دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی ضرورت

دنیا کے مسلم ممالک کو لپیٹ میں لینے والی ان کارروائیوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا

اب دیکھنا یہ ہے ایک مربوط و عالمگیر مسلم ممالک کے دہشتگردی مخالف حالیہ اتحاد کی عملی صورت کیا بنتی ہے، تاہم مسلم امہ کو بروقت فیصلہ کرنا ہو گا۔ فوٹو : اے ایف پی

ISLAMABAD:
دہشتگردی کے عالمی تسلسل میں انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ بھی فائرنگ اور دھماکوں سے لرز اٹھا، 17افراد جاں بحق ہوئے جب کہ اسی قسم کی الم ناک کارروائی ترکی کے کرد اکثریتی علاقہ بارکر کے قریب پولیس ہیڈکوارٹرز پر کار بم حملے میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ دنیا کے مسلم ممالک کو لپیٹ میں لینے والی ان کارروائیوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، پاکستان و ترک سفارتخانہ کے قریب بھی 3 خود کش دھماکے کیے گئے، ان تمام کی داعش نے ذمے داری قبول کر لی۔ اگرچہ دہشتگردی کے ان لرزہ خیز واقعات کے پیچھے داعش کا نام لیا جاتا ہے مگر وسیع تر معنوں میں اسے مسلم ملکوں کو لاحق انتہا پسندی اور انارکی کے داخلی خطرہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ان طاقتوں نے اب کھلی انتقامی اور بزدلانہ کارروائیوں سے عالم اسلام کو ششدر کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے جس سے نمٹنے کے لیے مسلم امہ کو ''پان اسلام ازم'' جیسے ٹھوس اور نتیجہ خیز اتحاد و اشتراک پر متفق ہونا پڑیگا، ایسا اتحاد جو فرقہ واریت، مسلک اور پر تشدد مذہبی نظریات پر مبنی فلسفہ سے ہٹ کر زمینی حقائق اور دہشتگردی مخالف میکنزم پر استوار ہو۔ میڈیا کے مطابق ترک وزیر اعظم داؤد احمد اوغلو نے بتایا کہ ترک بری فوج نے شام اور عراق میں انتہا پسند تنظیم داعش کے ٹھکانوں پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 200 افراد مارے گئے ، یہ کارروائی داعش کی جانب سے استنبول کے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرنے کے اعلان کے فوری بعد عمل میں آئی۔


واقعاتی تناظر نے پاکستان کو بھی متحرک کیا ہے جس کے تحت پاکستان میں سرگرم چند افغان شدت پسند گروپوں کی جانب سے جڑواں شہروں سمیت ملحقہ علاقوں میں دہشتگردی کے خدشہ کے پیش نظر داخلی اور خارجی راستوں پر کڑی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندانہ کارروائیوں کے لیے مختلف عناصر کو ٹاسک دیے ہیں، متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ٹیکسلا، حویلیاں سمیت دیگر علاقوں میں حساس تنصیبات کی سیکیورٹی بڑھائی جائے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں داعش کے خراسان گروپ کو غیر ملکی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کا اعلان کیا ہے، تنظیم سے ہر قسم کے لین دین پر پابندی ہو گی۔ داعش نے پچھلے سال جنوری میں افغانستان میں خراسان گروپ بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے منحرف جنگجوؤں نے شمولیت اختیار کی تھی۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے ایک مربوط و عالمگیر مسلم ممالک کے دہشتگردی مخالف حالیہ اتحاد کی عملی صورت کیا بنتی ہے، تاہم مسلم امہ کو بروقت فیصلہ کرنا ہو گا۔ دہشتگردوں کو سرینڈر کرائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
Load Next Story