فاطمہ مرنیسی رخصت ہوئیں

فاطمہ مرنیسی 1940ء میں مراکش کے شہر فیض میں پیدا ہوئیں اور 30 نومبر کو جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں

zahedahina@gmail.com

RAWALPINDI:
30 نومبر 2015ء کو ہمارے درمیان سے وہ ہستی اٹھ گئی جس کا بیسویں صدی کی مسلم دنیا میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ فاطمہ مرنیسی رخصت ہوئیں اور ہم میں سے بیشتر کو یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ ہم کس جوہر قابل سے محروم ہو گئے۔ برسوں پہلے جب میں ان کی کتاب 'شہرزاد گوزویسٹ' کا ترجمہ کر رہی تھی، تو مجھے یقین تھا کہ آیندہ برسوں میں ان سے یقیناً ملاقات ہو گی لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ فاطمہ مرنیسی کا پاکستان کے سیاسی معاملات سے بھی تعلق تھا۔

16 نومبر 1988ء کے انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم بنیں تو قدامت پسندوں نے اسے قطعاً غیر اسلامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی صدی ہجری سے آج تک مسلم دنیا میں کوئی عورت حکمران نہیں بنی تو پھر بے نظیر کیسے وزیراعظم بن سکتی ہیں۔ فاطمہ نے بے نظیر کے مخالفین کو خوب خوب جواب دیا اور ایک ایسی کتاب لکھی جس کا نام ہی انھوں نے 'مسلم دنیا کی فراموش کردہ ملکائیں' رکھا۔ اس میں انھوں نے سلطانہ رضیہ، شجرۃ الدر، ترکان خاتون، ملکہ نور العالم اور متعدد ان عورتوں کا ذکر کیا ہے جو تخت پر بیٹھیں، جنھوں نے سیاسی زندگی گزاری، میدان جنگ میں اپنی فوجوں کی کمان کی اور جن میں سے بیشتر زہر دے کر ماری گئیں یا زہریلے خنجر سے قتل کی گئیں، بے نظیر بھٹو کے نصیب میں سیسے کی گولی آئی۔

فاطمہ مرنیسی 1940ء میں مراکش کے شہر فیض میں پیدا ہوئیں اور 30 نومبر کو جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو وہ ایک اہم مسلم دانشور اور مورخ کی شہرت رکھتی تھیں۔ کئی برس پہلے ''قاہرہ ٹائمز'' نے ان کے بارے میں لکھا تھا کہ ''وہ ہم عربوں کے لیے موجودہ دور کی شہرزاد ہے اور علم و ادب کی اقلیم پر کسی داستانی ملکہ کی طرح حکومت کرتی ہے''۔

فاطمہ کو تحقیق اور تخلیق کو آمیز اور آمیخت کرنے کا ہنر آتا تھا۔ وہ مراکش کی اس خوش نصیب نسل سے تعلق رکھتی تھیں جو سیاسی ہیجان اور احتجاج کے دور میں پیدا ہوئی۔ ان کی ماں، نانیوں اور دادیوں کے لیے گھر سے قدم باہر نکالنا ممکن نہ تھا لیکن فاطمہ نے پہلے فیض پھر رباط میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی ذہانت ان کے لیے بند دروازے کھولتی چلی گئی۔ انھوں نے فرانس کی سوربون یونیورسٹی سے علم سیاسیات اور پھر امریکا کی برانڈیز یونیورسٹی سے سوشیولوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔

