وی آئی پی کلچر کے خلاف مہم
حیدر آباد دکن ہندوستان کی ایک ایسی ریاست تھی جہاں صدیوں سے بادشاہت قائم تھی
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
حیدر آباد دکن ہندوستان کی ایک ایسی ریاست تھی جہاں صدیوں سے بادشاہت قائم تھی، اس ریاست کے آخری بادشاہ میر عثمان علی خان تھے نے جنھیں عرف عام میں حضور نظام کہا جاتا تھا۔ حضور نظام کا شمار ہندوستان کے دولت مند ترین لوگوں میں ہوتا تھا، لیکن خدا کا یہ بندہ کنجوس ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ ''سرکار'' جو رومی ٹوپی پہنتے تھے وہ میل کی وجہ سے اپنا اصلی رنگ کھو چکی تھی، گھر کے اندر اور گھر کے باہر انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے، لیکن ہندوستان کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کی اس طرح مالی سرپرستی کرتے کہ سارے ملک کے ادیب، شاعر حیدرآباد کا رخ کرتے تھے۔
حیدرآباد ہندوستان کی واحد ریاست تھی جہاں میڈیکل کی تعلیم اردو زبان میں ہوتی تھی۔ لیکن حضور نظام کے جاہ و جلال کا عالم یہ تھا کہ جب حضور پرنور باتھ روم میں ہوتے تو شہر کی پولیس الرٹ ہو جاتی۔ حضور ہر روز صبح کنگن کوٹھی سے نکل کر شہر کا ایک راؤنڈ لگاتے تھے، جب وہ ناشتے کی میز پر ہوتے تو سارے شہر کا ٹریفک بند کر دیا جاتا، سڑکوں پر رعایا سر جھکائے کھڑی بادشاہ سلامت کے گزرنے کا انتظار کرتی، پورا شہر پولیس کی سیٹیوں سے گونجنے لگتا، ہر طرف پن ڈراپ خاموشی چھا جاتی۔ یہ دور بادشاہی تھا، جمہوریت سے عوام ابھی ناآشنا تھے۔
پاکستان میں بادشاہت نہیں ہے، لیکن وی آئی پی کلچر کا عالم یہ ہے کہ جب ہمارے جمہوری بادشاہوں کی سواری نکلتی ہے تو جمہوری سرکار کی بلٹ پروف گاڑی کے آگے پیچھے پولیس رینجرز کی درجنوں گاڑیاں ہوتی ہیں اور جمہوری حضور نظاموں کے چمچوں کی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار جمہوری بادشاہوں کی گاڑی کے پیچھے ہوتی ہے۔ ٹریفک جام ہوتا ہے، مریضوں کو اسپتال لے جانے والی ایمبولینسیں دم سادھے سڑکوں کے کنارے حضور پرنور کے گزرنے کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہیں، بعض ایسے مریض جنھیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے سرکاروں کی سواری گزرنے کے انتظار میں ایمبولینسوں ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اس بیہودہ وی آئی پی کلچر کا شکار ہو کر جان سے جانے والوں مقتولین کے ورثا یا پولیس کی طرف سے ایسے جمہوری بادشاہوں کے خلاف قتل عمد کی ایف آئی آر کاٹی جائے، لیکن رات گئی بات گئی ہو جاتی ہے۔پچھلے دنوں پاکستان کے ایک سب سے زیادہ معروف جمہوری خاندان کے شہزادے سول اسپتال میں ٹراما سینٹر کے افتتاح کے لیے نکلے تو حسب روایت ٹریفک بند کر دیا گیا۔ اسپتال کے باہر ایک غریب باپ اپنی ایسی بیمار بیٹی کو ہاتھوں میں اٹھائے کھڑا تھا، جسے فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، باپ ایمرجنسی میں جانے کے لیے پولیس والوں کی منتیں کرتا رہا لیکن کسی نے اس کی آہ و زاری اور بے قراری پر توجہ نہیں دی، نتیجہ یہ ہوا کہ بسمہ باپ کے ہاتھوں ہی میں دم توڑ گئی۔
