راہداری منصوبے پر اتفاق رائے کی نوید
مغربی روٹ پہلے مرحلے میں چار لین ایکسپریس وے ہو گی تاہم اس کو 6 لین تک موٹر وے میں تبدیل کرنے کی سہولت ہو گی
سیاسی جماعتوں کو اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہیے۔ بالخصوص قومی اہمیت کے معاملات پر لب کشائی سے قبل خوب سوچ سمجھ کر کوئی لائن اختیار کرنی چاہیے، فوٹو : پی آئی ڈی
پاک چین اقتصادی راہداری منصوے پر چھوٹے صوبوں کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے خاصے عرصے سے تحفظات کا اظہار تمام تر وضاحتوں کے باوجود کیا جاتا رہا ہے۔ ادھر حکومت کہتی رہی ہے کہ چھوٹے صوبوں کے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں تاہم اعتراضات بدستور جاری رہے۔
اس دوران بعض حلقوں نے یہ خدشہ بھی محسوس کیا کہ خدا نخواستہ اس ''گیم چینجر'' کہلوانے والے منصوبے کا حشر بھی کہیں کالا باغ ڈیم جیسا نہ ہو جائے حالانکہ اس منصوبے کو تمام ماہرین کی طرف سے پاکستان کی آبی اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔ جہاں تک اقتصادی راہداری کے منصوبے کا تعلق ہے تو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کُل جماعتی کانفرنس کے ذریعے اختلافات ختم کرا کے منصوبے کو قومی اتفاق رائے کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے منصوبے پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کے لیے اپنی سربراہی میں پانچوں وزراء اعلیٰ سمیت 10 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے اقتصادی راہداری کی تیز تر تکمیل کی ہدایت کر دی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت جمعہ کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونیوالے اجلاس میں پایا گیا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے نمایندوں نے شکوہ کیا کہ منصوبے سے متعلق وزیر اعظم نے گزشتہ برس مغربی روٹ پہلے بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں بجٹ میں صرف مشرقی روٹ کے لیے رقم مختص کی گئی جس پر وزیر اعظم نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ باہمی مشاورت کے ساتھ منصوبے کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور وزیر اعظم بنفس نفیس تعمیراتی پیشرفت کا جائزہ لیں گے، نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کے دیگر ارکان میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، وفاقی وزیر پانی و بجلی، وزیر ریلویز، وزیر مواصلات بھی شامل ہوں گے۔
وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں صوبوں کے ساتھ رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک سیل تشکیل دیا جائے گا، صنعتی پارکس کے مقام کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ''ایک راہداری، متنوع راستے'' کے اصول پر کام کرتے ہوئے اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ 15 جولائی 2018ء کی حتمی مدت کے ساتھ ترجیحی طور پر تعمیر کیا جائے گا، اور ضرورت پڑی تو اس کے لیے 40 ارب روپے کی موجودہ مختص رقم کو بڑھا دیا جائے گا۔
مغربی روٹ پہلے مرحلے میں چار لین ایکسپریس وے ہو گی تاہم اس کو 6 لین تک موٹر وے میں تبدیل کرنے کی سہولت ہو گی جس کے لیے اراضی کی ذمے داری کے پی کے حکومت کی ہو گی جب کہ فنڈز وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔ اجلاس کے تمام شرکاء نے پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ نیا ادارہ جاتی فریم ورک مستقبل میں علاقائی خدشات بہتر انداز میں دور کرنے میں معاون ہو گا۔ اجلاس کے تمام شرکا نے اتفاق کیا کہ منصوبہ ملک کو ایک طاقتور اقتصادی مرکز میں تبدیل کر دے گا۔ قومی رہنماؤں کے اتحاد سے پاک چین کوریڈور کو ایک نئی طاقت حاصل ہوئی ہے۔ اس ضمن میں تمام سیاسی قیادت نے بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کیے ہیں۔
یہ تجویز بھی موجود ہے کہ واخان کی پٹی، چترال کے راستے تاجکستان کو ملانے کا راستہ جو پہلے سے موجود ہے اسے بھی اقتصادی راہداری میں شامل کیا جائے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی اقتصادی و معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اس منصوبے پر کوئی بھی بات کرتے ہوئے ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ محض مخالفت برائے مخالفت سے اس قدر اہم منصوبے کو خراب نہ کیا جائے جیسے کہ اس سے قبل کالا باغ جیسے حد سے زیادہ اہم منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔
پاکستان میں یہ کلچر عام ہو گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس جب کوئی ایشو نہیں ہوتا تو وہ علاقائیت، لسانیت یا نسل کی بنیاد پر سیاست شروع کر دیتی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے قومی نوعیت کے حساس منصوبوں کو بھی متنازعہ بنانے سے گریز نہیں کرتیں۔ اس کلچر نے ملک میں بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔
