پاک بھارت مذاکرات ہر صورت ہونے چاہئیں
پاکستان اور بھارت کےدرمیان15جنوری کوخارجہ سیکریٹریوں کی سطح کےمذاکرات ہونےتھےجوپٹھان کوٹ حملےکی وجہ سےموخر ہوگئے ہیں
پاک بھارت حکومتوں کو اب یہ طے کر لینا چاہیے کہ کوئی بھی سانحہ امن مذاکرات کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ فوٹو : فائل
وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے باہمی رضامندی سے دوطرفہ مذاکرات ملتوی کردیے ہیں تاہم نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، یہ مذاکرات مستقبل قریب میں ہونگے، اس بات چیت کے سلسلے میں نئی تاریخوں کے تعین کے لیے بھارت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب بھارتی دفترخارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی رضامندی سے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان مذاکرات بہت مختصر مدت کے لیے موخر کیے گئے ہیں، ہم جیش محمد کے خلاف کارروائی کو پہلا اہم اور مثبت قدم مانتے ہیں،تحقیقات کے لیے بھارت آنے والی پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم تحقیقاتی ٹیم کا مینڈیٹ بعد میں طے کیا جائے گا اور اگر پاکستان نے مزید ثبوت مانگے تو تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کیے جائیں گے' دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستانی کارروائیاں درست سمت میں جاری ہیں' جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری سے متعلق ہمیں کوئی خبر نہیں' پاکستان اور بھارت اچھے ہمسایے کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 15جنوری کو خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات ہونے تھے جو پٹھان کوٹ حملے کی وجہ سے موخر ہو گئے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ دونوں ملکوں نے باہمی رضامندی سے مذاکرات موخر کرنے کا اعلان کیا جو اس امر کا عندیہ دیتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں بھارتی رویے میں حیرت انگیز حد تک تبدیلی آئی اور اسے اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے کہ خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے دوستانہ تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بہتر تعلقات کو ہموار کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں جسے مخالفانہ قوتوں کی جانب سے سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری رہنا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھیں گے۔
پہلے جب بھی بھارت میں کوئی واقعہ رونما ہوتا تو بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار ہوتا ' الزام تراشیوں اور ہرزہ سرائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا مگر اس بار بھارتی حکومت کا رویہ اس کے بالکل برعکس سامنے آیا جو دشمن قوتوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ امن کی راہ روکنے کے لیے ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت نے بھی سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد فراہم کردہ بھارتی معلومات پر بروقت کارروائی کر کے پوری دنیا پر یہ عیاں کر دیا کہ وہ کسی بھی طور پر بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت نہیں کر رہا اور وہ خطے کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے مخلص اور پرعزم ہے۔
پاکستان کے اس خلوص اور نیک نیتی کا بھارتی حکومت کو بھی اعتراف کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ پاکستان کی سمت درست ہے اور دہشت گردوں کے خلاف اس کی کارروائیوں کو مثبت قدم مانتے ہیں۔ جہاں پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر کے بھارت کو دوستانہ تعلقات بحال کرنے کے لیے اپنی نیک نیتی کا یقین دلا رہا ہے وہیں بھارت میں پاکستانیوں کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کی کارروائیوں پر بھارتی حکومت کے نرم رویے نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔
جمعرات کو نئی دہلی میں بھارتی انتہا پسندوں نے پی آئی اے کے دفتر پر حملہ کر دیا اور عملے کو زدوکوب کیا ،دفتر کے شیشوں' کھڑکیوں اور دیگر سامان کو توڑ دیا' پاکستان نے اس سلسلے میں بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔بھارت میں پاکستانی عمارات اور عملے کی حفاظت کرنا وہاں کی حکومت کی ذمے داری ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی اس ذمے داری کو بخوبی نہیں نبھا رہی اور اس نے پاکستانیوں کو انتہا پسند ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکومت انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔
اس قسم کے واقعات دیکھتے ہوئے بعض تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں کہ پاکستان تو دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے اور بھارت پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے والے انتہا پسند ہندوؤں کو کھلی چھوٹ دے دے اس سے بغل میں چھری منہ میں رام رام کا راگ الاپنے والے بھارت کی نیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ابھی تو پاکستانی تحقیقاتی ٹیم مزید شواہد کے لیے بھارت جائے گی اور اس کے بعد مزید اقدامات کیے جائیں گے لہٰذا پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کتنا عرصہ لگتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا' اس لیے وقت ضایع کرنے کے بجائے پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے۔