غریبوں کی روایت کے مطابق بسمہ کے ماں باپ اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو گئے یا خاموش کرا دیے گئے، بات آئی گئی ہو گئی۔ یہ ہمارا وہ جمہوری کلچر ہے جس میں قوت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔غالباً یہ 1967ء کی بات ہے ہم پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سیاسی دوستوں سے ملنے کے لیے چند دوستوں کے ساتھ شہر شہر گھومنے نکلے۔ ملتان میں نیپ کے سادہ لوح کارکن بھائی اشفاق احمد کے گھر قیام تھا۔ اشفاق احمد بعد میں کسی ملک کے سفیر بھی مقرر ہوئے۔ جب ہم ملتان سے لاہور جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہونے کے لیے نکلے تو کوئی گاڑی دستیاب نہ تھی۔ بھائی اشفاق اور ان کے ساتھی ہمارا سامان اپنے سروں پر اٹھا کر چلنے لگے، ہم انھیں لاکھ روکتے رہے لیکن وہ نہ مانے۔
یہ اس دور کے کامریڈوں کا ایسا وی آئی پی کلچر تھا، جس کی یادیں آج بھی ہمارے ذہن میں روشنی کی کرنوں کی طرح چمکتی رہتی ہیں۔ جب ہم گھومتے گھامتے سوات پہنچے تو حیرت سے ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب ہم نے سوات کی سڑکوں پر ٹریفک بند اور رعایا کو سڑک کے کنارے سر جھکائے کھڑے دیکھا، کسی کو سر اٹھا کر سرکار کی طرف دیکھنے کی اجازت نہ تھی کیوں کہ والی سوات کی سواری اس راہ سے گزرنے والی تھی۔ یہ صورتحال پاکستان بننے کے دس سال بعد کی تھی۔ اب سوات بدل گیا ہے، اگرچہ سوات کی حسین سرزمین پر کچھ عرصے کے لیے دہشت گردوں کا راج رہا اور سروں کی فصلیں کاٹی جاتی رہیں لیکن اب سوات ایک بار پھر اپنے حسن، اپنی رعنائیوں کے ساتھ سیاحوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
بسمہ کی بے بسی کی موت نے میڈیا میں وقتی طور پر ہلچل مچا دی تھی، لیکن وی آئی پی کلچر جاری و ساری ہے۔ پچھلے دنوں کلفٹن میں وی آئی پی کلچر کے خلاف ایک مظاہرہ کیا گیا۔ اخباروں میں اس مظاہرے کی تصویریں چھپیں، چینلوں پر اس مظاہرے کی رپورٹنگ ہوئی۔ یہ بڑی اچھی بات ہے، لیکن ایک دو مظاہروں سے معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والا یہ ننگ انسانیت وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک منظم اور مسلسل تحریک کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا میں عمران خان نے وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کا آغاز کیا ہے۔ وہاں کسی وی آئی پی کی سواری کے موقع پر ٹریفک کو بند نہیں کیا جا رہا ہے۔
یہ بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن جمہوری بادشاہوں کے پاس اس حوالے سے ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ ان کی جانوں کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی انتظامات ضروری ہوتے ہیں اور سڑکوں کو بند کرنا ٹریفک کو روکنا اسی سیکیورٹی اقدامات کا ایک حصہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے جس دور سے گزر رہا ہے اس میں حکام بالا کی جان کو خطرات لاحق ہیں لیکن ان خطرات سے بچنے کے لیے گھنٹوں سڑکیں بند کرنا اور کروڑوں کی قیمتی کاروں کے قافلوں کو ساتھ رکھنے کا سیکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس جاہ و جلال کا مقصد عوام کو نفسیاتی طور پر احساس کمتری میں مبتلا رکھنا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں ہوتی ہیں جو بذات خود سب سے بڑی سیکیورٹی ہے، اس کے ساتھ پولیس کی ایک وین کافی ہے۔ ٹریفک روکنے کا کوئی جواز نہیں، اگر کوئی حاکم کسی وجہ سے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر آ جاتا ہے تو پھر دہشت گرد بڑی سے بڑی سیکیورٹی کو بھی روند کر اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں، جان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کی ضرورت تو ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں جو سیکیورٹی سسٹم نافذ ہے وہ بنیادی طور پر وی آئی پی کلچر کی تشہیر ہے جس کا مقصد اپنے آپ کو عام آدمی سے برتر ثابت کر کے عوام کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا ہوتا ہے لیکن عوام اب اس قدر باشعور ہو گئے ہیں کہ وہ شریفوں اور ڈاکوؤں میں تفریق کر سکتے ہیں اور ڈاکو کسی پروٹوکول کے مستحق نہیں ہوتے۔
