وزیر اعظم کا ثالثی مشن
گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امت مسلمہ کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا ہے
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ ثالثی مشن مسلم امہ کے وسیع تر مفاد میں ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ ثالثی مشن کامیاب ہو گا، فوٹو : پی آئی ڈی
سعودی عرب اور ایران کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے جاری کشیدگی اور تناؤ میں کمی آنا خوش آیند ہے، پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں برادر مسلم ممالک میں موجود اختلافات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے ختم کر کے انھیں ایک دوسرے کے قریب لایا جائے۔
اس مقصد کے لیے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسی مشن کے تحت گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ریاض میں سعودی فرمانروا سے ملاقات کی جس میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر خصوصی گفتگو کی گئی۔ اس کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف تہران میں وہاں کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امت مسلمہ کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے باہمی روابط کمزور ہوئے ہیں۔ عراق، شام اور یمن کی صورت حال سب کے سامنے ہے' اگرچہ امریکی افواج عراق سے نکل چکی ہیں اور وہاں پر ایک منتخب حکومت قائم ہے مگر اس کے باوجود عراق خانہ جنگی کا مسلسل شکار چلا آ ہا ہے اور وہاں استحکام کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں' دوسری جانب جہاں شام میں جاری خانہ جنگی نے اسے تباہ کر کے رکھ دیا ہے وہاں مسلم امہ بھی اختلافات کا شکار ہوئی ہے اور ان کے یہ باہمی اختلافات شام میں جاری خانہ جنگی کو بڑھاوا دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک شام کے مسئلے کا کوئی پرامن حل نظر نہیں آ رہا' شام میں باہم برسرپیکار مسلمان گروہ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔
کچھ یہی صورتحال یمن کے مسئلے پر بھی پیدا ہوئی اور اس نے مسلم ممالک خاص طور پر عرب ممالک اور ایران کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کیا۔ شام اور عراق میں داعش کے وجود نے نئے مسائل پیدا کیے ہیں، اس تنظیم کا ایک بڑے علاقے پر تسلط قائم ہے اور وہ ترکی سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام عرب ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دنوں جکارتہ میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات میں بھی داعش کا نام سامنے آیا ہے۔
مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اگر اب سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا تو یہ مسلم امہ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ انتشار اور افراتفری کے اس دور میں مسلم امہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات اور کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مسلم دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے' اس کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں۔
دونوں مسلم ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ کردار ادا کیا اور کسی ایک مسلم ملک کے حق میں یکطرفہ کردار ادا کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے مثبت پالیسی اپناتے ہوئے دونوں مخالف برادر مسلم ممالک کو کشیدگی سے دور رہنے اور پرامن مذاکرات کے لیے اپنے اختلافات ختم کرنے پر زور دیا۔ یہی سبب ہے کہ دونوں مسلم ممالک پاکستان کے کردار کی تعریف اور اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں پوری مسلم دنیا میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ ثالثی مشن مسلم امہ کے وسیع تر مفاد میں ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ ثالثی مشن کامیاب ہو گا اور دونوں برادر اسلامی ممالک اپنے اختلافات پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے۔ مشکلات' ابتلا اور چیلنجز کے اس دور میں امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ عرب لیگ اور او آئی سی کو بھی پاکستان کے اس ثالثی مشن میں اس کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ یہ جلد از جلد کامیاب ہو۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل کر سکتے ہیں اقوام متحدہ یا دیگر عالمی طاقتوں سے اس کی امید نہیں لگانا چاہیے۔
صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکا اور مغربی طاقتیں مسلم ممالک کے باہمی اختلافات ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں بلکہ خاموش تماشائی بن چکی ہیں۔
بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے میں انھی عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے اور وہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلم ممالک کو باری باری انتشار کا شکار کر رہی ہیں' عراق' شام' افغانستان اور یمن کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ عراق اور سعودی عرب کے باہمی اختلافات ختم کرانے کے لیے فوری طور پر تمام مسلم ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہیے تاکہ مسلم امہ کو مزید انتشار سے بچایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسی مشن کے تحت گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ریاض میں سعودی فرمانروا سے ملاقات کی جس میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر خصوصی گفتگو کی گئی۔ اس کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف تہران میں وہاں کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث امت مسلمہ کے اتحاد کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے باہمی روابط کمزور ہوئے ہیں۔ عراق، شام اور یمن کی صورت حال سب کے سامنے ہے' اگرچہ امریکی افواج عراق سے نکل چکی ہیں اور وہاں پر ایک منتخب حکومت قائم ہے مگر اس کے باوجود عراق خانہ جنگی کا مسلسل شکار چلا آ ہا ہے اور وہاں استحکام کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں' دوسری جانب جہاں شام میں جاری خانہ جنگی نے اسے تباہ کر کے رکھ دیا ہے وہاں مسلم امہ بھی اختلافات کا شکار ہوئی ہے اور ان کے یہ باہمی اختلافات شام میں جاری خانہ جنگی کو بڑھاوا دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک شام کے مسئلے کا کوئی پرامن حل نظر نہیں آ رہا' شام میں باہم برسرپیکار مسلمان گروہ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔
کچھ یہی صورتحال یمن کے مسئلے پر بھی پیدا ہوئی اور اس نے مسلم ممالک خاص طور پر عرب ممالک اور ایران کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کیا۔ شام اور عراق میں داعش کے وجود نے نئے مسائل پیدا کیے ہیں، اس تنظیم کا ایک بڑے علاقے پر تسلط قائم ہے اور وہ ترکی سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام عرب ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دنوں جکارتہ میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات میں بھی داعش کا نام سامنے آیا ہے۔
مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اگر اب سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا تو یہ مسلم امہ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ انتشار اور افراتفری کے اس دور میں مسلم امہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات اور کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مسلم دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے' اس کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں۔
دونوں مسلم ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ کردار ادا کیا اور کسی ایک مسلم ملک کے حق میں یکطرفہ کردار ادا کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے مثبت پالیسی اپناتے ہوئے دونوں مخالف برادر مسلم ممالک کو کشیدگی سے دور رہنے اور پرامن مذاکرات کے لیے اپنے اختلافات ختم کرنے پر زور دیا۔ یہی سبب ہے کہ دونوں مسلم ممالک پاکستان کے کردار کی تعریف اور اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں پوری مسلم دنیا میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ ثالثی مشن مسلم امہ کے وسیع تر مفاد میں ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ ثالثی مشن کامیاب ہو گا اور دونوں برادر اسلامی ممالک اپنے اختلافات پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے۔ مشکلات' ابتلا اور چیلنجز کے اس دور میں امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ عرب لیگ اور او آئی سی کو بھی پاکستان کے اس ثالثی مشن میں اس کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ یہ جلد از جلد کامیاب ہو۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل کر سکتے ہیں اقوام متحدہ یا دیگر عالمی طاقتوں سے اس کی امید نہیں لگانا چاہیے۔
صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکا اور مغربی طاقتیں مسلم ممالک کے باہمی اختلافات ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں بلکہ خاموش تماشائی بن چکی ہیں۔
بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے میں انھی عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے اور وہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلم ممالک کو باری باری انتشار کا شکار کر رہی ہیں' عراق' شام' افغانستان اور یمن کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ عراق اور سعودی عرب کے باہمی اختلافات ختم کرانے کے لیے فوری طور پر تمام مسلم ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہیے تاکہ مسلم امہ کو مزید انتشار سے بچایا جا سکے۔