ماضی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں یہ خدشہ اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ جیسے ہی پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گا تو پھر کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہو سکتا ہے اور تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کی جا سکتی ہے' لہٰذا پاک بھارت حکومتوں کو اب یہ طے کر لینا چاہیے کہ کوئی بھی سانحہ امن مذاکرات کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا اور دوستانہ تعلقات ہموار کرنے کے لیے بات چیت کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ ہر صورت جاری رہے گا کیونکہ اسی راہ پر چل کر اس خطے کے مستقبل کو روشن کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی دفترخارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی رضامندی سے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان مذاکرات بہت مختصر مدت کے لیے موخر کیے گئے ہیں، ہم جیش محمد کے خلاف کارروائی کو پہلا اہم اور مثبت قدم مانتے ہیں،تحقیقات کے لیے بھارت آنے والی پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم تحقیقاتی ٹیم کا مینڈیٹ بعد میں طے کیا جائے گا اور اگر پاکستان نے مزید ثبوت مانگے تو تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کیے جائیں گے' دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستانی کارروائیاں درست سمت میں جاری ہیں' جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری سے متعلق ہمیں کوئی خبر نہیں' پاکستان اور بھارت اچھے ہمسایے کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 15جنوری کو خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات ہونے تھے جو پٹھان کوٹ حملے کی وجہ سے موخر ہو گئے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ دونوں ملکوں نے باہمی رضامندی سے مذاکرات موخر کرنے کا اعلان کیا جو اس امر کا عندیہ دیتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں بھارتی رویے میں حیرت انگیز حد تک تبدیلی آئی اور اسے اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے کہ خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے دوستانہ تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بہتر تعلقات کو ہموار کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں جسے مخالفانہ قوتوں کی جانب سے سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری رہنا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھیں گے۔
پہلے جب بھی بھارت میں کوئی واقعہ رونما ہوتا تو بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار ہوتا ' الزام تراشیوں اور ہرزہ سرائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا مگر اس بار بھارتی حکومت کا رویہ اس کے بالکل برعکس سامنے آیا جو دشمن قوتوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ امن کی راہ روکنے کے لیے ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت نے بھی سانحہ پٹھان کوٹ کے بعد فراہم کردہ بھارتی معلومات پر بروقت کارروائی کر کے پوری دنیا پر یہ عیاں کر دیا کہ وہ کسی بھی طور پر بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت نہیں کر رہا اور وہ خطے کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے مخلص اور پرعزم ہے۔
پاکستان کے اس خلوص اور نیک نیتی کا بھارتی حکومت کو بھی اعتراف کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ پاکستان کی سمت درست ہے اور دہشت گردوں کے خلاف اس کی کارروائیوں کو مثبت قدم مانتے ہیں۔ جہاں پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر کے بھارت کو دوستانہ تعلقات بحال کرنے کے لیے اپنی نیک نیتی کا یقین دلا رہا ہے وہیں بھارت میں پاکستانیوں کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کی کارروائیوں پر بھارتی حکومت کے نرم رویے نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔
جمعرات کو نئی دہلی میں بھارتی انتہا پسندوں نے پی آئی اے کے دفتر پر حملہ کر دیا اور عملے کو زدوکوب کیا ،دفتر کے شیشوں' کھڑکیوں اور دیگر سامان کو توڑ دیا' پاکستان نے اس سلسلے میں بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔بھارت میں پاکستانی عمارات اور عملے کی حفاظت کرنا وہاں کی حکومت کی ذمے داری ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی اس ذمے داری کو بخوبی نہیں نبھا رہی اور اس نے پاکستانیوں کو انتہا پسند ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکومت انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔
اس قسم کے واقعات دیکھتے ہوئے بعض تجزیہ نگار یہ کہتے ہیں کہ پاکستان تو دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرے اور بھارت پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے والے انتہا پسند ہندوؤں کو کھلی چھوٹ دے دے اس سے بغل میں چھری منہ میں رام رام کا راگ الاپنے والے بھارت کی نیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ابھی تو پاکستانی تحقیقاتی ٹیم مزید شواہد کے لیے بھارت جائے گی اور اس کے بعد مزید اقدامات کیے جائیں گے لہٰذا پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کتنا عرصہ لگتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا' اس لیے وقت ضایع کرنے کے بجائے پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے۔
ماضی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں یہ خدشہ اپنی جگہ اب بھی موجود ہے کہ جیسے ہی پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گا تو پھر کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہو سکتا ہے اور تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کی جا سکتی ہے' لہٰذا پاک بھارت حکومتوں کو اب یہ طے کر لینا چاہیے کہ کوئی بھی سانحہ امن مذاکرات کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا اور دوستانہ تعلقات ہموار کرنے کے لیے بات چیت کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ ہر صورت جاری رہے گا کیونکہ اسی راہ پر چل کر اس خطے کے مستقبل کو روشن کیا جا سکتا ہے۔