پی ایس ایل اصل کہانی کیا ہے
فروری میں تو بیشتر ٹیمیں مصروف ہوںگی لہذا انٹرنیشنل کھلاڑی کیسے ملیں گے؟
فروری میں تو بیشتر ٹیمیں مصروف ہوںگی لہذا انٹرنیشنل کھلاڑی کیسے ملیں گے؟ فوٹو : فائل
KARACHI:
چند سال قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا منظر ہے، بولر آہستہ آہستہ اپنے رن اپ سے بھاگنا شروع ہوا اور پھر اس نے بیٹسمین کو گیند کی، جس نے زوردار شاٹ کھیلا اور بال پلک جھپکنے میں باؤنڈری پار کر گئی، اس کے ساتھ ہی پاکستان نے میچ جیت لیا،کھچا کھچ بھرا اسٹیڈیم شائقین کی نعروں سے گونج اٹھا، کئی ہزار لوگ خوشی سے سرشار نظر آئے، وہ اس وقت بھول چکے تھے کہ مہاجر، سندھی، پٹھان یا پنجابی کون ہیں، ان سب کو بس یہ یاد تھا کہ وہ پاکستانی ہیں اور ان کی ٹیم نے میچ میں فتح حاصل کر لی ہے۔
اب 2015ء جاری مگر ملکی میدان ویران ہیں،2009میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر جو حملہ ہوا اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں،گوکہ گذشتہ برس زمبابوین سائیڈ نے دورہ کیا مگر اسے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ایک کمزور حریف سے تمام میچز کا صرف لاہور میں ہی انعقاد ہوا،ملک بھر میں کئی بڑے بڑے اسٹیڈیمز موجود جن پر ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ بھی ہوتے ہیں مگر فائدہ کچھ نہیں ہو رہا، لگتا ہے بورڈ بھی ہمت ہار چکا اس لیے اب کرکٹ کی بحالی کیلیے رسمی بیانات بھی جاری نہیں کیے جاتے۔
اگر غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے کو تیار نہیں تو کچھ اور سوچنا چاہیے تھا مگر حکام نے ایسا نہیں کیا،ایسے میں سپر لیگ کے کوما میں موجود پروجیکٹ کو دوبارہ جگایا گیا تو شائقین کو امید ہو چلی کہ شاید اب ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلیے کچھ سنجیدہ کوششیں ہوں گی مگر افسوس پی سی بی کو خود اپنے ملک کی سیکیورٹی پر ہی بھروسہ نہیں، اس لیے ایونٹ کا دیار غیر میں انعقاد کرانے کا فیصلہ کیا گیا، اب اس سے بڑا مذاق کیا ہو گا کہ نام پاکستان سپر لیگ مگر انعقاد یو اے ای میں ہو رہا ہے،یقیناً یہ ہمارے ملک کا ایونٹ ہے اور اسے ہم سب کو سپورٹ کرنا چاہیے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ غلط ہو رہا ہے۔
اس سے آنکھیں چرا لیں، عوام کو جو سبز بات دکھائے جا رہے درحقیقت ایسا کچھ نہیں ہوگا، سچائی سب کے سامنے لانا میڈیا کا کام ہے اور ہم نے ایسی ہی ایک کوشش کی ہے،آپ اگر شروع سے معاملات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ ایونٹ سے منسلک مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی، پی سی بی کے اخراجات کسی امیرکبیر ادارے جیسے ہیں، ایسے میں قارعون کا خزانہ بھی ختم ہو جائے،رہی سہی کسر پی ایس ایل سے پوری ہو جائے گی،اس ایونٹ پر اب تک بورڈ کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔
پہلے بھی بتایا جا چکا کہ منتظمین پہلے قطر اور اب دبئی ایسے جاتے ہیں جیسے لاہور سے کراچی آئے ہوں، ایسے میں ان کے شاہانہ لائف اسٹائل و دیگر کو مدنظر رکھا جائے اور ایک دورے پر ہی کئی لاکھ روپے خرچ ہو جائیں، پوری ٹیم کے اگر کم از کم 10 ٹور بھی شمار کر لیں تو تاحال کئی کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہوں گے، پہلے قطر کو ایونٹ کیلیے بہترین مقام قرار دیا گیا پھر دوبارہ یو اے ای واپس آ گئے، جو قارئین میرے مضامین باقاعدگی سے پڑھتے ہیں انھیں بخوبی یاد ہو گا کہ شروع سے میں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ فروری میں تو بیشتر ٹیمیں مصروف ہوںگی لہذا انٹرنیشنل کھلاڑی کیسے ملیں گے؟ سابق کرکٹرز کو ماسٹرز لیگ والے بھاری معاوضے پر سائن کر چکے، حیران کن طور پر بورڈ نے اس اہم پہلو کو اہمیت نہ دی جس کی وجہ سے اب بڑے پلیئرز کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایونٹ ''قومی ٹی ٹوئنٹی کپ'' بن جائے۔
ایم سی ایل کی وجہ سے میچز بھی صرف 2 وینیوز دبئی اور شارجہ میں ہوں گے، امارات میں پاکستانی، بھارتی اور سری لنکنز بہترین مستقبل کیلیے گئے ہیں، وہ وہاں ایسا ایڈونچر نہیں کر سکتے کہ اپنا کام کاجھ چھوڑ کر میچز دیکھنے آئیں، سال میں پاکستان کے 2،3 ٹوئنٹی 20میچز میں ہی شائقین آتے ہیں، ٹیسٹ کے دوران تو اسٹیڈیم میں الو بول رہے ہوتے ہیں،اسپانسر شپ کے حصول میں بورڈ کو پہلے ہی کئی مسائل کا سامنا ہے،ٹی وی رائٹس کے حوالے سے بھی ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے۔
فرنچائزز سے 10سالہ معاہدہ ہوا مگر رپورٹس کے مطابق تاحال بعض نے واجبات ادا نہیں کیے،ابھی سے یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ بینک گارنٹی کیش کرا لیں گے، اس سے معاملات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،ایسے پروجیکٹس راتوں رات مکمل نہیں ہوتے برسوں کی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے مگر بورڈ نے عجلت میں قدم اٹھایا، نجم سیٹھی کی نیت پر کوئی شک نہیں، انھوں نے لیگ کو کامیاب بنانے کیلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، مگر کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا کہ ہر حال میں انعقاد کرانا ہے تاکہ دنیا یاد رکھے کہ پہلی بار میں نے پی ایس ایل کرائی تھی۔
اسی وجہ سے دانستہ منفی پہلوؤں سے نظریں ہٹائی جا رہی ہیں،پہلا تاثر آخری ہوتا ہے اگر ہم اچھی لیگ نہ کرا سکے، اس میں مسائل سامنے آئے تو آئندہ کون اپنے پلیئرز کو شرکت کیلیے بھیجے گا، ویسے بھی کئی ممالک کے کھلاڑی یو اے ای نہیں آ رہے، پہلے کہا گیا کہ پاکستان میں سیکیورٹی خدشات ہیں بڑے کرکٹرز نہیں آئیں گے اس لیے لیگ امارات میں کرا رہے ہیں، مگر یہ جواز بھی دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے، اس سے اچھا تھا کہ 7،8غیر ملکی کرکٹرز کو بلا کر اپنے ملک میں ہی بڑے پیمانے پر ایونٹ کرا دیتے، اس سے اخراجات کم ہوتے، منافع ملتا، شائقین کو اپنے ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا، کئی بڑے سابق کرکٹرز پی ٹی وی پر کمنٹری کرنے پاکستان آ جاتے ہیں، اگر بورڈ پیسہ دیتا تو چند موجودہ پلیئرز کو کھیلنے کیلیے بلانا بھی دشوار نہ ہوتا لیکن حکام نے ایسے اقدام سے گریز کیا،علامتی طور پر ایک میچ بھی کرایا جا سکتا تھا مگر ایسا بھی نہیں ہوا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی نظر میں صرف پیسے کی اہمیت ہے شائقین کے جذبات کی نہیں۔
