سعودی ایران مفاہمت پاکستان کے لیے امتحان
مشرق وسطیٰ کی اعصاب شکن صورتحال دنیا کے تقریبا تمام فلیش پوائنٹ سے زیادہ حساسیت کی حامل سمجھی جانے لگی ہے
برادر اور پڑوسی اسلامی ملکوں کے باہمی اضطراب، سرحدی و داخلی مسائل و سیاسی تضادات اتنے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی بھی ایک عظیم الشان امتحان سے کم نہیں۔ فوٹو؛ فائل
مشیربرائے امورخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سعودی قیادت میں 34اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں پاکستان نے باضابطہ طور پر شمولیت اختیارکر لی تاہم اقوام متحدہ کے سوا کسی بھی اتحاد کو زمینی فوج بھجوانا ہماری پالیسی کے خلاف ہے، سعودی عرب نے زمینی فوج مانگی ہے اور نہ ہم بھجوائیں گے۔ یہ بات انھوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں بتائی۔ کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین اویس لغاری کی سربراہی میں ہوا ۔
مشرق وسطیٰ کی اعصاب شکن صورتحال دنیا کے تقریبا تمام فلیش پوائنٹ سے زیادہ حساسیت کی حامل سمجھی جانے لگی ہے جہاں تاریخی عوامل ، زمینی حقائق اور عالمی مفادات کے نشیب وفراز سے سنبھل کر قدم بڑھانے کی ضرورت ہے، مشیر امور خارجہ کی بریفنگ بروقت اور صائب ہے، اراکین پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں سمیت قوم کو اس امر میں مکمل اطمینان دلانا بنیادی ترجیح ہونی چاہیے اور اس سمت میں حکومت نے بلاشبہ درست پیش رفت کی ہے۔
اتحاد میں شمولیت کو دہشتگردی کے خاتمے کے بڑے کاز اور اس موقف کو قومی امنگوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے جن نکات کا سرتاج عزیز نے ذکر کیا ہے ان سے عدم اتفاق کی کوئی وجہ نہیں، مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے دہکتی سلگتی اور آتش فشانی رہی ہے اور نائن الیون کے بعد دنیا دہشتگردی کے جس کثیر جہتی گرداب میں پھنسی ہے اس سے شاید ہی کوئی ملک محفوظ جزیرہ کی صورت روئے ارض پر موجود ہے۔
جن ملکوں کو امن کی جنت کہا جاتا تھا انتہا پسند قوتوں کے انفرادی و گروہی حملوں نے وہاں کے بھی بازار اور رہائشی علاقے لہو رنگ کردیے۔ مشرق وسطیٰ عدم استحکام اور دہشتگردی کے حوالے سے درد انگیز واقعات کی افسوسناک تاریخ بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن کے بعد ایران و سعودی عرب کے مابین کشیدگی اور تنازع نے ہولناک جہت اختیار کی ہے، عالمی امن کی ذمے دار قوتوں کو تشویش ہے کہ دہشتگردی کی جنگ کہیں تیسری عالمگیر جنگ کی چنگاری نہ سلگا دے۔
اس لیے پاکستان... سعودی عرب اور ایران تنازع کو حل کرنے کی کوششوں میں عالمی تعاون کی خواہش رکھتا ہے اور اسے اپنے طور پر بھی مفاہمت کی خاطر کلیدی کردار کے لیے تیار رہنا چاہیے ، اس میں شک نہیں کہ پاکستان اپنے خطے میں نامساعد صورتحال کا سامنا کیے ہوئے ہے، پاک افغانستان تعلقات اور طالبان سے بات چیت ایک آگ کا دریا عبور کرنے کے مترادف ہے، ادھر حرمین شریفین سے روحانی اور مذہبی تعلق اور تاریخی و دینی رشتوںکے حوالے سے سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کو عزیز تر ہے۔
اس لیے وہ کلیتاً ثالثی کے ممکنہ پروسیس سے الگ نہیں رہ سکتا کیونکہ دہشتگردی کے عفریت نے امن کے تمام زون برباد کردیے ہیں ، کوئی ملک اپنے خول میں بند نہیں رہ سکتا، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پاور پالیٹکس اور علاقے میں بالادستی کی خونریز کشمکش میں دنیا تدبر و تحمل اور موثر ترین سفارتی ذرایع اور سیاسی حکمت عملی کی محتاج ہے انھی ذرایع سے صورتحال کی سنگینی کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ مشیر برائے امور خارجہ کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کو تربیت، تکنیکی معاونت، معلومات کے تبادلہ اور اسلحے کی فراہمی میں حصہ لیں گے ۔
انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس 16جنوری کو جدہ میں طلب کیا گیا ہے، پاکستان اس میں سعودی عرب ایران تنازع کے حل کے لیے تجاویز دیگا جب کہ پاکستان شام کے تنازع کے حل کے لیے بھی پرامن بات چیت کی بحالی کا حامی ہے، سعودی عرب کی سالمیت پاکستان کے لیے اہم ہے، پاکستان داعش کے خلاف سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد میں شامل ہوا ہے ، پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان پائی جانیوالی کشیدگی کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور سعودی عرب و ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
بلاشبہ عالمی طاقتوں کی مفاداتی پیش قدمی، خفیہ وارداتوں ، ریشہ دوانیوں اور بدنیتی پر مبنی کارروائیوں نے شام، عراق، لیبیا، یمن، ترکی اور افغانستان کو خطرناک بھنور میں لے لیا ہے۔ بظاہر شام میں داعش کے خلاف عالمی طاقتوں کی فضائی بمباری جاری ہے ، ادھر اطلاع یہ ہے کہ امریکا کے بااثر صحافی سیمور ہرش کی ایک چشم کشا رپورٹ کے مطابق امریکی چیف آف جوائنٹ اسٹاف نے اپنے ہم مناصب روسی، اسرائیلی اور جرمن حکام سے اہم ''انٹیلی جنس شیئرنگ'' کی ہے ۔ جس کے تحت شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار میںٖ رہنے دیا جائے گا، اور اس منصوبہ کی وائٹ ہاؤس کو بوجوہ خبر تک نہیں ہوئی، اس وقت منظر نامہ یہ ہے کہ کم وبیش ہر ملک اپنے دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے چوکنا ہے ۔
برادر اور پڑوسی اسلامی ملکوں کے باہمی اضطراب، سرحدی و داخلی مسائل و سیاسی تضادات اتنے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی بھی ایک عظیم الشان امتحان سے کم نہیں۔ عجم و عرب کا تنازع خود اتنا طویل تاریخی اور مذہبی تناظر اور توسیعی اختلافات سے مزین ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی قومی ریاست کے جائز قیام اور انسانی حقوق کے حصول کی جنگ میں اسرائیلی جارحیت ، ہٹ دھرمی اور غیر انسانی مظالم کا سامنا ہے، جب کہ عراق وشام اور یمن و سعودی عرب کے مابین پیدا شدہ صورتحال نے عالم اسلام کو مزید صدمات سے دوچار کردیا ہے۔ پاکستان کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔
مشرق وسطیٰ کی اعصاب شکن صورتحال دنیا کے تقریبا تمام فلیش پوائنٹ سے زیادہ حساسیت کی حامل سمجھی جانے لگی ہے جہاں تاریخی عوامل ، زمینی حقائق اور عالمی مفادات کے نشیب وفراز سے سنبھل کر قدم بڑھانے کی ضرورت ہے، مشیر امور خارجہ کی بریفنگ بروقت اور صائب ہے، اراکین پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں سمیت قوم کو اس امر میں مکمل اطمینان دلانا بنیادی ترجیح ہونی چاہیے اور اس سمت میں حکومت نے بلاشبہ درست پیش رفت کی ہے۔
اتحاد میں شمولیت کو دہشتگردی کے خاتمے کے بڑے کاز اور اس موقف کو قومی امنگوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے جن نکات کا سرتاج عزیز نے ذکر کیا ہے ان سے عدم اتفاق کی کوئی وجہ نہیں، مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے دہکتی سلگتی اور آتش فشانی رہی ہے اور نائن الیون کے بعد دنیا دہشتگردی کے جس کثیر جہتی گرداب میں پھنسی ہے اس سے شاید ہی کوئی ملک محفوظ جزیرہ کی صورت روئے ارض پر موجود ہے۔
جن ملکوں کو امن کی جنت کہا جاتا تھا انتہا پسند قوتوں کے انفرادی و گروہی حملوں نے وہاں کے بھی بازار اور رہائشی علاقے لہو رنگ کردیے۔ مشرق وسطیٰ عدم استحکام اور دہشتگردی کے حوالے سے درد انگیز واقعات کی افسوسناک تاریخ بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن کے بعد ایران و سعودی عرب کے مابین کشیدگی اور تنازع نے ہولناک جہت اختیار کی ہے، عالمی امن کی ذمے دار قوتوں کو تشویش ہے کہ دہشتگردی کی جنگ کہیں تیسری عالمگیر جنگ کی چنگاری نہ سلگا دے۔