حیدرآباد ہندوستان کی واحد ریاست تھی جہاں میڈیکل کی تعلیم اردو زبان میں ہوتی تھی۔ لیکن حضور نظام کے جاہ و جلال کا عالم یہ تھا کہ جب حضور پرنور باتھ روم میں ہوتے تو شہر کی پولیس الرٹ ہو جاتی۔ حضور ہر روز صبح کنگن کوٹھی سے نکل کر شہر کا ایک راؤنڈ لگاتے تھے، جب وہ ناشتے کی میز پر ہوتے تو سارے شہر کا ٹریفک بند کر دیا جاتا، سڑکوں پر رعایا سر جھکائے کھڑی بادشاہ سلامت کے گزرنے کا انتظار کرتی، پورا شہر پولیس کی سیٹیوں سے گونجنے لگتا، ہر طرف پن ڈراپ خاموشی چھا جاتی۔ یہ دور بادشاہی تھا، جمہوریت سے عوام ابھی ناآشنا تھے۔
پاکستان میں بادشاہت نہیں ہے، لیکن وی آئی پی کلچر کا عالم یہ ہے کہ جب ہمارے جمہوری بادشاہوں کی سواری نکلتی ہے تو جمہوری سرکار کی بلٹ پروف گاڑی کے آگے پیچھے پولیس رینجرز کی درجنوں گاڑیاں ہوتی ہیں اور جمہوری حضور نظاموں کے چمچوں کی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار جمہوری بادشاہوں کی گاڑی کے پیچھے ہوتی ہے۔ ٹریفک جام ہوتا ہے، مریضوں کو اسپتال لے جانے والی ایمبولینسیں دم سادھے سڑکوں کے کنارے حضور پرنور کے گزرنے کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہیں، بعض ایسے مریض جنھیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے سرکاروں کی سواری گزرنے کے انتظار میں ایمبولینسوں ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اس بیہودہ وی آئی پی کلچر کا شکار ہو کر جان سے جانے والوں مقتولین کے ورثا یا پولیس کی طرف سے ایسے جمہوری بادشاہوں کے خلاف قتل عمد کی ایف آئی آر کاٹی جائے، لیکن رات گئی بات گئی ہو جاتی ہے۔پچھلے دنوں پاکستان کے ایک سب سے زیادہ معروف جمہوری خاندان کے شہزادے سول اسپتال میں ٹراما سینٹر کے افتتاح کے لیے نکلے تو حسب روایت ٹریفک بند کر دیا گیا۔ اسپتال کے باہر ایک غریب باپ اپنی ایسی بیمار بیٹی کو ہاتھوں میں اٹھائے کھڑا تھا، جسے فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، باپ ایمرجنسی میں جانے کے لیے پولیس والوں کی منتیں کرتا رہا لیکن کسی نے اس کی آہ و زاری اور بے قراری پر توجہ نہیں دی، نتیجہ یہ ہوا کہ بسمہ باپ کے ہاتھوں ہی میں دم توڑ گئی۔
غریبوں کی روایت کے مطابق بسمہ کے ماں باپ اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو گئے یا خاموش کرا دیے گئے، بات آئی گئی ہو گئی۔ یہ ہمارا وہ جمہوری کلچر ہے جس میں قوت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔غالباً یہ 1967ء کی بات ہے ہم پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سیاسی دوستوں سے ملنے کے لیے چند دوستوں کے ساتھ شہر شہر گھومنے نکلے۔ ملتان میں نیپ کے سادہ لوح کارکن بھائی اشفاق احمد کے گھر قیام تھا۔ اشفاق احمد بعد میں کسی ملک کے سفیر بھی مقرر ہوئے۔ جب ہم ملتان سے لاہور جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہونے کے لیے نکلے تو کوئی گاڑی دستیاب نہ تھی۔ بھائی اشفاق اور ان کے ساتھی ہمارا سامان اپنے سروں پر اٹھا کر چلنے لگے، ہم انھیں لاکھ روکتے رہے لیکن وہ نہ مانے۔
