شمالی کوریا نے جوہری تجربات بند کرنے کی مشروط پیشکش کردی
امریکاکے ساتھ معاہدے اور واشنگٹن، سیول کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے تجربات بندکر دینگے، ترجمان وزارت خارجہ
واشنگٹن اپنے اتحادی جنوبی کوریاکے تحفظ اور جزیرہ نمامیں سلامتی کے لیے پرعزم ہے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
شمالی کوریا نے جوہری تجربے بند کرنے کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ایک معاہدے اورواشنگٹن اورسیول کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے جوہری تجربات کرنا بند کردے گا۔
شمالی کوریاکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہناتھاکہ اب بھی جزیرہ نماکوریااور شمال مشرقی ایشیامیں امن واستحکام کے قیام کیلیے تمام تجاویزقابل عمل ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکا سے امن معاہدے اورمشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے ہم اپنے جوہری تجربات کو بند کردیں گے۔
شمالی کوریا کاکہناہے کہ وہ امریکاکے ساتھ ایک معاہدے اورواشنگٹن اور سیول کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے جوہری تجربات کرنابندکردے گا۔ ماضی میں پیانگ یانگ کی طرف سے کی گئی ایسی ہی پیشکشوں کو امریکا اورجنوبی کوریا مسترد کرچکے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کاکہناتھا کہ انھوں نے یہ پیشکش نہیں سنی، جمہوریہ کوریا کے ساتھ ہماری بہت اہم اتحادی عزم موجود ہے جسے ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ واشنگٹن اپنے اتحادی جنوبی کوریا کے تحفظ اور جزیرہ نما میں سلامتی کیلیے پرعزم ہے۔
شمالی کوریا نے جوہری تجربے بند کرنے کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ایک معاہدے اورواشنگٹن اورسیول کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے جوہری تجربات کرنا بند کردے گا۔
شمالی کوریاکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہناتھاکہ اب بھی جزیرہ نماکوریااور شمال مشرقی ایشیامیں امن واستحکام کے قیام کیلیے تمام تجاویزقابل عمل ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکا سے امن معاہدے اورمشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے ہم اپنے جوہری تجربات کو بند کردیں گے۔
شمالی کوریا کاکہناہے کہ وہ امریکاکے ساتھ ایک معاہدے اورواشنگٹن اور سیول کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کے بدلے جوہری تجربات کرنابندکردے گا۔ ماضی میں پیانگ یانگ کی طرف سے کی گئی ایسی ہی پیشکشوں کو امریکا اورجنوبی کوریا مسترد کرچکے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کاکہناتھا کہ انھوں نے یہ پیشکش نہیں سنی، جمہوریہ کوریا کے ساتھ ہماری بہت اہم اتحادی عزم موجود ہے جسے ہم بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ واشنگٹن اپنے اتحادی جنوبی کوریا کے تحفظ اور جزیرہ نما میں سلامتی کیلیے پرعزم ہے۔