نومنتخب بلدیاتی امیدواروں کی حلف برداری
عوامی مفادات کے حق میں بلدیاتی انتخابات کے تمام مراحل کی تکمیل خوش آیند ہے
الیکشن کمیشن کے مطابق اگلے مرحلے میں مخصوص نشستوں کے انتخابات منعقد ہوں گے، فوٹو : آن لائن
بلدیاتی انتخابات کے تینوں مراحل مکمل ہونے کے سوا ماہ بعد پنجاب اور سندھ سے کامیاب ہونے والے چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز اور وارڈ ممبرز نے حلف اٹھا لیا، تاہم بلدیاتی اداروں کی تکمیل مکمل طور پر مارچ یا اپریل 2016ء میں ہو گی جس کے بعد ان کے سربراہوں کا چناؤ ہو گا اور اختیارات مارچ 2016ء کے بعد ملیں گے۔ دیر آید درست آید کے مصداق بلاشبہ تاخیر ہوئی لیکن عوامی مفادات کے حق میں بلدیاتی انتخابات کے تمام مراحل کی تکمیل خوش آیند ہے۔
ریٹرننگ افسروں نے نومنتخب بلدیاتی نمایندوں سے ملک سے وفاداری، گڈگورننس اور لوکل آرڈیننس 2013ء کے مطابق ذمے داریوں کی ادائیگی اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا حلف لیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ واضح رہے کہ کراچی میں 7 سال کی تاخیر کے بعد منتخب بلدیاتی نظام بحال ہوا ہے جس کی غیر موجودگی میں شہر کا نظام تلپٹ ہو گیا تھا، بلدیاتی ادارے زبوں حالی کا شکار اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ بلدیاتی نظام بحال ہونے کے بعد امید واثق ہے کہ شہر میں صفائی ستھرائی، ٹوٹی سڑکوں اور پانی کے مسائل حل ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی سے مجموعی طور پر 1520 بلدیاتی نمایندے منتخب ہوئے ہیں جن میں 1510 نمایندوں نے حلف اٹھایا ہے، دیگر 10 اراکین مختلف وجوہات کی بنا پر حلف نہ اٹھا سکے جن کے حلف بعد میں لیے جائیں گے۔
ایم کیوایم کے نامزد کردہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر کے امیدوار وسیم اختر اور ڈپٹی میئر کے امیدوار ڈاکٹر ارشد وہرہ نے بحیثیت یوسی چیئرمین حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب کا خاص حسن قومی زبان اردو میں ان کا انعقاد تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اگلے مرحلے میں مخصوص نشستوں کے انتخابات منعقد ہوں گے، بعدازاں میئر و ڈپٹی میئر، چیئرمین ضلعی میونسپل کارپوریشنز اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کا انتخاب ہو گا۔
بلدیہ عظمیٰ لاہور کی 274 یونین کونسلز کے چیئرمینوں، وائس چیئرمینوں اور جنرل کونسلرز نے اختیارات اور دفاتر نہ ہونے کے باوجود حلف اٹھا لیا۔ منتخب نمایندوں کی حلف برداری انتخابات کے دس دن بعد ہو جانا چاہیے تھی تاہم تاخیری حربے استعمال کیے گئے، لیکن جو غلطیاں ہو چکی ہیں انھیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ صرف بلدیاتی نظام قائم کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ نمایندوں کو بلدیاتی اختیارات بھی مکمل طور پر دیے جائیں تا کہ عوامی نمایندے بلا امتیاز رنگ و نسل عوام کی خدمت کر سکیں۔
ریٹرننگ افسروں نے نومنتخب بلدیاتی نمایندوں سے ملک سے وفاداری، گڈگورننس اور لوکل آرڈیننس 2013ء کے مطابق ذمے داریوں کی ادائیگی اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا حلف لیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ واضح رہے کہ کراچی میں 7 سال کی تاخیر کے بعد منتخب بلدیاتی نظام بحال ہوا ہے جس کی غیر موجودگی میں شہر کا نظام تلپٹ ہو گیا تھا، بلدیاتی ادارے زبوں حالی کا شکار اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ بلدیاتی نظام بحال ہونے کے بعد امید واثق ہے کہ شہر میں صفائی ستھرائی، ٹوٹی سڑکوں اور پانی کے مسائل حل ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی سے مجموعی طور پر 1520 بلدیاتی نمایندے منتخب ہوئے ہیں جن میں 1510 نمایندوں نے حلف اٹھایا ہے، دیگر 10 اراکین مختلف وجوہات کی بنا پر حلف نہ اٹھا سکے جن کے حلف بعد میں لیے جائیں گے۔
ایم کیوایم کے نامزد کردہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر کے امیدوار وسیم اختر اور ڈپٹی میئر کے امیدوار ڈاکٹر ارشد وہرہ نے بحیثیت یوسی چیئرمین حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب کا خاص حسن قومی زبان اردو میں ان کا انعقاد تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اگلے مرحلے میں مخصوص نشستوں کے انتخابات منعقد ہوں گے، بعدازاں میئر و ڈپٹی میئر، چیئرمین ضلعی میونسپل کارپوریشنز اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کا انتخاب ہو گا۔
بلدیہ عظمیٰ لاہور کی 274 یونین کونسلز کے چیئرمینوں، وائس چیئرمینوں اور جنرل کونسلرز نے اختیارات اور دفاتر نہ ہونے کے باوجود حلف اٹھا لیا۔ منتخب نمایندوں کی حلف برداری انتخابات کے دس دن بعد ہو جانا چاہیے تھی تاہم تاخیری حربے استعمال کیے گئے، لیکن جو غلطیاں ہو چکی ہیں انھیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ صرف بلدیاتی نظام قائم کرنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ نمایندوں کو بلدیاتی اختیارات بھی مکمل طور پر دیے جائیں تا کہ عوامی نمایندے بلا امتیاز رنگ و نسل عوام کی خدمت کر سکیں۔