ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیوں میں کمی آگئی
کور کمیٹی کے اجلاس اب ایوان صدر میں نہیں ہونگے، معتمد خاص کی نجی ٹی وی سے گفتگو
کور کمیٹی کے اجلاس اب ایوان صدر میں نہیں ہونگے، معتمد خاص کی نجی ٹی وی سے گفتگو فوٹو: رائٹرز/فائل
اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور لاہور ہائی کورٹ میں صدر کے دو عہدوں کیخلاف احکامات کے بعد ایوان صدر فی الحال میڈیا کی حد تک سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ایک نجی ٹی وی کے مطابق صدر کے ایک معتمد خاص نے بتایا کہ ماضی میں پی پی کور کمیٹی کے باقاعدگی سے منعقد ہونے والے اجلاساب باضابطہ طور پر ایوان صدر میں نہیں ہوں گے بلکہ آئندہ اس طرح کی ملاقاتیں صرف کھانے کی میز تک محدود رہیں گی۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے تصدیق کی ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کے حوالے سے پارٹی میں بحث ہوئی ہے لیکن انھوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ پارٹی کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے اجلاسوں نے اب غیر رسمی شکل اختیار کر لی ہے تاکہ ایوان صدر میں پارٹی سرگرمیوں پر ہونے والی تنقید کا رخ موڑا جا سکے۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق پارٹی رہنما اب بھی ایوان صدر آتے جاتے ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے حوالے سے اب کوئی سرکاری اعلامیے جاری نہیں کیے جاتے۔ صدر زرداری کو ایوان صدر میں پی پی کے اجلاس منعقد کرنے پر حزب اختلاف کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔
قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے میں وفاق کے وکیل وسیم سجاد کو ہدایت دی تھی کہ وہ اگلی سماعت پر صدر زرداری کے بطور شریک چیئرمین پی پی سے جڑی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ایوان صدر کا واضح جواب دائر کریں۔ واضح رہے کہ متعلقہ مقدمے میں منگل کو عدالت میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایوان صدر سیاسی سرگرمیاں ختم کرنے کو تیار نہیں اور یہ اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے کی توہین کے مترادف ہے۔ صدر کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کے سامنے موقف اپنایا کہ چونکہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ایوان صدر میں سرگرمیوں کو چیلنج نہیں کیا اس لیے وکیلوں کی جانب سے دائر درخواستوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور انہیں مسترد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اس حوالے سے ایوان صدر سے واضح جواب طلب کیا ہے۔
ایک نجی ٹی وی کے مطابق صدر کے ایک معتمد خاص نے بتایا کہ ماضی میں پی پی کور کمیٹی کے باقاعدگی سے منعقد ہونے والے اجلاساب باضابطہ طور پر ایوان صدر میں نہیں ہوں گے بلکہ آئندہ اس طرح کی ملاقاتیں صرف کھانے کی میز تک محدود رہیں گی۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے تصدیق کی ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کے حوالے سے پارٹی میں بحث ہوئی ہے لیکن انھوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ پارٹی کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے اجلاسوں نے اب غیر رسمی شکل اختیار کر لی ہے تاکہ ایوان صدر میں پارٹی سرگرمیوں پر ہونے والی تنقید کا رخ موڑا جا سکے۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق پارٹی رہنما اب بھی ایوان صدر آتے جاتے ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے حوالے سے اب کوئی سرکاری اعلامیے جاری نہیں کیے جاتے۔ صدر زرداری کو ایوان صدر میں پی پی کے اجلاس منعقد کرنے پر حزب اختلاف کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔
قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے میں وفاق کے وکیل وسیم سجاد کو ہدایت دی تھی کہ وہ اگلی سماعت پر صدر زرداری کے بطور شریک چیئرمین پی پی سے جڑی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ایوان صدر کا واضح جواب دائر کریں۔ واضح رہے کہ متعلقہ مقدمے میں منگل کو عدالت میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایوان صدر سیاسی سرگرمیاں ختم کرنے کو تیار نہیں اور یہ اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے کی توہین کے مترادف ہے۔ صدر کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کے سامنے موقف اپنایا کہ چونکہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ایوان صدر میں سرگرمیوں کو چیلنج نہیں کیا اس لیے وکیلوں کی جانب سے دائر درخواستوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور انہیں مسترد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اس حوالے سے ایوان صدر سے واضح جواب طلب کیا ہے۔