پی ایس ایل کا ایک بڑا مسئلہ اسے کرپشن سے بچانا بھی ہوگا، آئی سی سی اب نجی لیگز کیلیے اپنے اے سی ایس یو آفیشلز کو نہیں بھیجتی،ویسے اگر بھیج بھی دیتی تو کیا ہوتا، ان کی موجودگی کے باوجود بڑے بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں،لیگ پر پاکستانی آفیشلز نظریں رکھیں گے، میں نے اس موضوع پر حال ہی میں کالم بھی لکھا ہے،اس لیے پرانی باتیں دہرانا نہیں چاہتا، بس اتنا ضرور کہوں گا کہ راشد لطیف جیسے حب الوطن کرکٹرز نے بعض سوالات اٹھائے ہیں بورڈ کو انھیں اہمیت دینی چاہیے،ایک واقعے نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم کر دی، اگر لیگ میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے آیا تو پھر پی سی بی کبھی بڑے کھلاڑیوں کا اعتماد دوبارہ نہیں جیت سکے گا۔
لیگ کے روح رواں نجم سیٹھی خود اعتراف کر چکے کہ ابتدائی برسوں میں خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا،پی سی بی کا خزانہ ویسے ہی تیزی کے ساتھ خالی ہو رہا ہے، اب بھارت نے بھی کھیلنے سے انکار کر دیا، پی ایس ایل پر بھی پیسے تیزی سے خرچ ہو رہے ہیں، کیا بورڈ مزید نقصان برداشت کر سکے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے، نجم سیٹھی کو یقیناً کامیاب انعقاد پر کریڈٹ دینا ہوگا لیکن خدانخواستہ اگر ایونٹ کامیاب نہ ہوا تو پاکستان کرکٹ کی تاریخ انھیں کبھی فراموش نہیں کر پائے گی،یہ ہمارے ملک کا ایونٹ اور اس کی کامیابی کیلیے سب ہی دعاگو ہیں، مگر فی الحال حالات کچھ اچھے دکھائی نہیں دیتے،اگر خدشات نے حقیقت کا روپ دھار لیا تو پاکستان کرکٹ مزید کئی برس پیچھے چلی جائے گا اور اس کا حساب حکام کو ضرور دینا ہوگا۔
چند سال قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا منظر ہے، بولر آہستہ آہستہ اپنے رن اپ سے بھاگنا شروع ہوا اور پھر اس نے بیٹسمین کو گیند کی، جس نے زوردار شاٹ کھیلا اور بال پلک جھپکنے میں باؤنڈری پار کر گئی، اس کے ساتھ ہی پاکستان نے میچ جیت لیا،کھچا کھچ بھرا اسٹیڈیم شائقین کی نعروں سے گونج اٹھا، کئی ہزار لوگ خوشی سے سرشار نظر آئے، وہ اس وقت بھول چکے تھے کہ مہاجر، سندھی، پٹھان یا پنجابی کون ہیں، ان سب کو بس یہ یاد تھا کہ وہ پاکستانی ہیں اور ان کی ٹیم نے میچ میں فتح حاصل کر لی ہے۔
اب 2015ء جاری مگر ملکی میدان ویران ہیں،2009میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر جو حملہ ہوا اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں،گوکہ گذشتہ برس زمبابوین سائیڈ نے دورہ کیا مگر اسے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ایک کمزور حریف سے تمام میچز کا صرف لاہور میں ہی انعقاد ہوا،ملک بھر میں کئی بڑے بڑے اسٹیڈیمز موجود جن پر ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ بھی ہوتے ہیں مگر فائدہ کچھ نہیں ہو رہا، لگتا ہے بورڈ بھی ہمت ہار چکا اس لیے اب کرکٹ کی بحالی کیلیے رسمی بیانات بھی جاری نہیں کیے جاتے۔
