونوں ملکوں کی قیادتوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والوں کو کسی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ یہ تبدیلی اتنی اہم ہے کہ مخصوص مفادات کے حامل عناصر اسے روکنے کے لیے ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔ اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ تبدیلی مخالف قوتیں ملک میں سیاسی بحران اورعدم استحکام پیدا کرنے کی ایک بڑی کوشش کریں گی۔ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکے گی کیونکہ آج دہشت گردی کے خاتمے، خطے میں امن اور جمہوریت کے استحکام کے لیے نہ صرف یہ کہ ہم متحد ہیں بلکہ پوری دنیا پاکستان کے ساتھ ہے۔