ان کے علمی کام پر انھیں پرنس آف آسٹریا ایوارڈ اور Susan Sonutag ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ اراسمس پرائز بھی ان کے حصے میں آیا۔ ان کی پہلی کتاب Beyond the Veil 'حجاب سے آگے' 1975ء میں شایع ہوئی۔ مسلم عورتوں بطور خاص عرب دنیا کی مسلمان عورتوں کے بارے میں ان کی یہ کتاب ایک کلاسک کا درجہ رکھتی ہے۔ گزشتہ 35 برسوں میں انھوں نے ''دنیائے اسلام کی فراموش کردہ ملکائیں'' ''اسلام اور جمہوریت: جدید دنیا کا خوف'' ''حدود شکنی کے خواب'' ''باغی عورتیں اور مسلمان حافظہ'' اور ''شہرزاد مغرب میں'' تحریر کیں۔ وہ ایک ایسے دور میں اپنی خلاقی اور باغیانہ خیالات کے ساتھ عرب دنیا میں نمودار ہوئیں جب ساری دنیا مسلمانوں اور بطور خاص عربوں کی طرف متوجہ تھی۔ انھوں نے عربی، فرانسیسی اور انگریزی کو ذریعہ اظہار بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا شمار عرب دنیا کے اہم ترین دانشوروں میں ہونے لگا۔

فاطمہ نے درجن سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ تحقیقی اور تخلیقی کاوشوں کی شاہکار ان کتابوں نے عرب اور مسلم دنیا سے زیادہ مغرب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں لیکچر کے لیے بلائی جاتیں۔ وارث میر صاحب نے اپنی کتاب 'کیا عورت آدھی ہے؟' میں ایک ایسی ہی کانفرنس کا ذکر کیا ہے جو ملائشیا میں ہو رہی تھی اور جس میں ایک پاکستانی صاحب کی فاطمہ مرنیسی سے تلخ بحث ہو گئی تھی۔ فاطمہ دو ٹوک بات کرنے والی دانشور تھیں اور عرب دنیا میں جمہوریت کے نہ ہونے کو مسلمان عورتوں پر عائد پابندیوں سے جوڑ کر دیکھتی تھیں۔ نیویارک ٹائمز نے ان کی رخصت پر تعزیتی نوٹ لکھا جس میں انھیں مسلم نسائیت کی بنیاد گزار قرار دیا۔

وہ مراکش کے ایک خوشحال زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں اور ان کی ابتدائی زندگی اسی حویلی میں گزری جو وہاں رہنے والی عورتوں کے لیے ایک زندان تھی۔ 1993ء میں ایک ریڈیو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ میری ماں اس گھر کو ایک قید خانہ کہتی تھیں اور اس سے نفرت کرتی تھیں۔ وہ ریڈیو قاہرہ سنتیں اور اپنی اس آزادی سے لطف اٹھاتیں۔ فاطمہ نے اپنی دادی یاسمینہ کا ذکر، شہرزاد مغرب میں، اور اپنی یادداشتوں، حدود شکنی کے خواب، میں بہت تفصیل سے کیا ہے۔ ان یادوں میں ان کی دادی یاسمینہ کی بنیادی اہمیت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ ان کی ہیرو ہیں تو غلط نہ ہو گا۔


انھوں نے لکھا ہے کہ یاسمینہ میری دادی جو ناخواندہ تھیں، ان کا کہنا تھا کہ سفر وسیلہ ظفر ہے، سیکھنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں، یہ تمہیں مختار بناتا ہے۔ وہ ایک حرم میں رہتی تھیں، ایک روایتی گھر جس کے دروازوں پر تالے پڑے رہتے تھے اور عورتیں انھیں کھول نہیں سکتی تھیں۔ دادی کہتی تھیں کہ جن اجنبی لوگوں سے تم ملو ان پر اپنی توجہ مرکوز رکھو اور انھیں سمجھنے کی کوشش کرو۔ تم جس قدر کسی اجنبی کو سمجھو گی، اتنا ہی تم اپنے آپ سے آگاہ ہو گی اور اتنی ہی بااختیار ہو گی۔ دادی یاسمینہ کے لیے حرم ایک زنداں تھا، ایک ایسی جگہ جسے چھوڑنے کی عورتوں کو ممانعت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سفر کی تعریف و توصیف کرتیں اور متعین حدود یا سرحدوں کو عبور کرنے کے موقع کو ایک مقدس استحقاق جانتی تھیں، ناتوانی اور بے بسی سے نجات پانے کا یہ بہترین طریقہ تھا۔