اگر غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے کو تیار نہیں تو کچھ اور سوچنا چاہیے تھا مگر حکام نے ایسا نہیں کیا،ایسے میں سپر لیگ کے کوما میں موجود پروجیکٹ کو دوبارہ جگایا گیا تو شائقین کو امید ہو چلی کہ شاید اب ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلیے کچھ سنجیدہ کوششیں ہوں گی مگر افسوس پی سی بی کو خود اپنے ملک کی سیکیورٹی پر ہی بھروسہ نہیں، اس لیے ایونٹ کا دیار غیر میں انعقاد کرانے کا فیصلہ کیا گیا، اب اس سے بڑا مذاق کیا ہو گا کہ نام پاکستان سپر لیگ مگر انعقاد یو اے ای میں ہو رہا ہے،یقیناً یہ ہمارے ملک کا ایونٹ ہے اور اسے ہم سب کو سپورٹ کرنا چاہیے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ غلط ہو رہا ہے۔
اس سے آنکھیں چرا لیں، عوام کو جو سبز بات دکھائے جا رہے درحقیقت ایسا کچھ نہیں ہوگا، سچائی سب کے سامنے لانا میڈیا کا کام ہے اور ہم نے ایسی ہی ایک کوشش کی ہے،آپ اگر شروع سے معاملات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ ایونٹ سے منسلک مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی، پی سی بی کے اخراجات کسی امیرکبیر ادارے جیسے ہیں، ایسے میں قارعون کا خزانہ بھی ختم ہو جائے،رہی سہی کسر پی ایس ایل سے پوری ہو جائے گی،اس ایونٹ پر اب تک بورڈ کا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔
پہلے بھی بتایا جا چکا کہ منتظمین پہلے قطر اور اب دبئی ایسے جاتے ہیں جیسے لاہور سے کراچی آئے ہوں، ایسے میں ان کے شاہانہ لائف اسٹائل و دیگر کو مدنظر رکھا جائے اور ایک دورے پر ہی کئی لاکھ روپے خرچ ہو جائیں، پوری ٹیم کے اگر کم از کم 10 ٹور بھی شمار کر لیں تو تاحال کئی کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہوں گے، پہلے قطر کو ایونٹ کیلیے بہترین مقام قرار دیا گیا پھر دوبارہ یو اے ای واپس آ گئے، جو قارئین میرے مضامین باقاعدگی سے پڑھتے ہیں انھیں بخوبی یاد ہو گا کہ شروع سے میں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ فروری میں تو بیشتر ٹیمیں مصروف ہوںگی لہذا انٹرنیشنل کھلاڑی کیسے ملیں گے؟ سابق کرکٹرز کو ماسٹرز لیگ والے بھاری معاوضے پر سائن کر چکے، حیران کن طور پر بورڈ نے اس اہم پہلو کو اہمیت نہ دی جس کی وجہ سے اب بڑے پلیئرز کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایونٹ ''قومی ٹی ٹوئنٹی کپ'' بن جائے۔
ایم سی ایل کی وجہ سے میچز بھی صرف 2 وینیوز دبئی اور شارجہ میں ہوں گے، امارات میں پاکستانی، بھارتی اور سری لنکنز بہترین مستقبل کیلیے گئے ہیں، وہ وہاں ایسا ایڈونچر نہیں کر سکتے کہ اپنا کام کاجھ چھوڑ کر میچز دیکھنے آئیں، سال میں پاکستان کے 2،3 ٹوئنٹی 20میچز میں ہی شائقین آتے ہیں، ٹیسٹ کے دوران تو اسٹیڈیم میں الو بول رہے ہوتے ہیں،اسپانسر شپ کے حصول میں بورڈ کو پہلے ہی کئی مسائل کا سامنا ہے،ٹی وی رائٹس کے حوالے سے بھی ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے۔
فرنچائزز سے 10سالہ معاہدہ ہوا مگر رپورٹس کے مطابق تاحال بعض نے واجبات ادا نہیں کیے،ابھی سے یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ بینک گارنٹی کیش کرا لیں گے، اس سے معاملات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،ایسے پروجیکٹس راتوں رات مکمل نہیں ہوتے برسوں کی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے مگر بورڈ نے عجلت میں قدم اٹھایا، نجم سیٹھی کی نیت پر کوئی شک نہیں، انھوں نے لیگ کو کامیاب بنانے کیلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، مگر کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا کہ ہر حال میں انعقاد کرانا ہے تاکہ دنیا یاد رکھے کہ پہلی بار میں نے پی ایس ایل کرائی تھی۔