یہ اس دور کے کامریڈوں کا ایسا وی آئی پی کلچر تھا، جس کی یادیں آج بھی ہمارے ذہن میں روشنی کی کرنوں کی طرح چمکتی رہتی ہیں۔ جب ہم گھومتے گھامتے سوات پہنچے تو حیرت سے ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب ہم نے سوات کی سڑکوں پر ٹریفک بند اور رعایا کو سڑک کے کنارے سر جھکائے کھڑے دیکھا، کسی کو سر اٹھا کر سرکار کی طرف دیکھنے کی اجازت نہ تھی کیوں کہ والی سوات کی سواری اس راہ سے گزرنے والی تھی۔ یہ صورتحال پاکستان بننے کے دس سال بعد کی تھی۔ اب سوات بدل گیا ہے، اگرچہ سوات کی حسین سرزمین پر کچھ عرصے کے لیے دہشت گردوں کا راج رہا اور سروں کی فصلیں کاٹی جاتی رہیں لیکن اب سوات ایک بار پھر اپنے حسن، اپنی رعنائیوں کے ساتھ سیاحوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
بسمہ کی بے بسی کی موت نے میڈیا میں وقتی طور پر ہلچل مچا دی تھی، لیکن وی آئی پی کلچر جاری و ساری ہے۔ پچھلے دنوں کلفٹن میں وی آئی پی کلچر کے خلاف ایک مظاہرہ کیا گیا۔ اخباروں میں اس مظاہرے کی تصویریں چھپیں، چینلوں پر اس مظاہرے کی رپورٹنگ ہوئی۔ یہ بڑی اچھی بات ہے، لیکن ایک دو مظاہروں سے معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والا یہ ننگ انسانیت وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک منظم اور مسلسل تحریک کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا میں عمران خان نے وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کا آغاز کیا ہے۔ وہاں کسی وی آئی پی کی سواری کے موقع پر ٹریفک کو بند نہیں کیا جا رہا ہے۔
یہ بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن جمہوری بادشاہوں کے پاس اس حوالے سے ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ ان کی جانوں کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی انتظامات ضروری ہوتے ہیں اور سڑکوں کو بند کرنا ٹریفک کو روکنا اسی سیکیورٹی اقدامات کا ایک حصہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے جس دور سے گزر رہا ہے اس میں حکام بالا کی جان کو خطرات لاحق ہیں لیکن ان خطرات سے بچنے کے لیے گھنٹوں سڑکیں بند کرنا اور کروڑوں کی قیمتی کاروں کے قافلوں کو ساتھ رکھنے کا سیکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس جاہ و جلال کا مقصد عوام کو نفسیاتی طور پر احساس کمتری میں مبتلا رکھنا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں ہوتی ہیں جو بذات خود سب سے بڑی سیکیورٹی ہے، اس کے ساتھ پولیس کی ایک وین کافی ہے۔ ٹریفک روکنے کا کوئی جواز نہیں، اگر کوئی حاکم کسی وجہ سے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر آ جاتا ہے تو پھر دہشت گرد بڑی سے بڑی سیکیورٹی کو بھی روند کر اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں، جان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کی ضرورت تو ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں جو سیکیورٹی سسٹم نافذ ہے وہ بنیادی طور پر وی آئی پی کلچر کی تشہیر ہے جس کا مقصد اپنے آپ کو عام آدمی سے برتر ثابت کر کے عوام کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا ہوتا ہے لیکن عوام اب اس قدر باشعور ہو گئے ہیں کہ وہ شریفوں اور ڈاکوؤں میں تفریق کر سکتے ہیں اور ڈاکو کسی پروٹوکول کے مستحق نہیں ہوتے۔