تھر میں ہلاکتیں طبی شعبہ غیر فعال کیوں
ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسموں کی شدت بھی عوام کو متاثر کررہی ہے
عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمایندوں کو عوام کے درد کا احساس کرنا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمے داری کا ادراک کریں۔ فوٹو: فائل
DHAKA:
تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے، محض گزشتہ 2 روز میں 8 ہلاکتیں معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ تھرپارکر میں مویشیوں کے وبائی امراض سے ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، دیہی علاقوں میں اکثر وٹرنری مراکز بند پڑے ہیں۔ مٹھی، اسلام کوٹ، ننگرپارکر، ڈیپلو اور دیگر علاقوں میں صورتحال یکساں ہے۔
غذائی قلت سے مجموعی طور پر 50 سے زائد بچوں کی اموات پر ارباب اختیار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں تھیں لیکن دیگر مسائل کے ساتھ صحت کے معاملے پر پہلو تہی برتنا بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ عوام کو صحت کے شعبے میں جملہ سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ تھر میں اموات کا معاملہ ہر سال سر اٹھاتا ہے، گزشتہ سال بھی اموات میڈیا پر رپورٹ ہونے کے بعد ایک تھرتھلی مچی تھی لیکن تمام اقدامات محض کاغذی ثابت ہوئے۔
تھر کے سہولتوں سے محروم اور گاؤں دیہات کی زبوں حالی کا کیا رونا یہاں تو میٹروپولیٹن شہر کراچی میں گزشتہ سال ہیٹ اسٹروک اور وبائی امراض سے ہونے والی سیکڑوں ہلاکتیں شعبہ طب کو فعال نہ کرسکیں۔ صوبہ پنجاب میں ڈینگی اور سوائن فلو سے ہونے والی اموات پر طبی سہولتوں کی فراہمی کے دعوے تو کیے جارہے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ اسپتالوں میں مطلوبہ دوائیں تک میسر نہیں۔ بلوچستان و خیبرپختونخوا میں بھی طبی سہولیات عنقا ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب کے بعد صوبہ سندھ میں بھی ڈینگی اور سوائن فلو کے شدید خطرات ہیں، لیکن انتظامی طور پر کسی قسم کے پیشگی حفاظتی اقدامات نظر نہیں آرہے۔
کیا مسئلے میں شدت آنے کا انتظار کیا جارہا ہے؟ پانی سر سے گزر جانے کے بعد جاگنے سے کیا حاصل؟ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسموں کی شدت بھی عوام کو متاثر کررہی ہے، سال گزشتہ شدید گرمی سے ہونے والی اموات کے تناظر میں پیشگی اقدامات کیے جانے چاہیے تھے، درختوں اور گرین بیلٹ کا قائم کیا جانا ضروری تھا لیکن پورے ملک میں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ طب کا شعبہ مکمل طور پر غیر فعال نظر آتا ہے۔
انسانی جانوں کے ضیاع کے معاملے پر آخر کب تک غفلت برتی جائے گی؟ حکومتوں کی چشم پوشی عوام میں یہ خیال اجاگر کررہی ہے کہ یہاں جینے کا حق صرف امرا کو حاصل ہے، غربا اپنی بے بسی و بے کسی کا رونا کہاں روئیں؟ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمایندوں کو عوام کے درد کا احساس کرنا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمے داری کا ادراک کریں۔
تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے، محض گزشتہ 2 روز میں 8 ہلاکتیں معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ تھرپارکر میں مویشیوں کے وبائی امراض سے ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، دیہی علاقوں میں اکثر وٹرنری مراکز بند پڑے ہیں۔ مٹھی، اسلام کوٹ، ننگرپارکر، ڈیپلو اور دیگر علاقوں میں صورتحال یکساں ہے۔
غذائی قلت سے مجموعی طور پر 50 سے زائد بچوں کی اموات پر ارباب اختیار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں تھیں لیکن دیگر مسائل کے ساتھ صحت کے معاملے پر پہلو تہی برتنا بھی وفاقی و صوبائی حکومتوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ عوام کو صحت کے شعبے میں جملہ سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ تھر میں اموات کا معاملہ ہر سال سر اٹھاتا ہے، گزشتہ سال بھی اموات میڈیا پر رپورٹ ہونے کے بعد ایک تھرتھلی مچی تھی لیکن تمام اقدامات محض کاغذی ثابت ہوئے۔
تھر کے سہولتوں سے محروم اور گاؤں دیہات کی زبوں حالی کا کیا رونا یہاں تو میٹروپولیٹن شہر کراچی میں گزشتہ سال ہیٹ اسٹروک اور وبائی امراض سے ہونے والی سیکڑوں ہلاکتیں شعبہ طب کو فعال نہ کرسکیں۔ صوبہ پنجاب میں ڈینگی اور سوائن فلو سے ہونے والی اموات پر طبی سہولتوں کی فراہمی کے دعوے تو کیے جارہے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ اسپتالوں میں مطلوبہ دوائیں تک میسر نہیں۔ بلوچستان و خیبرپختونخوا میں بھی طبی سہولیات عنقا ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب کے بعد صوبہ سندھ میں بھی ڈینگی اور سوائن فلو کے شدید خطرات ہیں، لیکن انتظامی طور پر کسی قسم کے پیشگی حفاظتی اقدامات نظر نہیں آرہے۔
کیا مسئلے میں شدت آنے کا انتظار کیا جارہا ہے؟ پانی سر سے گزر جانے کے بعد جاگنے سے کیا حاصل؟ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث موسموں کی شدت بھی عوام کو متاثر کررہی ہے، سال گزشتہ شدید گرمی سے ہونے والی اموات کے تناظر میں پیشگی اقدامات کیے جانے چاہیے تھے، درختوں اور گرین بیلٹ کا قائم کیا جانا ضروری تھا لیکن پورے ملک میں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ طب کا شعبہ مکمل طور پر غیر فعال نظر آتا ہے۔
انسانی جانوں کے ضیاع کے معاملے پر آخر کب تک غفلت برتی جائے گی؟ حکومتوں کی چشم پوشی عوام میں یہ خیال اجاگر کررہی ہے کہ یہاں جینے کا حق صرف امرا کو حاصل ہے، غربا اپنی بے بسی و بے کسی کا رونا کہاں روئیں؟ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمایندوں کو عوام کے درد کا احساس کرنا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمے داری کا ادراک کریں۔