بلوچستان سیاسی حل کا منتظر

نئی حکومت اپنی ترجیحات کی روشنی میں بولڈ اقدامات اٹھائے تاکہ دہشتگردی کا سباب ممکن ہو

سیاسی فیصلے جرات مندانہ انداز میں اور قومی اتفاق رائے سے جلد ہونے چاہئیں، وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ فوٹو؛فائل

پیر کی صبح کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم سے حملہ کیا گیا جس میں 6 ایف سی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثنااللہ زہری نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف سی کے جوان جس طرح وطن عزیز کی حفاظت اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں وہ ہم سب کے لیے قابل فخر ہے، ان کی جانب سے پیش کی جانے والی بیش بہا جانی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے ۔

ادھر بلوچستان کے سیاسی حلقوں نے اگرچہ اسے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں عدالتی فیصلہ کا جزوی رد عمل قراردیا ہے جس میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف، آفتاب شیرپاؤ اور شعیب نوشیروانی کو عدم ثبوت پر پر بری کردیا تاہم پشاور میں منگل کی صبح دہشتگردی کے واقعے کے تناظر میں یہ لہر ہمہ گیر دہشتگردی کا سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دہشتگرد پھر سے متحرک ہوگئے۔ بلوچستان واقعہ کی ذمے داری بی ایل اے نے جب کہ جمرود کے خاصہ دارن سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دھماکے کی ذمے داری تحریک طالبان پاکستان کے (فضل اللہ گروپ) نے قبول کی ہے۔

بلوچستان میں دیگر مقامات پر بھی ناخوشگوار واقعات کی اطلاعات ملی ہیں، کوئٹہ باچا خان چوک پر ایک دکان کے قریب نصب بم کو ناکارہ بنا کرایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا، پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے علاقے سیاہان کے پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے ایک شر پسند کو ہلاک اور اسلحہ و بارود برآمد کر لیا جب کہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، ترجمان ایف سی کے مطابق شرپسند فورسز اور تعمیراتی کمپنی پر حملوں میں ملوث تھے لہٰذا فورسز کی گاڑی پر بم دھماکے میں ملوث ملزمان کی تلاش میں سرعت سے کیے جانے والے سرچ آپریشن کا دائرہ ان تمام علاقوں تک وسیع ہونا چاہیے۔


جہاں شورش اور بدامنی کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں، دہشتگرد نئی صوبائی حکومت کے اعصاب کا امتحان لینا چاہتے ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے مین اسٹریم سیاست دانوں کو ایف سی فورسز کے ساتھ مکمل یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف مربوط حکمت عملی کو نتیجہ خیز بنانا چاہیے چونکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بیک وقت دہشتگردی کی الم ناک وارداتوں کے تانے بانے انتہا پسندی کی ایک ہی ڈوری سے جڑے ہوئے ہیں ۔

جس کا قلع قمع کرنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت جارحانہ پیش قدمی کرتے ہوئے دہشتگردی کے محفوظ ٹھکانوں تک رسائی ممکن بنائی جائے اور کسی کو نہ بخشا جائے۔ارباب اختیار مسئلہ کے سیاسی حل کی بات تو کرتے ہیں لیکن بلوچستان کی پیچیدہ صورتحال کا کثیر جہتی حل تلاش کرنا اب ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرکے لاء اینڈ آرڈر کی داخلی صورتحال اور بیرون ملک مقیم بلوچ قوم پرست رہنماؤں کی واپسی اور ان سے ملک اور صوبہ کے مفاد میں ڈائیلاگ کو یقینی بنائیں ، سیاسی فیصلے جرات مندانہ انداز میں اور قومی اتفاق رائے سے جلد ہونے چاہئیں، وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

اس لیے بلوچستان کے عوام کو دہشتگردی کے عذاب سے مکمل نجات ملنی چاہیے، نئی حکومت اپنی ترجیحات کی روشنی میں بولڈ اقدامات اٹھائے تاکہ دہشتگردی کا سباب ممکن ہو اور جو عناصر صوبہ کی ترقی ،اور عوام کی خوشحالی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں انکو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے اور اسٹبلشمنٹ بلوچستان کے سیاسی حل کی طرف ٹھوس قدم بڑھانے میں صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے۔
Load Next Story