عدلیہ کو درپیش چیلنجز
جب تک ہم اپنے گھر سے احتساب شروع نہیں کریں گے دوسروں کا احتساب کیسے کر سکتے ہیں
حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ نچلی اور اعلیٰ عدلیہ میں جو مسائل ہیں ان کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ فوٹو : فائل
عوام کو عدلیہ کے حوالے سے اگر مشکلات ہیں تو عدلیہ کو بھی بہت سے چیلنجز در پیش ہیں۔ اس موضوع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے زیر اہتمام ''عدلیہ کو درپیش چیلنجز'' کے موضوع پر لاہور میں ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہڑتالیں ہوں یا ججوں سے جوتم جوتا ہو، خواتین ججوں کی تذلیل کی جائے یا عدالتوں کی تالہ بندیاں ہوں، عدلیہ انصاف کی فراہمی میں پیچھے نہیں رہے گی کیوں کہ ہم نے انصاف دینے کی قسم کھائی ہے۔
ماتحت عدلیہ کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ سول جج کی توہین پوری عدلیہ کی توہین تصور ہو گی۔ بار ایسوسی ایشنز ایسے وکلا کا احتساب کریں۔ عدالتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بہت جلد پاکستان کو ایک متوازن عدلیہ دیں گے۔ جب تک ہم اپنے گھر سے احتساب شروع نہیں کریں گے دوسروں کا احتساب کیسے کر سکتے ہیں۔ نااہل، جانبدار اور کرپٹ شخص جج نہیں بن سکتا۔ نچلی سطح پر ججوں پر زیادہ ذمے داری ہوتی ہے۔ آج عوام کا عدلیہ پر اعتبار نہیں رہا، اس بے اعتباری کی ذمے دار خود عدلیہ ہے۔
ازخود نوٹسز چیف جسٹس پاکستان کا صوابدیدی اختیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ سپریم کورٹ کے رولز میں مناسب ترمیم کر کے ایسا فورم قائم ہونا چاہیے جو تجویز کرے کس معاملے پر ازخود نوٹس لیا جائے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 18 لاکھ کے لگ بھگ ہے جب کہ عدلیہ میں 4 ہزار ججز ہیں۔ زیر التوا مقدمات تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث ٹی ٹوئنٹی کی طرح نمٹائے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اعجازالاحسن نے کہا کہ عوام کا اعتماد اس وقت بحال ہوتا ہے جب آئین اور قانون کے تحت فیصلے کیے جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدلیہ سے باہر تنازعات کے حل کا نظام اپنانا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ صبح جج کو جوتا مارتے ہیں اور شام کو بار کا صدر معافی مانگنے آ جاتا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر نے کہا کہ وکلا اور ججز اپنے درمیان فاصلوں کو کم کر کے تمام مسئلوں کا بہتر حل نکال سکتے ہیں۔فاضل جج صاحبان کی یہ باتیں ایک لمحہ فکریہ ہے لیکن ان مسائل کا حل بھی یقیناً بار اور بنچ کے پاس ہی ہے۔ اگر بار اور بنچ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ نچلی اور اعلیٰ عدلیہ میں جو مسائل ہیں ان کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔
ماتحت عدلیہ کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ سول جج کی توہین پوری عدلیہ کی توہین تصور ہو گی۔ بار ایسوسی ایشنز ایسے وکلا کا احتساب کریں۔ عدالتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بہت جلد پاکستان کو ایک متوازن عدلیہ دیں گے۔ جب تک ہم اپنے گھر سے احتساب شروع نہیں کریں گے دوسروں کا احتساب کیسے کر سکتے ہیں۔ نااہل، جانبدار اور کرپٹ شخص جج نہیں بن سکتا۔ نچلی سطح پر ججوں پر زیادہ ذمے داری ہوتی ہے۔ آج عوام کا عدلیہ پر اعتبار نہیں رہا، اس بے اعتباری کی ذمے دار خود عدلیہ ہے۔
ازخود نوٹسز چیف جسٹس پاکستان کا صوابدیدی اختیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ سپریم کورٹ کے رولز میں مناسب ترمیم کر کے ایسا فورم قائم ہونا چاہیے جو تجویز کرے کس معاملے پر ازخود نوٹس لیا جائے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 18 لاکھ کے لگ بھگ ہے جب کہ عدلیہ میں 4 ہزار ججز ہیں۔ زیر التوا مقدمات تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث ٹی ٹوئنٹی کی طرح نمٹائے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اعجازالاحسن نے کہا کہ عوام کا اعتماد اس وقت بحال ہوتا ہے جب آئین اور قانون کے تحت فیصلے کیے جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدلیہ سے باہر تنازعات کے حل کا نظام اپنانا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ صبح جج کو جوتا مارتے ہیں اور شام کو بار کا صدر معافی مانگنے آ جاتا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر نے کہا کہ وکلا اور ججز اپنے درمیان فاصلوں کو کم کر کے تمام مسئلوں کا بہتر حل نکال سکتے ہیں۔فاضل جج صاحبان کی یہ باتیں ایک لمحہ فکریہ ہے لیکن ان مسائل کا حل بھی یقیناً بار اور بنچ کے پاس ہی ہے۔ اگر بار اور بنچ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ نچلی اور اعلیٰ عدلیہ میں جو مسائل ہیں ان کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