اسی وجہ سے دانستہ منفی پہلوؤں سے نظریں ہٹائی جا رہی ہیں،پہلا تاثر آخری ہوتا ہے اگر ہم اچھی لیگ نہ کرا سکے، اس میں مسائل سامنے آئے تو آئندہ کون اپنے پلیئرز کو شرکت کیلیے بھیجے گا، ویسے بھی کئی ممالک کے کھلاڑی یو اے ای نہیں آ رہے، پہلے کہا گیا کہ پاکستان میں سیکیورٹی خدشات ہیں بڑے کرکٹرز نہیں آئیں گے اس لیے لیگ امارات میں کرا رہے ہیں، مگر یہ جواز بھی دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے، اس سے اچھا تھا کہ 7،8غیر ملکی کرکٹرز کو بلا کر اپنے ملک میں ہی بڑے پیمانے پر ایونٹ کرا دیتے، اس سے اخراجات کم ہوتے، منافع ملتا، شائقین کو اپنے ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا، کئی بڑے سابق کرکٹرز پی ٹی وی پر کمنٹری کرنے پاکستان آ جاتے ہیں، اگر بورڈ پیسہ دیتا تو چند موجودہ پلیئرز کو کھیلنے کیلیے بلانا بھی دشوار نہ ہوتا لیکن حکام نے ایسے اقدام سے گریز کیا،علامتی طور پر ایک میچ بھی کرایا جا سکتا تھا مگر ایسا بھی نہیں ہوا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کی نظر میں صرف پیسے کی اہمیت ہے شائقین کے جذبات کی نہیں۔
پی ایس ایل کا ایک بڑا مسئلہ اسے کرپشن سے بچانا بھی ہوگا، آئی سی سی اب نجی لیگز کیلیے اپنے اے سی ایس یو آفیشلز کو نہیں بھیجتی،ویسے اگر بھیج بھی دیتی تو کیا ہوتا، ان کی موجودگی کے باوجود بڑے بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں،لیگ پر پاکستانی آفیشلز نظریں رکھیں گے، میں نے اس موضوع پر حال ہی میں کالم بھی لکھا ہے،اس لیے پرانی باتیں دہرانا نہیں چاہتا، بس اتنا ضرور کہوں گا کہ راشد لطیف جیسے حب الوطن کرکٹرز نے بعض سوالات اٹھائے ہیں بورڈ کو انھیں اہمیت دینی چاہیے،ایک واقعے نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم کر دی، اگر لیگ میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے آیا تو پھر پی سی بی کبھی بڑے کھلاڑیوں کا اعتماد دوبارہ نہیں جیت سکے گا۔
لیگ کے روح رواں نجم سیٹھی خود اعتراف کر چکے کہ ابتدائی برسوں میں خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا،پی سی بی کا خزانہ ویسے ہی تیزی کے ساتھ خالی ہو رہا ہے، اب بھارت نے بھی کھیلنے سے انکار کر دیا، پی ایس ایل پر بھی پیسے تیزی سے خرچ ہو رہے ہیں، کیا بورڈ مزید نقصان برداشت کر سکے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے، نجم سیٹھی کو یقیناً کامیاب انعقاد پر کریڈٹ دینا ہوگا لیکن خدانخواستہ اگر ایونٹ کامیاب نہ ہوا تو پاکستان کرکٹ کی تاریخ انھیں کبھی فراموش نہیں کر پائے گی،یہ ہمارے ملک کا ایونٹ اور اس کی کامیابی کیلیے سب ہی دعاگو ہیں، مگر فی الحال حالات کچھ اچھے دکھائی نہیں دیتے،اگر خدشات نے حقیقت کا روپ دھار لیا تو پاکستان کرکٹ مزید کئی برس پیچھے چلی جائے گا اور اس کا حساب حکام کو ضرور دینا ہوگا۔