دادی یاسمینہ کے لیے حرم ایک ظالمانہ ادارہ تھا، جس نے ان کے حقوق کو بے طرح غصب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ''اللہ کے تخلیق کیے ہوئے اس خوبصورت اور پیچیدہ سیارے پر سفر کرنے اور اسے دریافت کرنے کے حق سے وہ محروم کر دی گئی تھیں''۔

فاطمہ نے لکھا ہے کہ میرا بچپن دادی یاسمینہ سے یہ سنتے ہوئے گزرا کہ ایک عورت کے لیے یہ عام سی بات ہے کہ سمندروں یا دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے اس پر لرزہ طاری ہو جائے۔ وہ کہتیں اور پھر اس پر یہ اضافہ بھی کرتیں کہ اس کے برعکس اگر کوئی عورت اپنے بال و پر استعمال نہ کرے تو یہ بات اس کے لیے صدمے کا سبب بنتی ہے۔

دادی یاسمینہ کا جب انتقال ہوا تو میں تیرہ برس کی تھی۔ مجھے ان کی موت پر گریہ و ماتم کرنا چاہیے تھا، لیکن میری آنکھ سے آنسو نہ ٹپکا۔ انھوں نے بستر مرگ پر مجھ سے کہا تھا ''اپنی دادی کو یاد کرنے کا بہترین انداز یہ ہے کہ تم شہرزاد کی میری پسندیدہ کہانی سنانے کی روایت کو زندہ رکھنا۔ وہی پروں کے لباس والی عورت کی کہانی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے الف لیلہ کی ہیروئن شہرزاد کی کہی ہوئی یہ کہانی ازبر کر لی۔ اس کہانی کا بنیادی خیال یہ ہے کہ ایک عورت کو اپنی زندگی خانہ بدوشوں کی طرح گزارنی چاہیے، اسے ہر لمحہ چوکنا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے تیار رہنا چاہیے، خواہ اس سے محبت ہی کیوں نہ کی جا رہی ہو۔ یہ داستانیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ عشق تمہیں اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور ایک زنداں بن جاتا ہے۔

فاطمہ کی کئی کتابوں میں عورتیں بحث کا مرکز ہیں، وہ کہتی ہیں کہ نہایت جوشیلے انتہا پسند بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ عورتیں کم تر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انتہا پسندی کے باوجود کئی مسلمان ملکوں میں عورتیں سیاسی رہنماؤں کے طور پر ابھری ہیں۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو، ترکی میں تانسو شلر اور انڈونیشیا میں میگاوتی۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ یونیورسٹیوں اور پیشہ ورانہ میدان میں متعدد ایسے شعبے جنھیں مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا، مثلاً انجینئرنگ ان میں مسلمان عورتیں جوش و خروش سے داخل ہوئی ہیں۔

حالانکہ انھیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ابھی بہت حال میں میسر آیا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں یونیورسٹیوں یا ان کے مساوی دوسرے اداروں میں پڑھانے والی مصری خواتین کا تناسب فرانس اور کینیڈا سے زیادہ تھا۔ اسی طرح ترکی اور شام میں انجینئرنگ کے شعبے میں داخلہ لینے والی لڑکیوں کی تعداد انگلستان اور نیدرلینڈ کی نسبت دگنی تھی۔ الجزائر اور مصر میں انجینئرنگ پڑھنے والی لڑکیاں کینیڈا یا اسپین کی لڑکیوں کی نسبت کہیں زیادہ تھیں۔

کیسی دلچسپ بات ہے کہ ان کی ناخواندہ دادی نے انھیں وہ راستہ دکھایا جس پر چل کر وہ مسلم دنیا کی اہم ترین دانشوروں میں سے ایک ہوئیں۔

مسلمان آج جس ذہنی اور سیاسی انتشار کا شکار ہیں، اس میں فاطمہ مرنیسی جیسے دانشوروں کی ضرورت ہے جو مشرق و مغرب کے تصادم کو تہذیبی اور ثقافتی سطح پر مکالمے اور مباحثے کے ذریعے کم اور ختم کرنے کی کوشش کریں۔
Load Next Story