ہندو انتہاپسندوں نے کشمیری ڈاکٹرپرکتے چھوڑ دیے
دہلی کے اسپتال میں کام کرنیوالے عامر اور عمران کو بوگال میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا
کشمیری طلبا اور تاجروں کو بھارت میں ہر جگہ بہیمانہ برتاؤ کا نشانہ بنا یا جاتا ہے، حریت کانفرنس فوٹو : فائل
نئی دہلی میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک کشمیری ڈاکٹر اوراسکے صحافی دوست کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ان کے پیچھے خونخوار کتے چھوڑ دیے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کے ایک اسپتال میں کام کرنے والے عامرخان نامی ڈاکٹراوراس کے دوست عمران شاہ کو بوگال کے علاقے میں اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک رشتے دار کے گھر جا رہے تھے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری طلبا اور تاجروں کو بھارت میں ہر جگہ بہیمانہ برتاؤ کا نشانہ بنا یا جاتا ہے۔ اے پی ایچ سی کے ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمے داری بھارتی حکومت کی ہے جسے اسے پورا کرنا چاہیے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کے ایک اسپتال میں کام کرنے والے عامرخان نامی ڈاکٹراوراس کے دوست عمران شاہ کو بوگال کے علاقے میں اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک رشتے دار کے گھر جا رہے تھے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری طلبا اور تاجروں کو بھارت میں ہر جگہ بہیمانہ برتاؤ کا نشانہ بنا یا جاتا ہے۔ اے پی ایچ سی کے ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمے داری بھارتی حکومت کی ہے جسے اسے پورا کرنا چاہیے۔