مقبوضہ کشمیر میں اسلام مخالف خاکوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے

مظاہرین کا تھانے پر دھاوا، فیس بک پر خاکے اپ لوڈ کرنیوالے دو انتہا پسند ہندو گرفتار

مظاہرین کا تھانے پر دھاوا، فیس بک پر خاکے اپ لوڈ کرنیوالے دو انتہا پسند ہندو گرفتار. فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں کشتواڑ اور بدرواہ میں سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک پر اسلام مخالف خاکے اپ لوڈ کرنے کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔


کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض انتظامیہ کی جانب سے فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف زبردست مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے چھاترو کے علاقے میں پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور سٹیشن کے کمپلیکس پر دھرنا دیا۔ بھارتی پولیس نے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے دو انتہا پسندوں کشوری شرما اور باشی لال کو توہین آمیز خاکے فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کے الزامات میں گرفتار کرلیا۔

اس موقع پر حریت رہنما محمد شفیع رنگریز نے کہا کہ اسلام مخالف عناصر نے علاقے میں مسلمانوں کے خلاف ایک جارحانہ مہم شروع کررکھی ہے جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں ایک بھارتی فوجی ضلع پونچھ میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکہ میں زخمی ہوگیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجی اگلی چوکی کی طرف جارہا تھا کہ کرنی کے علاقے میں اس کا پائوں بارودی سرنگ کے اوپر آنے سے کٹ گیا۔ فوجی کو فوری طورپر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
Load Next Story