استنبول میں المناک واقعہ

بین الاقوامی دہشتگردی ایک بار پھر اپنا بھیانک اورغیر انسانی چہرہ دکھا رہی ہے

دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقوام عالم کو اپنے اختلافات اور مفادات کو پس پشت ڈال کر خلوص نیت سے انسانیت کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ فوٹو : فائل

عہد حاضر میں دہشتگردوں نے عالم انسانیت کا جینا دوبھرکردیا ہے،خیراور شر کی جنگ تو ازل سے جاری ہے اورابد تک جاری رہے گی، لیکن اب دہشتگردوں نے معصوم انسانوں کے قتل کے لیے خودکش بمباروں کی ایک فوج تیارکرلی ہے، دنیا کاکوئی بھی شہر اورملک اس سے محفوظ نہیں رہا ہے، استنبول کے مرکزی سیاحتی مقام پرخودکش دھماکے کے نتیجے میں 10افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 15افراد زخمی ہیں ۔مرنے والوں میں نو جرمن شہری بھی شامل ہیں۔

ترک حکام نے حملے کی ذمے داری داعش پرعائدکی ہے، ترک اوالعزم قوم ہیں، ماضی کی عظیم سلطنت عثمانیہ مسلمانوں کے لیے آج بھی وجہ افتخار ہے، تاریخ میں ایسا وقت گزرا ہے جب وسیع وعریض سلطنت عثمانیہ میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، ترکی عالمی سیاست میں آج نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف چومکھی لڑائی رہا ہے، انتقاماً اسے نشانہ بنایا گیا ہے، غیرملکی سیاحوں کی ہلاکت کے نتیجے میں اس کے تعلقات دوسرے ممالک سے خراب ہوجائیں اور وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے باز آجائے ۔


لیکن ہوا اس کے برعکس ہے ، خودکش دھماکے کے بعد برلن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جرمن چانسلر اینجلا مرکل کا کہنا تھا کہ آج استنبول نشانہ بنا، پیرس نشانہ بن چکا ہے، تیونس نشانہ بن چکا ہے، انقرہ اس سے پہلے نشانہ بن چکا ہے۔ بین الاقوامی دہشتگردی ایک بار پھر اپنا بھیانک اورغیر انسانی چہرہ دکھا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشتگردی کے خلاف جرمنی کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔ ترکی کے وزیراعظم اور صدر نے بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جب کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم نے بھی برادر اسلامی ملک میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے ۔ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے معصوم اذہان کی اس انداز میں برین واشنگ کی جاتی ہے کہ وہ اپنے جسم سے بارودی مواد باندھ کرخودکو اڑا لیتا ہے، اس جھوٹی امید پر کہ اسے جنت ملے گی۔

داعش عالمی امن کے لیے تو ایک خطرہ بنتی ہی جا رہی ہے ، دوسری جانب امن وسلامتی کے دین کا روشن چہرہ داغدار کرنے کی ناپاک جسارت بھی کررہی ہے۔ تاریخ عالم میں آزمائش کی گھڑیاں آتی رہی ہیں، وہ دن ضرور آئے گا ،جب دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ہوگا ،دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقوام عالم کو اپنے اختلافات اور مفادات کو پس پشت ڈال کر خلوص نیت سے انسانیت کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Load Next Story