یہ کلچر اب ختم ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہیے۔ بالخصوص قومی اہمیت کے معاملات پر لب کشائی سے قبل خوب سوچ سمجھ کر کوئی لائن اختیار کرنی چاہیے تا کہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے ملک و قوم کا بھاری نقصان نہ ہو جائے۔ چین پاکستان راہداری منصوبہ جس کو اصطلاح میں سی پی ای سی کہا گیا ہے،یہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے میں ایک انقلاب انگیز تبدیلی پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔
اس دوران بعض حلقوں نے یہ خدشہ بھی محسوس کیا کہ خدا نخواستہ اس ''گیم چینجر'' کہلوانے والے منصوبے کا حشر بھی کہیں کالا باغ ڈیم جیسا نہ ہو جائے حالانکہ اس منصوبے کو تمام ماہرین کی طرف سے پاکستان کی آبی اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔ جہاں تک اقتصادی راہداری کے منصوبے کا تعلق ہے تو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کُل جماعتی کانفرنس کے ذریعے اختلافات ختم کرا کے منصوبے کو قومی اتفاق رائے کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے منصوبے پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لینے کے لیے اپنی سربراہی میں پانچوں وزراء اعلیٰ سمیت 10 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے اقتصادی راہداری کی تیز تر تکمیل کی ہدایت کر دی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت جمعہ کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونیوالے اجلاس میں پایا گیا۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے نمایندوں نے شکوہ کیا کہ منصوبے سے متعلق وزیر اعظم نے گزشتہ برس مغربی روٹ پہلے بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن رواں بجٹ میں صرف مشرقی روٹ کے لیے رقم مختص کی گئی جس پر وزیر اعظم نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ باہمی مشاورت کے ساتھ منصوبے کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا اور وزیر اعظم بنفس نفیس تعمیراتی پیشرفت کا جائزہ لیں گے، نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کے دیگر ارکان میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، وفاقی وزیر پانی و بجلی، وزیر ریلویز، وزیر مواصلات بھی شامل ہوں گے۔
وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں صوبوں کے ساتھ رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک سیل تشکیل دیا جائے گا، صنعتی پارکس کے مقام کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ''ایک راہداری، متنوع راستے'' کے اصول پر کام کرتے ہوئے اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ 15 جولائی 2018ء کی حتمی مدت کے ساتھ ترجیحی طور پر تعمیر کیا جائے گا، اور ضرورت پڑی تو اس کے لیے 40 ارب روپے کی موجودہ مختص رقم کو بڑھا دیا جائے گا۔
مغربی روٹ پہلے مرحلے میں چار لین ایکسپریس وے ہو گی تاہم اس کو 6 لین تک موٹر وے میں تبدیل کرنے کی سہولت ہو گی جس کے لیے اراضی کی ذمے داری کے پی کے حکومت کی ہو گی جب کہ فنڈز وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔ اجلاس کے تمام شرکاء نے پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ نیا ادارہ جاتی فریم ورک مستقبل میں علاقائی خدشات بہتر انداز میں دور کرنے میں معاون ہو گا۔ اجلاس کے تمام شرکا نے اتفاق کیا کہ منصوبہ ملک کو ایک طاقتور اقتصادی مرکز میں تبدیل کر دے گا۔ قومی رہنماؤں کے اتحاد سے پاک چین کوریڈور کو ایک نئی طاقت حاصل ہوئی ہے۔ اس ضمن میں تمام سیاسی قیادت نے بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کیے ہیں۔
یہ تجویز بھی موجود ہے کہ واخان کی پٹی، چترال کے راستے تاجکستان کو ملانے کا راستہ جو پہلے سے موجود ہے اسے بھی اقتصادی راہداری میں شامل کیا جائے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی اقتصادی و معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اس منصوبے پر کوئی بھی بات کرتے ہوئے ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ محض مخالفت برائے مخالفت سے اس قدر اہم منصوبے کو خراب نہ کیا جائے جیسے کہ اس سے قبل کالا باغ جیسے حد سے زیادہ اہم منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔
پاکستان میں یہ کلچر عام ہو گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس جب کوئی ایشو نہیں ہوتا تو وہ علاقائیت، لسانیت یا نسل کی بنیاد پر سیاست شروع کر دیتی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے قومی نوعیت کے حساس منصوبوں کو بھی متنازعہ بنانے سے گریز نہیں کرتیں۔ اس کلچر نے ملک میں بہت سے مسائل پیدا کیے ہیں۔
یہ کلچر اب ختم ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہیے۔ بالخصوص قومی اہمیت کے معاملات پر لب کشائی سے قبل خوب سوچ سمجھ کر کوئی لائن اختیار کرنی چاہیے تا کہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے ملک و قوم کا بھاری نقصان نہ ہو جائے۔ چین پاکستان راہداری منصوبہ جس کو اصطلاح میں سی پی ای سی کہا گیا ہے،یہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے میں ایک انقلاب انگیز تبدیلی پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