اس لیے پاکستان... سعودی عرب اور ایران تنازع کو حل کرنے کی کوششوں میں عالمی تعاون کی خواہش رکھتا ہے اور اسے اپنے طور پر بھی مفاہمت کی خاطر کلیدی کردار کے لیے تیار رہنا چاہیے ، اس میں شک نہیں کہ پاکستان اپنے خطے میں نامساعد صورتحال کا سامنا کیے ہوئے ہے، پاک افغانستان تعلقات اور طالبان سے بات چیت ایک آگ کا دریا عبور کرنے کے مترادف ہے، ادھر حرمین شریفین سے روحانی اور مذہبی تعلق اور تاریخی و دینی رشتوںکے حوالے سے سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کو عزیز تر ہے۔
اس لیے وہ کلیتاً ثالثی کے ممکنہ پروسیس سے الگ نہیں رہ سکتا کیونکہ دہشتگردی کے عفریت نے امن کے تمام زون برباد کردیے ہیں ، کوئی ملک اپنے خول میں بند نہیں رہ سکتا، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پاور پالیٹکس اور علاقے میں بالادستی کی خونریز کشمکش میں دنیا تدبر و تحمل اور موثر ترین سفارتی ذرایع اور سیاسی حکمت عملی کی محتاج ہے انھی ذرایع سے صورتحال کی سنگینی کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ مشیر برائے امور خارجہ کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کو تربیت، تکنیکی معاونت، معلومات کے تبادلہ اور اسلحے کی فراہمی میں حصہ لیں گے ۔
انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس 16جنوری کو جدہ میں طلب کیا گیا ہے، پاکستان اس میں سعودی عرب ایران تنازع کے حل کے لیے تجاویز دیگا جب کہ پاکستان شام کے تنازع کے حل کے لیے بھی پرامن بات چیت کی بحالی کا حامی ہے، سعودی عرب کی سالمیت پاکستان کے لیے اہم ہے، پاکستان داعش کے خلاف سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد میں شامل ہوا ہے ، پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان پائی جانیوالی کشیدگی کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور سعودی عرب و ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
بلاشبہ عالمی طاقتوں کی مفاداتی پیش قدمی، خفیہ وارداتوں ، ریشہ دوانیوں اور بدنیتی پر مبنی کارروائیوں نے شام، عراق، لیبیا، یمن، ترکی اور افغانستان کو خطرناک بھنور میں لے لیا ہے۔ بظاہر شام میں داعش کے خلاف عالمی طاقتوں کی فضائی بمباری جاری ہے ، ادھر اطلاع یہ ہے کہ امریکا کے بااثر صحافی سیمور ہرش کی ایک چشم کشا رپورٹ کے مطابق امریکی چیف آف جوائنٹ اسٹاف نے اپنے ہم مناصب روسی، اسرائیلی اور جرمن حکام سے اہم ''انٹیلی جنس شیئرنگ'' کی ہے ۔ جس کے تحت شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار میںٖ رہنے دیا جائے گا، اور اس منصوبہ کی وائٹ ہاؤس کو بوجوہ خبر تک نہیں ہوئی، اس وقت منظر نامہ یہ ہے کہ کم وبیش ہر ملک اپنے دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے چوکنا ہے ۔
برادر اور پڑوسی اسلامی ملکوں کے باہمی اضطراب، سرحدی و داخلی مسائل و سیاسی تضادات اتنے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی بھی ایک عظیم الشان امتحان سے کم نہیں۔ عجم و عرب کا تنازع خود اتنا طویل تاریخی اور مذہبی تناظر اور توسیعی اختلافات سے مزین ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی قومی ریاست کے جائز قیام اور انسانی حقوق کے حصول کی جنگ میں اسرائیلی جارحیت ، ہٹ دھرمی اور غیر انسانی مظالم کا سامنا ہے، جب کہ عراق وشام اور یمن و سعودی عرب کے مابین پیدا شدہ صورتحال نے عالم اسلام کو مزید صدمات سے دوچار کردیا ہے۔ پاکستان کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